گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور عوامی ریلیف کی جدوجہد”

*تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور(ضلعی صدر و معروف کالم نگار، ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ)*

*عوامی مسائل کا حل کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر صوبے بھر کی انتظامیہ اس وقت گرانفروشوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے متوسط طبقے کے شہر میں جہاں عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، وہاں یہ کریک ڈاؤن کسی حد تک ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔گزشتہ روز ایک منفرد اور دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سب ڈویژنل انفور سمنٹ آفیسر پیرا فورس صدف ارشاد نے اچانک مرکزی مارکیٹ کا خفیہ دورہ کیا۔ وہ ایک عام شہری کا روپ دھار کر رکشے پر مارکیٹ پہنچیں اور دکانداروں سے روزمرہ اشیاء خریدیں۔ ان کا یہ خفیہ وزٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر افسران دیانت داری اور عزم کے ساتھ نکلیں تو عوامی مسائل کے حل میں بڑی پیش رفت ممکن ہے۔بعد ازاں جب صدف ارشاد اپنی ٹیم کے ہمراہ دوبارہ مارکیٹ میں آئیں تو ناجائز منافع خوری، ریٹ لسٹ نہ لگانے اور اوورچارجنگ پر مختلف دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔ یہ رقم شاید اتنی بڑی نہ ہو لیکن اس کے پیچھے جو پیغام چھپا ہے، وہ یقیناً بڑا اہم ہےکہ عوامی استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ بات بھی قابلِ تعریف ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گڈ گورننس کے وژن کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کریک ڈاؤن وقتی مہم ہے یا اس کا تسلسل برقرار رہے گا؟ کیونکہ ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے آپریشن چند دن کی خبروں کی زینت بنتے ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔گرانفروشی صرف چند دکانداروں کی انفرادی کوشش نہیں، بلکہ یہ ایک منظم سوچ اور عادت بن چکی ہے۔ جب تک عوام خود آواز بلند نہیں کریں گے اور شکایات کے لیے رجوع نہیں کریں گے، اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ صدف ارشاد نے واضح کیا کہ عوام کی شکایات پر فوری ایکشن ہوگا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ یہ یقین دہانی عوامی اعتماد کو بڑھا سکتی ہے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ریلیف دینا صرف حکومتی افسران کی ذمہ داری نہیں بلکہ دکانداروں اور تاجروں کو بھی احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ خود کو قانون کے تابع رکھیں اور ناجائز منافع خوری سے گریز کریں تو نہ صرف عوام مطمئن ہوں گے بلکہ حکومت کو بھی سخت اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صدف ارشاد جیسے ایماندار افسران کے اقدامات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یہ سلسلہ محض چند دن کی کارروائیوں تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل بنیادوں پر عوامی ریلیف کو یقینی بنایا جائے۔*