عوامی ریلیف کے لیے شفاف سروے حکومت پنجاب کا عملی اقدام
تحریر: محمد زاہد مجید انور، ضلعی صدر و معروف کالم نگار ڈسٹرکٹ انجمنِ صحافیاں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ*
*وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ قدرتی آفات ہمیشہ انسانی جان و مال کے لیے امتحان ثابت ہوتی ہیں، لیکن اصل امتحان ریاستی اداروں کے لیے اس وقت شروع ہوتا ہے جب انہیں متاثرہ عوام تک ریلیف پہنچانے کے لیے فوری اور منظم اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ نے ایک فعال، منظم اور ہم آہنگ سروے مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس عمل میں محکمہ ریونیو، زراعت، لائیو اسٹاک، اربن یونٹ اور پاک فوج کے افسران و اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں دن رات سرگرم ہیں۔ یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر متاثرہ خاندانوں سے معلومات اکٹھی کر رہی ہیں تاکہ نقصانات کا درست اور شفاف تخمینہ لگایا جا سکے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ ضلعی سطح پر شفافیت اور دیانت داری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پیر محل ذوالفقار صابر نے حال ہی میں متاثرہ دیہات کا دورہ کیا اور سروے ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ “ہر متاثرہ گھرانے کا مکمل ڈیٹا ریکارڈ کیا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔”یہ طرزِ حکمرانی دراصل اُس وژن کی عکاسی کرتا ہے جو وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنی حکومت کے آغاز سے ہی اپنایا یعنی “عوامی خدمت اور شفافیت پر مبنی گڈ گورننس”۔ اگر یہی جذبہ تسلسل سے برقرار رہا تو نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو بروقت ریلیف ملے گا بلکہ عوام کے دلوں میں حکومت پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔سیلاب کے بعد کے حالات ہمیشہ کسی بھی ضلع کے انتظامی ڈھانچے کا امتحان ہوتے ہیں۔ سروے کا عمل صرف اعداد و شمار جمع کرنے کا نہیں بلکہ ایک انسانی فریضہ بھی ہے — کیونکہ ہر متاثرہ گھر ایک کہانی سناتا ہے، ہر کھیت کے اجڑنے کے پیچھے ایک کسان کا خواب دفن ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ضلعی ٹیمیں پوری ایمانداری سے اپنا کردار ادا کرتی ہیں تو یہی عمل متاثرین کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شفاف سروے کی بنیاد پر جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ریلیف پیکجز منصفانہ طور پر تقسیم ہوں گے تو عوام کو یہ احساس ہوگا کہ حکومت اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ صرف امداد نہیں، بلکہ ایک ریاستی وعدے کی تکمیل ہے کہ “کسی بھی آفت میں عوام اکیلے نہیں چھوڑے جائیں گے۔”*











