قرآن سے محبت کی روشن مثال،”سعید انور کے صاحبزادے خزیمہ انور 23 سال کی عمر میں حافظِ قرآن بن گئے، عالمِ دین اور پائلٹ بننے کا عزم””مولانا طارق جمیل کے مدرسے میں تعلیم مکمل، ختمِ قرآن کی تقریب میں سعید انور اور محمد یوسف کی شرکت، نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید مثال”
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اپنی شاندار بیٹنگ، اعلیٰ کردار اور دینی رجحان کے باعث منفرد مقام رکھنے والے سابق کپتان سعید انور کے گھرانے میں ایک ایسی خوشی نے جنم لیا ہے جس نے کھیل اور دین دونوں حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ سعید انور کے صاحبزادے خزیمہ انور نے 23 سال کی عمر میں قرآنِ مجید حفظ کرنے کی عظیم سعادت حاصل کر لی ہے۔خزیمہ انور معروف عالمِ دین مولانا طارق جمیل کے مدرسے میں زیرِ تعلیم رہے جہاں انہوں نے محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ حفظِ قرآن مکمل کیا۔ ختمِ قرآن کی پروقار تقریب میں سابق قومی کرکٹ کپتان سعید انور خود موجود تھے جبکہ پاکستان کرکٹ کے ایک اور عظیم ستارے محمد یوسف نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر محمد یوسف نے خزیمہ انور کو ہار پہنا کر ان کی اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔تقریب کے دوران سعید انور نے جذباتی انداز میں اپنے بیٹے کی دینی لگن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے بیٹے پر حافظِ قرآن بننے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ ان کے مطابق یہ خزیمہ کی اپنی خواہش اور دل کی آواز تھی۔ سعید انور نے کہا کہ ایک دن ان کے بیٹے نے ان سے کہا کہ اس کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ وہ حافظِ قرآن بنے اور رمضان المبارک میں تراویح کے دوران قرآنِ کریم سنانے کی سعادت حاصل کرے۔سعید انور نے مزید بتایا کہ خزیمہ اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ جب وہ کسی حافظِ قرآن کو تراویح میں قرآن سناتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب تڑپ اور خواہش جنم لیتی ہے کہ کاش وہ بھی اس عظیم مقام تک پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آج اس کی یہ تمنا پوری فرما دی اور وہ حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہو گیا۔خزیمہ انور کی شخصیت کا ایک قابلِ ستائش پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی عصری تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ وہ اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن کی منزل تک پہنچے، جو نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین مثال ہے کہ اگر عزم، محنت اور اخلاص موجود ہو تو دینی اور دنیاوی تعلیم کو ایک ساتھ جاری رکھا جا سکتا ہے۔حافظِ قرآن بننے کے بعد بھی خزیمہ انور کے خواب اور عزائم بلند ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں ایک مستند عالمِ دین بنیں تاکہ دینِ اسلام کی خدمت کر سکیں، جبکہ ساتھ ہی وہ پائلٹ بننے کا خواب بھی رکھتے ہیں۔ ان کے یہ عزائم اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج کا مسلمان نوجوان دین اور دنیا دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سعید انور کے صاحبزادے کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنِ مجید سے محبت اور تعلق انسان کی زندگی کو نئی سمت عطا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جب نوجوان نسل مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، خزیمہ انور کی یہ داستان دیگر نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ والدین کی اچھی تربیت، دینی ماحول اور اپنی ذاتی لگن انسان کو عظیم مقاصد تک پہنچا سکتی ہے۔بلاشبہ حفظِ قرآن کی یہ سعادت صرف خزیمہ انور اور ان کے خاندان ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ خزیمہ انور کو قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے، دینِ اسلام کی خدمت کرنے اور اپنے تمام نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے۔آمین۔*










