علم، رفاقت، روایت اور تجدید عہد
تحریر:سلمان احمد قریشی
ایلمنائی ایسوسی ایشن کسی بھی تعلیمی ادارے کی شناخت اور وقار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سابق طلبہ کے تجربات، تعلقات اور تعاون سے ادارے کی تعلیمی، سماجی اور انتظامی سرگرمیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ ایسوسی ایشن نہ صرف طلبہ و اساتذہ کے درمیان رابطے کا پل بنتی ہے بلکہ ادارے کی ترقی، فنڈنگ اور نئے منصوبوں کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک فعال ایلمنائی ادارے کے وقار کو دوام بخشتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔
اوکاڑہ کا تاریخی گورنمنٹ کالج محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ایک فکری روایت، تہذیبی تسلسل اور کردار سازی کا گہوارہ ہے۔ اس ادارے نے علم و عرفان کی وہ شمع روشن کی جس کی کرنیں آج بھی اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے دلوں میں روشنی بکھیر رہی ہیں۔ یہی وہ تعلقِ قلبی اور فکری وابستگی ہے جس کی تازہ جھلک اس وقت دیکھی گئی جب گورنمنٹ کالج اوکاڑہ ایلمنائی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام چوتھا سالانہ ڈنر اور محفلِ غزل قائداعظم ہال میں نہایت شاندار اور پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔یہ تقریب محض ملاقاتوں اور یادوں کا تسلسل نہیں تھی بلکہ اُس علمی رشتے کی تجدید تھی جو وقت کے ساتھ کمزور نہیں پڑتا بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر ادارے سے وابستہ سابق طلبہ، اساتذہ، دانشوروں، کھلاڑیوں، سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کر کے تقریب کو یادگار بنا دیا۔
محفل کے آغاز میں تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبول ﷺ سے روح پرور فضا قائم ہوئی۔ صدر ایلمنائی ایسوسی ایشن پروفیسر عبدالروف نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد، کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے بقول، ایلمنائی ایسوسی ایشن کا مقصد صرف یادوں کو زندہ رکھنا نہیں بلکہ ادارے کی ترقی، طلبہ کی رہنمائی اور معاشرتی خدمت میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی کے طلبہ اور حال کے اساتذہ ایک پلیٹ فارم پر متحد رہیں، تو تعلیم ایک بار پھر معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
تقریب کے مہمانانِ گرامی میں رکنِ قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ، وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر زبیر اقبال، پرنسپل گورنمنٹ کالج اوکاڑہ پروفیسر علی حیدر ڈوگر سمیت اساتذہ، طلبہ اور سابق فارغ التحصیل شخصیات کی بڑی تعداد شامل تھی۔ معزز مہمانوں نے اپنے خطابات میں کہا کہ گورنمنٹ کالج اوکاڑہ نے صرف نصابی تعلیم نہیں دی بلکہ کردار سازی اور مثبت سوچ پیدا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
رکنِ قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کی علمی خدمات اس خطے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے ہوئے ہیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف نصاب پڑھانے کے مراکز نہیں ہوتے، بلکہ وہ معاشرے کے فکری اور اخلاقی ڈھانچے کو تشکیل دیتے ہیں۔ ایلمنائی ایسوسی ایشن اس سلسلے کی کڑی ہے جو علم کو عملی زندگی کے تجربات سے جوڑتی ہے۔
پرنسپل پروفیسر علی حیدر ڈوگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کالج کا ہر طالبعلم یہاں سے علم، تربیت اور کردار کی بنیاد لے کر نکلتا ہے۔ سابق طلبہ کا ادارے سے رابطہ برقرار رکھنا اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کی سرگرمیاں نہ صرف کالج کے وقار میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔
اس موقع پر سابق ٹیسٹ کرکٹر ذوالفقار بابر، اولمپیئن مظہر ساہی، کالم نگار و تجزیہ نگار سلمان احمد قریشی، سابق ایم پی اے چوہدری منیب الحق، صدر غلہ منڈی اوکاڑہ چوہدری حبیب الحق، مسلم لیگی رہنما میاں علی حسن سمیت درجنوں ممتاز سابق طلبہ شریک ہوئے۔ شرکاء نے اپنے تعلیمی ایام کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کالج اوکاڑہ نے انہیں صرف تعلیم نہیں دی بلکہ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔یہ محفل اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ یہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع تھے۔ ایک جانب بزرگ اساتذہ کی شفقت تھی تو دوسری طرف نوجوان طلبہ کا جوش و جذبہ تھا۔ اس امتزاج نے تقریب کو محض ایک سماجی اجتماع کے بجائے ایک فکری تسلسل میں بدل دیا۔
محفلِ غزل اور موسیقی نے اس شام کو یادگار بنا دیا۔ مقامی اور قومی سطح کے فنکاروں نے کلاسیکی نغمات اور غزلوں سے سامعین کو محظوظ کیا۔ محفل میں موجود علم و ادب کے قدردانوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایسے پروگرام تعلیمی ماحول میں جمالیاتی ذوق کو زندہ رکھتے ہیں، جو آج کے دور میں نہایت ضروری ہے۔پرتکلف ڈنر کے دوران شرکاء کے مابین پرانی یادوں کی باتیں، ہنسی مذاق، اور گزرے زمانوں کے دلچسپ واقعات نے فضا کو بے حد پُرلطف بنا دیا۔ کئی چہرے برسوں بعد ایک دوسرے سے ملے، جیسے وقت پلٹ کر جوانی کی دہلیز پر لے آیا ہو۔
آخر میں ایلمنائی ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع محض ملاقاتوں کا نہیں بلکہ ایک نظریے کا مظہر ہے وہ نظریہ جس کے تحت علم، کردار، رواداری اور خدمتِ خلق کا پیغام عام کیا جاتا ہے۔گورنمنٹ کالج اوکاڑہ ایلمنائی ایسوسی ایشن کا یہ چوتھا سالانہ اجتماع دراصل اُن تمام نسلوں کے درمیان ایک پُل ہے جنہوں نے اس ادارے سے فیض حاصل کیا۔ اس تقریب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ علم کا سفر ختم نہیں ہوتا، یہ مسلسل جاری رہنے والی روشنی ہے۔ ایک ایسی روشنی جو گورنمنٹ کالج اوکاڑہ جیسے اداروں سے پھوٹتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کرتی ہے۔یہ شام صرف یادوں کی نہیں تھی، یہ تجدیدِ عہد کی شام تھی۔ ایک عہد کہ علم کی شمع کبھی بجھنے نہ دی جائے اور گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کی یہ روشنی آنے والے برسوں میں بھی اسی طرح جگمگاتی رہے۔








