ماضی و حال نے کردیا بے حال

تحریر متین قیصر ندیم احمد پور سیال

تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچہ
ایسا ہی کوئی خواب ہمارابھی کبھی تھا
لاہور کے سفر کے دوران سکیم موڑ ,جوہرٹاؤن ،بابو صابو ،گلبرگ،شاہدرہ ،ماڈل ٹاؤن کی سڑکوں پر گھومتے ہوۓ دماغ کا پہیہ گھومنے لگا ۔میرے چہرے پر شکنیں اور پیشانی پر لکیریں ابھر آئیں سوچ سوچ کر الفاظ کم پڑنے لگے گلا خشک ہونے لگا حبس زدہ ماحول ۔ناراض ہوائیں ،پھیکے پڑتے سبزہ زار اور مرجھاۓ پھول ، میری خامشی ،اندر کی بے چینی کو ہوا دینے لگے ۔میرا دماغ اپنی بیٹی کو کنیرڈ کالج میں داخل کرانے کے مرحلے پر ہی اٹکا ہوا تھا ۔کسی بھی باپ کیلے بیٹی کو کسی نئی جگہ پر چھوڑنا مشکل کام ہوتا ہے زمانے کو سامنے رکھ کر أنے والے تابناک مستقبل کا سوچ کر ہی دل باغ باغ ہو جاتا ہے مگر ۔۔۔۔زمانے کے تیور ،ماحول کی خوفناکی اور ان میچور ذہن اور بڑے شہر کے مسائل طرح طرح کےوسوسے ،خدشے ،شائبے اور ان جانا خوف ۔۔۔۔۔۔۔باپ کا فکر مند ہونا فطری عمل ہے ۔وسائل کی کمی اور اخراجات کی بیشی ۔۔۔۔۔ گہری سوچ اور ٹپکتے آنسو اور پریشان آنکھوں کے درمیان میرا خیال مجھے ماضی میں دھکیلنے لگا الجھانے لگا میرے باپ نے بھی یہ مرحلہ گزارا ہوگا وو بھی پریشان ہوا ہوگا وہ بھی ڈرا ہو گا سہما ہوگا میرے بچپنے پر ،نادانیوں پر میری سادگی پر ۔۔ُ۔۔۔کیساہو کا وہ پل جب ہم نو بہن بھائ پڑھائ کیلے ،تعلیم کیلے ۔مستقبل کی کامیابی اور والدین کا سہارا بننے کے خواب کی تعبیر اور وقت کی بھل بھلیوں اور سرابوں سے ٹکرانے کیلے شہروں کو گئے ۔کم وسائل کے باوجود ،کمپرسی اور مالی تنگی کے باوجود کیسے ہم کو تعلیم دلواتے ہونگے وو بھی ڈرتے ہونگے ۔کیسے وہ اتنے بچوں کو پڑھانے کا میکنزم بناتے ہونگے ۔بچت کرتے ہونگے پیٹ کاٹتے ہونگے پھر ہمارے نخروں اور لاپرواہیوں کے بوجھ اٹھاتے ہونگے ۔میں اپنا موازنہ انکے قد و منصب سے نہی کر سکتا ۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا بوجھ ۔۔۔رشتے داروں کے طعنوں کا بار مگر پھر بھی مسکراہٹ ۔۔۔۔ُمیں اپنے زمانہ طالب علمی میں کبھی بنا ناشتہ نہی گیا۔بنا خرچے نہی گیا ۔۔۔عید تہوار کے خرچ ،شادی بیاہ کے حرچ ۔۔ُ۔۔۔۔ہمارے فضول خرچ جن کا کبھی حساب نہی ہوا ۔۔۔۔گھر میں سکون ،رشتوں میں توازن ۔بچوں میں مساوات ۔۔۔کیسے کرتے ہونگے وو پلاننگ سوچ و بچار ۔۔۔۔۔ان کٹھن نامناسب حالات میں وو نہ لڑ کھرائے نہ کبھی پچھتاۓ یہ جان کر بھی بیٹی کا بخت ۔نصیب اور تقڈیر انکے اختیار میں نہی ۔پھر بھی اپنا فرض ادا کر گئے نبھا گئے۔۔ایک گھر میں نو گڑیجویٹ بچے ۔۔۔کیا یہ انکی کامیابی نہی پلا ننگ کا رزلٹ نہی ۔۔۔۔بس میں یہی جان پایا کہ وہ تھے اور ہم ہیں ۔۔یہ انکے توکل اور اعتماد کی کامیابی ہے

اُترو ہماری آنکھ میں، ڈھونڈو جگہ جگہ ،
خوابوں میں ایک خواب ہے تعبیر کے بغیر_!!
دَمِ رُخصت کا مَنظر نہ پُوچھ اُس کا
لَال پَڑ گیا تھا گاؤں میں آسمان سارا

کوئی ملاہی نہیں جس سے حال دل کہتے
ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا،
پیالے شہد کے پیتے تلخ ایام سے پہلے ،

