علاقائی صحافت کی آواز

تحریر: سلمان احمد قریشی

پاکستان کی صحافت کو وجود میں آئے چھہتر برس بیت چکے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو قربانیوں، جدوجہد اور سچ کی قیمت ادا کرنے کی لازوال داستانوں سے عبارت ہے۔ تحریکِ پاکستان کے زمانے میں ”زمیندار” اور ”امن” جیسے اخبارات نے آزادی کی جدوجہد میں جو کردار ادا کیا وہ آج بھی تاریخ کے اوراق پر روشن ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگرچہ میڈیا کو ”آزاد” کہا گیا مگر ہر دور میں پابندیاں، سنسرشپ اور دباؤ نے اس آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کی۔
ایوب خان کا مارشل لا ہو یا ضیاء الحق کی کوڑوں بھری سنسر شپ، پرویز مشرف کا میڈیا ریگولیشن آرڈیننس ہو یا موجودہ دور کی ڈیجیٹل پابندیاں، صحافی نے ہر محاذ پر اپنے قلم اور ضمیر کے ساتھ وفاداری نبھائی۔تاہم اس پورے عرصے میں ایک طبقہ مسلسل نظرانداز ہوتا رہا وہ ہیں علاقائی صحافی جو صحافت کی بنیاد ہیں۔مقامی رپورٹر جو تھانے کی سطح سے لے کر ضلع کی حد تک اپنی خدمات بلا معاوضہ انجام دیتا ہے۔ وہ جن کے پاس بڑی تنخواہیں نہیں، مگر ایک ”خبر” کی حرارت ہے جو کسی بھی بڑے چینل کی بریکنگ سے کم نہیں۔ ان کے قلم نے چھوٹے شہروں کے مسائل کو روشنی دی مگر بدقسمتی سے قومی سطح کی صحافتی تنظیموں نے ان کی آواز کبھی ایوانوں تک نہیں پہنچائی۔
علاقائی صحافی اپنوں اور حکمرانوں کی عدم توجہ کی وجہ سے استحصال کا شکار طبقہ ہے۔لاہور، کراچی، اسلام آباد کے پریس کلبوں میں جلسے، احتجاج، اور مراعات کی بحثیں عام رہتی ہیں مگر جب معاملہ اوکاڑہ، خانیوال، ساہیوال، خوشاب یا چترال کے رپورٹر کا آتا ہے تو یہ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ بڑے شہروں کی ”قومی” تنظیمیں اپنے منشور میں کبھی علاقائی صحافیوں کے بنیادی مسائل کو شامل کرنے پر تیار نہیں ہوئیں۔
یہی وہ خلا ہے جس نے ریڈی میڈ صحافت کو جنم دیا۔ راقم الحروف نے اپنی کتاب ریڈی میڈ صحافی میں اس ”گھن چکر” کو کھولنے کی کوشش کی تھی جہاں نیم خواندہ افراد صرف ایک سیکیورٹی یا اعزازی کارڈ حاصل کرکے ”رپورٹر” کہلانے لگتے ہیں۔ ایسے عناصر مقامی پریس کلبوں میں اثر و رسوخ کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں اپنے ہم خیال ممبران بناتے ہیں اور یوں صحافت ایک مقدس پیشے کے بجائے ذاتی مفادات کی آماجگاہ بنتی جاتی ہے۔پھر بھی ان سب کمزوریوں کے باوجود وہ صحافی جو سچ لکھنا جانتا ہے جو اپنی شہرت کو خبر کی سچائی سے جوڑتا ہے وہی اس معاشرے کا اصل ترجمان ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ریڈی میڈ اور پروفیشنل صحافی میں فرق کو پہچانیں تاکہ صحافت اپنے اصل مقام پر فائز ہو سکے۔
ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان امید کی نئی کرن بن کر طلوع ہوئی۔اسی احساسِ محرومی اور جدوجہد کو سامنے رکھتے ہوئے سید شفقت حسین گیلانی نے ”ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان” (RUJ) کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم ان تمام علاقائی صحافیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے وجود میں آئی جو برسوں سے نظرانداز ہوتے آئے تھے۔آر یو جے نے نہ صرف تنظیمی سطح پر اضلاع میں نیٹ ورک قائم کیا بلکہ پشاور سے کراچی تک ”ٹرین مارچ” کا اعلان کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ مارچ 5 نومبر سے شروع ہو کر 13 نومبر کو کراچی میں اختتام پذیر ہوگا اور بلاشبہ یہ پہلا موقع ہے جب علاقائی صحافی ملک گیر سطح پر اپنی آواز کو منظم طور پر بلند کرنے جا رہے ہیں۔ٹرین مارچ سے پہلے چارٹر آف ڈیمانڈ ایک اجتماعی عزم سامنے آیا۔تحصیل اوکاڑہ کے چیرمین رانا محمد اشفاق اور شہزاد علی کی وساطت سے پرنٹ شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہم تک پہنچا۔
