عہدِ حاضر میں مارکسزم کی معنویت مطالعاتی نشست کی روداد

تحریر ۔۔ محمد زاہد مجید انور

*کراچی میں انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے زیرِ اہتمام ممتاز ترقی پسند و مارکسی دانشور رانا اعظم کی نئی کتاب “عہدِ حاضر میں مارکسزم کی معنویت: پاکستان اور تیسری دنیا کے نظریاتی مباحث” کے حوالے سے ایک اہم مطالعاتی نشست مورخہ 22 اکتوبر بروز بدھ ایان جوش کراچی میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب نہ صرف فکری سطح پر انتہائی معنی خیز رہی بلکہ اہلِ قلم، ادب و فکر سے وابستہ حلقوں کے لیے ایک تازہ فکری ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔تقریب کی صدارت ممتاز محقق اور دانشور ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں مارکسزم کے عالمی تناظر اور حالیہ حالات میں اس کی افادیت پر مدلل گفتگو کی۔ اُنہوں نے کہا کہ مارکسزم محض ایک نظریہ نہیں بلکہ سماجی جبر کے خلاف ایک تاریخی رویہ اور انسانی آزادی کا فکری اظہار ہے تقریب کے مقررِ خصوصی ڈاکٹر توصیف احمد خان تھے، جنہوں نے کتاب کے مختلف مباحث کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے عصرِ حاضر کے سیاسی، معاشی اور سماجی تصورات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام اور تیسری دنیا کی پیچیدہ صورتحال کو مصنف نے غیر معمولی تحقیق کے ساتھ پیش کیا ہے۔کتاب کے مصنف رانا اعظم نے اپنی گفتگو میں کتاب کی تالیف کے پس منظر، تحقیق کے مراحل اور موضوع کے حساس پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مارکسزم کی معنویت آج بھی زندہ ہے اور طبقاتی جدوجہد کا شعور دنیا بھر کے معاشروں میں نئی بحثوں کو جنم دے رہا ہے۔تقریب کے اختتام پر حاضرین کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے جن کے جوابات نہایت علمی، مدلل اور اطمینان بخش انداز میں صدرِ محفل اور مصنف نے فراہم کیے۔ مکالمے کے اس ماحول نے نشست کو مزید مفید اور مؤثر بنا دیا۔شرکائے تقریب میں انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے صدر پروفیسر شاہد کمال، نائب صدر خبیب حیات، جنرل سیکریٹری سلطان نقوی، پروفیسر انیس زیدی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ہما بیگ سمیت متعدد فکری و ادبی شخصیات موجود تھیں۔ شرکاء نے مصنف کی محنت اور موضوع کے انتخاب کو سراہتے ہوئے اس کتاب کو موجودہ فکری بحران کے تناظر میں ایک اہم علمی کاوش قرار دیا۔یہ نشست جہاں نئے فکری مباحث کے در وا کرتی نظر آئی، وہیں نوجوان نسل کو ترقی پسند فکر کی طرف متوجہ کرنے کا سبب بھی بنی۔ اس طرح کی تقریبات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ سماجی، علمی اور فکری سطح پر مثبت جہتیں پیدا ہوں۔*