بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی نچلی سطح تک رسائی

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*پنجاب میں جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرنے کا ایک اور مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب بلدیاتی انتخابات 2022 ایکٹ کے تحت دسمبر کے آخری ہفتے میں صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، جس کے نتیجے میں عوام کو اپنے مقامی نمائندوں کے انتخاب کا موقع میسر آئے گا۔بلدیاتی ادارے کسی بھی جمہوری نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے عوام کو اپنی گلی، محلے اور علاقے کے مسائل کے حل میں براہِ راست حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو عوام کو اختیارات کی اصل منتقلی فراہم کرتا ہے۔پنجاب بلدیاتی انتخابات ایکٹ 2022 کے مطابق ہر یونین کونسل میں درج ذیل نشستیں ہوں گی:1 چیئرمین،1 وائس چیئرمین،6 جنرل کونسلر،1 یوتھ نشست،1 کسان نشست،1 مزدور نشست،2 خواتین نشستیں،1 اقلیتی نشست یہ ڈھانچہ مقامی نمائندگی کا ایک متوازن نظام پیش کرتا ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقے کی شمولیت یقینی بنائی گئی ہے۔ خاص طور پر خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں اور اقلیتی برادری کے لیے مخصوص نشستیں اس بات کا مظہر ہیں کہ پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن ایک جامع اور نمائندہ بلدیاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کے خواہاں ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ آیا سیاسی جماعتیں ان انتخابات کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟
بلدیاتی ادارے محض ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کی عملی تربیت گاہ ہیں۔ یہی وہ فورم ہیں جہاں سے کل کے قومی رہنما جنم لیتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے اپنے مقامی امیدواروں کو منتخب کرتی ہیں تو یہ انتخابات صوبے میں سیاسی استحکام اور عوامی فلاح کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔پنجاب کے عوام میں بھی ایک نیا جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے۔ لوگوں کو احساس ہے کہ سڑکوں، گلیوں، سیوریج اور صفائی جیسے روزمرہ مسائل کا حل صرف مقامی نمائندوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دسمبر کے اختتام پر ہونے والے یہ انتخابات کس حد تک شفاف اور غیرجانبدارانہ ہوتے ہیں، اور عوام کس حد تک جمہوریت کے اس عمل میں حصہ لیتے ہیں۔اگر یہ انتخابات منصفانہ ماحول میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ بات طے ہے کہ پنجاب میں جمہوریت کی جڑیں مزید مضبوط ہوں گی، اور عوامی مسائل کا حل عوام کے اپنے ہاتھوں میں آ جائے گا۔یہ وقت ہے کہ عوام ووٹ کی طاقت سے اپنے علاقے کے لیے بہترین قیادت کا انتخاب کریں کیونکہ حقیقی تبدیلی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں عوام خود فیصلہ کرتے ہیں۔*