اس مارچ کا سب سے اہم پہلو وہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہیجو ملک کے ہر ضلعی صحافی کے دل کی ترجمانی کرتا ہے۔ان مطالبات میں شامل ہے کہ علاقائی صحافیوں کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے تک انشورنس،پیکا ایکٹ میں ترامیم تاکہ آزادی اظہار پر قدغن جاتمہ،اضلاع کی سطح پر صحافی کالونیوں کا قیام،پریس کلبوں کے لیے سرکاری فنڈز کا اجراء، صحافیوں کی سوشل سکیورٹی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی، علاقائی سطح پر ٹریننگ اکیڈمیز کا قیام تاکہ صحافت کا معیار بہتر ہوسکے۔یہ سب وہ نکات ہیں جو دہائیوں سے زیرِ بحث رہے مگر کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
قارئین! افراد سے زیادہ اہم مقصد ہوکرتے ہیں۔یہ تحریک کسی ایک فرد یا گروہ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک اجتماعی جدوجہد کی علامت ہے۔ آر یو جے کے روحِ رواں سید شفقت حسین گیلانی اور مرکزی رہنما عابد مغل نے یہ فیصلہ ذاتی شہرت یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اس طبقے کے وقار کے لیے کیا ہے جو برسوں سے خاموش مظلوم ہے۔راقم کا آر یو جے سے باضابطہ تعلق نہیں، نہ ہی اس مارچ میں شرکت کی خصوصی دعوت ملی ہے مگر جب بات صحافت کے اجتماعی مفاد کی ہو تو شمولیت کی شرط غیر اہم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ افراد وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر مقاصد ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر اس مارچ سے کسی کو میڈیا کوریج یا فوٹو سیشن کا موقع ملتا ہے تو اس پر طنز نہیں بلکہ خوشی ہونی چاہیے، کیونکہ یہ کوریج علاقائی صحافیوں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ مارچ صحافتی تاریخی تناظر میں ایک نیا باب کا اضافہ ثابت ہوگا۔پاکستان کی صحافتی تاریخ میں مختلف ادوار میں اتحاد اور تحریکیں اٹھتی رہیں۔
1953ء میں پریس ایکٹ کے خلاف احتجاج،1978ء میں ضیاء الحق دور کے سنسرشپ پر مزاحمت اور 2007ء میں پرویز مشرف کے ایمرجنسی آرڈیننس کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے صحافیوں کی تحریک یہ سب مثالیں یاد دلاتی ہیں کہ جب قلم کار متحد ہوتے ہیں تو ظلم کے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔
اب 2025ء میں علاقائی صحافیوں کا یہ ٹرین مارچ اسی تسلسل کی ایک تازہ کڑی ہے۔ اگر یہ تحریک کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف ایک تنظیم کی کامیابی نہیں بلکہ اس پورے طبقے کی بحالی کا اعلان ہوگی جو سچائی کے محاذ پر سب سے زیادہ قربانیاں دیتا ہے مگر سب سے کم مراعات پاتا ہے۔
ٹرین مارچ ایک عزم، ایک سفر ہے۔ریجنل یونین آف جرنلسٹس کا مارچ دراصل ایک تحریکِ خودشناسی ہے،ایک یاد دہانی کہ صحافت کے مرکز و محور میں نہ سرمایہ ہونا چاہیے نہ شہرت، بلکہ سچائی اور ذمہ داری ضروری ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ علاقائی صحافی اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اس جدوجہد میں شامل ہوں کیونکہ اگر ہم نے آج آواز نہ اٹھائی تو کل ہمارے قلم بھی بے وزن ہو جائیں گے۔یہ مارچ ایک امید ہے اور امید ہی وہ چنگاری ہے جس سے انقلاب جنم لیتے ہیں۔