یومِ سیاہ۔۔۔ کشمیریوں کی قربانیوں کا دن

تحریر . محمد زاہد مجید انور

*27 اکتوبر تاریخِ کشمیر کا وہ سیاہ باب ہے جس دن بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کیا۔ آج کا دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور بھارتی جارحیت کے خلاف نفرت و احتجاج کا دن ہے۔سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر پیرا فورس میڈم صدف ارشاد نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بہن بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کا تقاضا ہے کہ ہم اس دن کو ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ایک علامت کے طور پر منائیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ پنجاب کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ہر فورم پر ان کی جدوجہدِ آزادی کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہیں جنہیں عالمی برادری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔میڈم صدف ارشاد نے اس موقع پر واضح کیا کہ یومِ سیاہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد قربانی، صبر اور عزم سے عبارت ہے۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں، اور یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرنا چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ہر پلیٹ فارم پر ان کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور اس رگ میں بہنے والا خون ہمارے ایمان اور غیرت کی علامت ہے۔آخر میں میڈم صدف ارشاد نے کہا کہ یومِ سیاہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ظلم و بربریت کے خلاف اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، آخرکار حق کی فتح یقینی ہے۔ کشمیری عوام کی لازوال قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور وہ دن دور نہیں جب وادیٔ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔*