*ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پارک،بدلتے رنگ، نیا احساس،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت پارکوں کی بحالی کا کام تیز، شہریوں کا اقدامات پر اظہارِ اطمینان۔*
تحریر ۔ محمد زاہد مجید انور*
*ٹوبہ ٹیک سنگھ، جو اپنی سادگی، مہمان نوازی اور صاف ستھرے ماحول کے لیے پہچانا جاتا ہے، آج ایک نئے سفر پر گامزن نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت شہر کے پارکوں کی بحالی اور خوبصورتی کے کام نہ صرف تیزی سے جاری ہیں بلکہ عوام کی توقعات سے کہیں زیادہ معیاری ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ وہی پارک ہیں جو کبھی بچوں کے کھیلنے، بزرگوں کے ٹہلنے اور فیملیز کے بیٹھنے کا مرکز تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی رونقیں ماند پڑتی چلی گئیں۔ آج ایک بار پھر وہی پارک زندگی کی تازہ روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر عمر عباس میلہ نے بھلیر والا، اقبال والا اور آکال والا پارکوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ یہ صرف ایک رسمی وزٹ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے انتظامی افسر کا عزم تھا جو شہر کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ پارکوں میں صفائی، تزئین و آرائش، گرین بیلٹس کی بحالی، بچوں کے جھولوں اور بینچز کی مرمت،سب کچھ نہ صرف نظر آ رہا تھا بلکہ محسوس بھی ہو رہا تھا کہ شہر ایک خوبصورت تبدیلی سے گزر رہا ہے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ولید عثمان نے جاری منصوبہ بندی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واکنگ ٹریک کی جدید لائننگ اور روشنی کے نظام کی بہتری آخری مراحل میں ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو رات کے وقت بھی پارکوں کو محفوظ اور پرکشش بنائیں گے۔ستھرا پنجاب ٹیموں کی روزانہ کی بنیاد پر صفائی اور گھاس کی کٹائی نے پارکوں کو وہ تازگی بخشی ہے جو ایک وقت میں خواب محسوس ہوتی تھی۔پارکوں میں شجرکاری، نئی نرسریاں، نئی گھاس اور فیملی ایریاز کی اپ گریڈیشن نے شہریوں کے لیے صحت بخش اور پرسکون ماحول کی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے خود بھی پودے لگا کر نہ صرف ماحول دوستی کا پیغام دیا بلکہ اس بات کو بھی واضح کیا کہ یہ کام صرف حکومتی منصوبہ نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر شہریوں کا ردعمل بھی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ عوام نے نہ صرف انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا ہے بلکہ پارکوں کی حفاظت، صفائی اور ماحول کی بہتری میں تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔شہر کے اندر ایسے مثبت اقدامات دیکھ کر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ جب نیت صاف ہو اور قیادت واضح سمت دکھائے تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے یہ پارک اب محض تفریحی مقامات نہیں رہے، یہ ہمارے اجتماعی شعور، ہماری ذمہ داری اور ہمارے مستقبل کی علامت بن چکے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اچھے کام کو جاری رکھا جائے، پارکوں کی خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لیے شہری بھی اپنی ذمے داری نبھائیں، اور انتظامیہ بھی اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھتی رہے۔ کیونکہ شہر کی پہچان صرف اس کی عمارتیں نہیں ہوتیں—اس کے پارک، اس کی فضا اور اس کا ماحول بھی اس کے حسن کی کہانی سناتے ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پارک آج یہی کہانی سنا رہے ہیں:*
*“اگر ہم چاہیں… تو ہمارا شہر بھی بدل سکتا ہے، اور بہت خوبصورت بن سکتا ہے۔”*










