افواہیں دم توڑ گئیں
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*افواہیں وہ زہر ہیں جو سچائی کے جسم میں خاموشی سے پھیلتا ہے، مگر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ہر جھوٹا پروپیگنڈہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔ یہی کچھ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دیکھنے کو ملا، جہاں کچھ عناصر نے سوشل میڈیا پر جھوٹی باتوں کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ مگر سچ ہمیشہ دیر سے ہی سہی، اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ آفس کے ایماندار اور فرض شناس اہلکار ایچ وی سی ثناءاللہ کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ کسی نے کہا وہ بیرونِ ملک جا کر واپس نہیں آئیں گے، تو کسی نے ان کی غیر موجودگی کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ جھوٹ خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، سچ کی چمک کے سامنے ٹک نہیں سکتا۔ثناءاللہ دبئی سے واپسی پر اپنی دفتری ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ان تمام جھوٹے پروپیگنڈوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ مارا۔ ان کی دفتر آمد نے نہ صرف افواہیں ختم کر دیں بلکہ ان کے مخالفین کو بھی لاجواب کر دیا۔ثناءاللہ کا شمار ان اہلکاروں میں ہوتا ہے جو اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ نظم و ضبط، ایمانداری اور محنت کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غیر حاضری میں بھی عوام اور دفتر کے لوگ ان کی کمی شدت سے محسوس کر رہے تھے۔سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانے والوں کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ کسی کی ساکھ اور کردار کے ساتھ کھیلنا آسان تو ہے، مگر سچ کے سامنے جھوٹ زیادہ دیر ٹک نہیں سکتا۔آج ثناءاللہ کی واپسی نہ صرف ان کے دوستوں اور ساتھیوں کے لیے خوشی کی خبر ہے بلکہ ان کے مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام بھی کہ سچ کو وقتی طور پر چھپایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا*










