خودداری عزتِ نفس کا اصل نام

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*خود داری ایک ایسی خوبی ہے جو انسان کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہ ضد یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اپنے آپ کی پہچان اور اپنی قدر و قیمت کا احساس ہے۔ خود دار شخص جانتا ہے کہ وہ کس چیز کے قابل ہے، کس حد تک جھکنا ہے اور کہاں اپنی عزتِ نفس کو قائم رکھنا ہے۔ یہی شعور اسے دنیا میں عزت دلاتا ہے۔آج کے اس دورِ مفاد پرستی میں خود داری ایک نایاب صفت بنتی جا رہی ہے۔ لوگ وقتی فائدے کے لیے اپنی خودی کا سودا کر لیتے ہیں۔ کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی رائے بدل لیتے ہیں، اپنے اصول قربان کر دیتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے، جس نے اپنی خود داری کھو دی، اس نے اپنے وجود کی بنیاد کمزور کر دی۔ دنیا ہمیشہ اسی کا احترام کرتی ہے جو خود اپنی عزت کرتا ہے خود داری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مغرور ہو جائے یا دوسروں کی بات نہ سنے۔ بلکہ یہ تو وقار، شرافت اور برداشت کا دوسرا نام ہے۔ خود دار انسان ہمیشہ نرم گفتار ہوتا ہے لیکن اپنی حدود سے بخوبی واقف رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عزت مانگی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔خود داری دراصل انسان کے اندر کا وہ چراغ ہے جو اسے ظلم، جھوٹ اور منافقت کے اندھیروں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے، وہ کبھی کسی کے آگے جھکتا نہیں۔ ایسے لوگ دنیا کے لیے مثال بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے کردار میں سچائی اور ان کی نگاہوں میں خود اعتمادی ہوتی ہے۔یاد رکھیے! دنیا ہمیشہ انہیں جھک کر سلام کرتی ہے جو خود اپنی عزت کرنا جانتے ہیں۔ خود داری انسان کا زیور ہے، اور جو اس زیور کو سنبھال لے، وہی حقیقی کامیاب ہوتا ہے۔*