ہم خود گلاب ہیں کسی خوشبو کی تمنا نہیں رکھتے
تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور
*زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی ہی مہک بن جاتی ہے۔ وہ کسی تعریف، کسی تمنا، یا کسی واہ واہ کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی خوشبو ان کے کردار، ان کے عمل، اور ان کی نیت سے پھوٹتی ہے۔ وہ گلاب کی طرح ہوتے ہیں،جو اپنی خوشبو کے لیے کسی اور کی اجازت نہیں مانگتا، جو خود مہکتا ہے اور دوسروں کو مہکاتا ہے۔“ہم خود گلاب ہیں کسی خوشبو کی تمنا نہیں رکھتے”یہ جملہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہےایک طرزِ زندگی، ایک فلسفۂ خودداری۔یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو اپنے خلوص سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ کسی کی واہ واہ سے۔ جو تعریف کے منتظر نہیں بلکہ عمل سے اپنی پہچان بناتے ہیں۔آج کے دور میں، جہاں اکثر لوگ شہرت اور تعریف کے بھوکے دکھائی دیتے ہیں، وہاں جو انسان خاموشی سے، دیانت داری سے، محبت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے — وہی دراصل گلاب ہے۔اسے کسی مصنوعی خوشبو کی ضرورت نہیں۔ اس کا کردار، اس کی بات، اس کی نیت ہی اس کی خوشبو ہے۔ہماری زندگی میں اصل کامیابی تب آتی ہے جب ہم لوگوں کے رویوں، ان کی رائے، اور ان کے تاثر سے آزاد ہو کر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، وہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔خوشبو کو یہ پروا نہیں ہوتی کہ اسے کون محسوس کر رہا ہے وہ بس پھیلتی ہے۔اسی طرح خلوصِ نیت سے کی گئی خدمت، محبت اور نیکی خود اپنا راستہ بناتی ہے۔گلاب کی طرح بننے کے لیے کانٹوں سے گزرنا بھی ضروری ہے۔ جو لوگ کردار، اخلاق، اور خودداری کی راہ اپناتے ہیں، اُنہیں آزمائشوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے مگر آخرکار وہی لوگ اپنی خوشبو سے ماحول کو معطر کرتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذات میں خوشبو تلاش کریں، دوسروں سے توقع نہیں۔ ہم خود اچھے بن جائیں تو دنیا خود بہتر لگنے لگے گی۔آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گاجو دل سے سچا ہو، نیت سے صاف ہو، کردار سے مضبوط ہو اسے کسی خوشبو کی تمنا نہیں ہوتی، کیونکہ وہ خود گلاب ہوتا ہے۔ 🌹*