یہ جو ہم لکھتے رہتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے،
کہ دکھ تحریر کب ہوتے کسی الہام سے پہلے

چراغ جلیں نہ جلیں ہوا کا مسئلہ ہے
ہم حریف شب رہیں گے انا کا مسئلہ ہے
خود پر بنی تو یہ فلسفہ سمجھ آیا کہ والدین کی پریشانی بے وجہ نہی ہوتی ۔۔وہ ہر بچے بچی کی نفسیات ،حیثیت اور ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جو ہماری سمجھ میں نہی أتے ہم منہ بناکر منہ بسور کر ۔۔۔۔۔احتجاج کرتے ہیں لیکن اس منطق کی سمجھ ۔۔۔۔۔والدین کے مرتبے پر فائض ہونے کے بعد أتی ہے ۔۔میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں ہمارے والدین اپنی اوقات ،حیثیت سے بڑھ کر ہماری تربیت پر خرچ کرتے تھے. مسکراہٹ بھرے چہرے پر ہماری نظر جاتی ہے مگر اس ہنسی کے تلاطم میں چھپے درد کرب کسک حسرت کو نہ جاننے کی کوشش کی نہ سمجھنے کی ۔۔ہاۓ زندگی تو کیسے امتحان لیتی ہے گردش دوراں کو میرے سامنے لاکر مجھے آئینہ کے سامنے میرے عکس سے ہی آزمایا ۔۔۔کچھ ایسے سوالات جو میں سمجھ نہ پایا زنڈگی نے اک ہی پل میں انکے جوابات دے دیے ۔ُ والدین کبھی نہی مرتے وہ صرف روپاشی اختیار کرکے اپنی تربیت اپنے نسل کا ٹیلنٹ کا نظارو کرتے ہیں لوگ یونہی نہی کہتے اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا جب مشکل پڑے انکو یاد کیا کرو ان سے مدد لیا کرو فیض لیا کرو ۔۔۔۔میں تو جب بھی پریشان ہوتا ہوں ان کی قبر پر جاکر ان سے باتیں کرتا ہوں دل کو سکون بھی ملتا ہے فاتحہ خوانی بھی ہو جاتی ہے ان سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے مشکل میں مدد بھی مل جاتی ہے راۓ بھی مل جاتی ہے مشورہ بھی مل جاتا ہے
ہاں مگر تعلق رکھنے سے قربت رکھنے سے اور خلوص دل سے رابطہ کرنے سے
واہ میرے مالک تو نے اپنے بعد سب سے خالص اور منفرد رشتہ والدین کا بنایا مگر ہم بد قسمتی سے تیرے اس انعام (God Gift) کی قدر نہ کر سکے ۔۔۔جب اہمیت کا پتہ چلا بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔قدرت سوچ رہی تھی یہ نادان سمجھیں گے جب خود اس منصب پر ہونگے ۔۔تعلیم و تربیت سے نہی کچھ علم تجربے سے حاصل ہوتا ہے جو دلیل منطق اور ہر کسوٹی پر پورا ہوتا ہے ۔اے کاش زندگی صرف ایک موقع دیتی میں پھر سے واپس اسی جگہ پر پہنچ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوبارہ سے اپنے سوالات کے جوابات پوچھ سکتا ۔۔۔مگر حیف ایسا ممکن نہی ۔۔۔۔قدر کرو وقت کی اپنے ماں باپ کی ۔۔۔۔انکی خاموشی کو ناراضگی نہ جانو ۔وہ اپنی اولاد بارے بہتر جانتے ہیں ہاں ہاہ سے بچو جو عرش کے پاؤں کو ہلادیتی ہے فرش والے لرزتےہیں زلزلے کے جھٹکوں سے۔۔۔۔۔کاش ہم ان کے اندر جھانک کر انکی بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت دیکھ سکتے ،جان سکتے پھر روز روز نہ مرتے ۔۔

*‏میں نے بھیجے تھے اسے لکھ کے مسائل اپنے
اس نے بدلے میں مجھے صبر کی آیت بھیجی
*عمر بھر غالب یہی بھول کرتا رہا

دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

*غرور نہیں کرتا مگر اتنا یقین تو ضرور ہے
اگر یاد نہیں کرو گے تو بھلا بھی نہیں پاؤ گے
*گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
‏غم چھپا کر میرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے !!!
*میرے قہقہے دیکھ کے ایک فقیر بولا۔۔۔
صدقہ دیا کر اپنی اداسی کا!!

*‏روبرو بیٹھ کر وہ شخص نہ جانے مجھ سے
اپنی آنکھیں جو جھکاتا ھے..! کیا چھپاتا ہے

*کبھی پاس بیٹھو تـــو بتائیں کہ درد کیا ہے”
” یوں دور سے پوچھو گے تو خیریت ہی بتائیں گے

محمد متین قیصر ندیم
احمد پور سیال
0300 6821668