„ماں… ایک ایسی نعمت جس کا کوئی بدل نہیں“*
*تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی معروف، معزز اور باوقار رمدے خاندان کی عظیم بزرگ ہستی، میاں غلام الرحمٰن مرحوم ذیلدار آف سونڈھ کی اہلیہ، میاں ساجد الرحمٰن رمدے مرحوم سابق چیئرمین ضلع کونسل ٹوبہ ٹیک سنگھ اور میاں زاہد الرحمٰن رمدے مثالی کاشتکار کی والدہ، جسٹس (ر) خلیل الرحمٰن رمدے اور سابق وفاقی وزیر چوہدری اسد الرحمٰن کے چھوٹے بھائی میاں محمد عثمان کی خوشد امن گزشتہ روز اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ان کے انتقال نے نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ مرحومہ کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں کی فضا میں ایک ایسے درد اور احترام کے ساتھ ادا کی گئی کہ ہر چہرے پر دکھ اور ہر دل میں خلوص جھلک رہا تھا۔ ضلع بھر کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں خلوص، محبت اور وقار کی جو مثال قائم کی، وہ آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔نمازِ جنازہ کے بعد مرحومہ کو ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ مٹی کی یہ آخری امانت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی ساری بھاگ دوڑ، سارے منصب، سارے عہدے، سارا جاہ و جلال آخر کار ایک مٹی کے ڈھیلے پر ختم ہو جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اس دنیا سے جا کر بھی دلوں میں زندہ رہتے ہیں،اپنے کردار، محبت اور خدمت کی وجہ سے۔بعد ازاں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اہلِ علاقہ سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ہر دل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی:”اے اللہ! مرحومہ کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرما۔”اس موقع پر موجود لوگوں نے ماں کی عظمت پر گفتگو کرتے ہوئے ایک حقیقت کا ذکر کیا:ماں وہ ہستی ہے جس جیسی کوئی نہیں اس کی محبت بے لوث، اس کی دعا بے مثل، اس کی قربانی بے شمار۔ دنیا میں بہت سی چیزوں کا بدل مل جاتا ہے، مگر ماں کا نہیں۔ ماں کی جدائی وہ زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر نشان ہمیشہ رہ جاتا ہے۔رمدے خاندان کی مرحومہ بھی ایسی ہی عظیم ماں تھیں،خاندان کی بنیاد، اولاد کا سہارا، گھر کی روشنی، محبت کا مرکز۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پورا کرنا ممکن نہیں۔ مگر ان کی نیکی، ان کا حسنِ اخلاق، ان کی تربیت اور ان کی قائم کردہ روایات ہمیشہ اس خاندان کی پہچان رہیں گی۔زندگی کا سفر مختصر ہے۔ ہم روزانہ کسی نہ کسی کے چلے جانے کی خبر سنتے ہیں، مگر ماں کے جانے کی خبر ایک ایسا غم ہے جو ہر شخص کو اپنی ماں کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہ لمحہ یاد دہانی ہے کہ والدین کی زندگی میں ان کی قدر کی جائے، ان کے قدموں میں جنت تلاش کی جائے، ان کی خدمت کو زندگی کا مقصد بنایا جائے۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک مرحومہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، اور لواحقین کو یہ غم برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے۔ آمین۔ماں واقعی خدا کی وہ نعمت ہے جسے کھونے کے بعد ہی اس کی اصل قدر سمجھ آتی ہے۔ خدا ہم سب کو اپنے والدین کی قدر کرنے کی توفیق دے۔*