سموگ کے خلاف عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت
تحریر: محمد زاہد مجید انور(ضلعی صدر و معروف کالم نگار، ڈسٹرکٹ انجمنِ صحافیاں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ)
*موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی پنجاب کے مختلف اضلاع میں سموگ کے بادل منڈلانے لگتے ہیں۔ فضا میں بڑھتی آلودگی، فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے اخراج اور خاص طور پر کھیتوں میں باقیاتِ فصل جلانے کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، حدِ نگاہ میں کمی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں ضلعی انتظامیہ کی بروقت حکمتِ عملی نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ وقت کی اشد ضرورت بھی۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو نے حال ہی میں سموگ کنٹرول کے لیے ایک جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ان کے مطابق، محکمہ زراعت اور محکمہ ماحولیات کے اشتراک سے ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے تاکہ سموگ کے خلاف کی جانے والی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن مؤثر طریقے سے ممکن ہو سکے۔ دونوں محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باہمی روابط کو مزید مستحکم کریں اور سموگ کے خاتمے کی مہم میں تیزی لائیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت عوامی آگاہی مہم کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ کسانوں کو یہ شعور دیا جا سکے کہ وہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ دھان کے کھیتوں میں آگ لگانا نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ یہ سموگ میں خطرناک حد تک اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
مزید یہ کہ انتظامیہ کی جانب سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ان تمام علاقوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جہاں فصلوں کے بعد آگ لگانے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے کسانوں کی نشاندہی کی جائے گی جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تاکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔درحقیقت، سموگ کا مسئلہ صرف انتظامیہ یا کسی ایک محکمے کا نہیں بلکہ ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے۔شہریوں، کسانوں، صنعتی مالکان اور ٹرانسپورٹ کے ذمہ داران سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم اجتماعی طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو سموگ کے اس عذاب سے نجات ممکن ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ضلعی حکومت عوام کی صحت اور ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام بھی ان کوششوں کا ساتھ دیں، کیونکہ صاف فضا اور صحت مند زندگی ہم سب کا بنیادی حق اور مشترکہ مقصد ہے۔*








