ٹریفک قوانین میں سختی ضرورت بھی، وقت کی اہم ترین مانگ بھی
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*پنجاب میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات، نوجوانوں کی بے احتیاط ڈرائیونگ، اوور اسپیڈنگ اور گاڑیوں کی ناقص حالت نے عوامی زندگی کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ ایسے حالات میں پنجاب کے محکمہ قانون نے آخرکار ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے نیا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ یہ آرڈیننس نہ صرف جرمانوں میں اضافے کا اعلان ہے بلکہ ایک بھرپور پیغام بھی ہے کہ اب ٹریفک ضوابط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔نئے آرڈیننس کے مطابق تیز رفتاری اور اوور اسپیڈنگ پر 300 فیصد تک جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بظاہر سخت لگتا ہے، مگر زمینی حالات دیکھیں تو جرمانوں میں اضافہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام کو سنجیدگی سے ڈرائیونگ کا شعور دیا جا سکتا ہے۔ موٹر سائیکل پر دو ہزار اور کار پر پانچ ہزار روپے جرمانہ شاید ان لوگوں کے لیے معمولی بات نہ ہو جو روزانہ سڑکوں پر بغیر سوچے سمجھے رفتار بڑھاتے ہیں، لیکن یہی سزا انہیں محتاط رہنے پر مجبور کرے گی۔سگنل توڑنا پاکستان میں برسوں سے ایک عام سی بات سمجھی جاتی رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سگنل کی خلاف ورزی ہی سب سے زیادہ خطرناک حادثات کی وجہ بنتی ہے۔ اسی حوالے سے نئے قانون نے موٹر سائیکل، تھری ویلر، کار، 2000 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں کے لیے الگ الگ جرمانے مقرر کیے ہیں۔ 2000 سی سی سے زائد گاڑیوں کے لیے 15 ہزار روپے جرمانہ ظاہر کرتا ہے کہ اب بڑی گاڑیوں والے ڈرائیور بھی قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہیں گے اوورلوڈنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خصوصاً تھری ویلرز اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں۔ حد سے زیادہ وزن نہ صرف گاڑی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دوسرے مسافروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس لیے تھری ویلر پر 3 ہزار اور ٹریلر پر 15 ہزار روپے تک جرمانہ واقعی وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر سخت کارروائی فضائی آلودگی پر قابو پانے کی اچھی کوشش ہے۔ایک انتہائی اہم قانون یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی کا محفوظ ہونا سب کے لیے ضروری ہے، اور فٹنس سرٹیفکیٹ یقینی بناتا ہے کہ گاڑی جان لیوا خرابیوں سے پاک ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی پر چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی واضح پیغام ہے کہ ٹریفک قواعد اب ’’اختیاری‘‘ نہیں بلکہ ’’لازمی‘‘ ہوں گے۔کم عمر ڈرائیونگ آج ہمارے معاشرے کا انتہائی بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ بچے اور نوجوان نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ نئے آرڈیننس میں والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہرانا قابل تحسین قدم ہے۔ اس سے لاپروا والدین میں بھی احتیاط بڑھے گی۔پیلی نمبر پلیٹ، جعلی نمبر پلیٹ، نان اسٹینڈرڈ شیشے—یہ سب وہ چیزیں ہیں جو جرائم اور حادثات دونوں کے امکانات بڑھاتی ہیں۔ ایسے عناصر کو کنٹرول کرنا ضروری تھا، اور حکومت نے بروقت قدم اٹھایا ہے۔ نان اسٹینڈرڈ شیشوں پر چھ ماہ تک قید کی سزا بظاہر غیر معمولی لگتی ہے، مگر شہری تحفظ کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔ٹریفک چالان اور ٹکٹنگ کا مکمل طور پر الیکٹرانک نظام اپنانا بھی ایک نمایاں تبدیلی ہے، کیونکہ اس سے کرپشن، بے قاعدگی اور ڈبل چالان جیسے مسائل ختم ہوں گے۔ مزید یہ کہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنے والے شخص کے لیے بھی سیٹ بیلٹ لازمی قرار دینا عالمی معیار کے مطابق ایک درست اور ضروری قانون ہے۔حکومت کے مطابق اس آرڈیننس کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ اصل مقصد حادثات میں کمی، نظم و ضبط کا قیام اور ذمہ دار ڈرائیونگ کو فروغ دینا ہے۔ اگر یہ قوانین سختی سے لاگو کیے گئے تو یقیناً سڑکوں پر ایک نمایاں تبدیلی نظر آئے گی۔ اب یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم خود بھی قوانین کی پاسداری کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔یہ آرڈیننس بلاشبہ ہمارے ٹریفک نظام کو محفوظ، جدید اور مؤثر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہےجس کے نتائج آنے والے مہینوں میں واضح طور پر محسوس ہوں گے۔*
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب کے تمام محکموں کی کارکردگی کا 6 گھنٹے طویل کڑا احتساب :
🔹پنجاب میں تاریخ ساز ترقی ، صاف پانی ، روزگار ، رہائش ، سڑکیں اور جدید صنعتیں —–
وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں *PMLN گورنمنٹ* نے پنجاب میں گورننس کا نیا معیار سیٹ کر دیا –
🔹پنجاب نے اپنی حالیہ تاریخ میں پہلی بار 120 ارب روپے کی خطیر بچت کا سنگِ میل عبور کر لیا ، الحمد للّٰہ !
🔹صوبائی وزراء اور سیکرٹریز نے پراجیکٹس پر اعداد و شمار ، ٹائم لائن اور نتائج پیش کیے –
🔹پنجاب حکومت نے عوامی خدمت کے بلند ترین اہداف مقرر کر دیئے –
🔹پنجاب کی زمین پر ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے لئے تھل ایکسپریس وے پراجیکٹ کا شروع کرنے کا فیصلہ –
🔹دوریاں اور محرومیاں ختم کر کے تھل ایکسپریس وے گودار اور دیگر علاقوں کے دلوں کو ترقی کی سڑک سے ملائے گی ، ان شاء اللّٰہ !
🔹روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے– پنجاب میں 20 ہزار سڑکیں بنیں گی اور بہتر روزگار ملنے سے 50 ہزار خاندانوں کی تقدیر بدلے گی ، ان شاء اللّٰہ !
🔹پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 30 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت ہو گی –
🔹پنجاب میں صفائی اور پائے داری کا نیا سنگِ میل —– 100 سال تک چلنے والی خصوصی پلاسٹک سیوریج لائن کا تاریخی منصوبہ شروع –
🔹پنجاب کے دیہات میں رہائش کا نیا انقلاب —— پہلے فیز کے 440 ماڈل ویلیجز دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ٹارگٹ مقرر –
🔹پنجاب میں یکساں ترقی کے لئے ماڈل ویلج میں ڈرین ، پینے کا صاف پانی ، پارک اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی –
🔹پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار “اپنی چھت اپنا گھر پروگرام” سے 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شروع –
🔹پنجاب میں اپنی نوعیت کا پہلا سالٹ ویلیج قائم کرنے کی منظوری –
🔹میڈیسن ، صنعت ، نوکریاں اور جدید ترقی کے نئے دروازے کھولنے کے لئے پنجاب میں پہلا اور منفرد فارماسیوٹیکل زون قائم کرنے پر اتفاق –
🔹”اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ” کے تحت پہلے فیز میں قرضوں کی 100 فی صد واپسی کا ریکارڈ –
🔹پنجاب میں پہلی بار واسا کے مراکز 5 سے بڑھا کر 19 تک کر دیئے گئے –
🔹سال کے آخر تک پورے صوبے میں واسا مراکز ہر شہری کو صاف پانی کی سہولت دستیاب کریں گے ، ان شاء اللّٰہ !
🔹پہلی بار پنجاب میں پانی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے 1000 ری چارج ویل اور 100 سے زائد انڈرگراؤنڈ سٹوریج واٹر ٹینکس بنائے جائیں گے ، ان شاء اللّٰہ !
🔹وہاڑی ملتان روڈ کو جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر –






