تصویر اولیاء۔۔۔مولانا خادم حسین رحمت اللہ علیہ۔۔۔

تحریر شیخ امتیازرحمانی

اکثراوقات جمعہ مبارک کی ادائیگی کے وقت جب عربی خطبہ سننے کااتفاق ہوتاہے تو “الا ہو” کی آواز کوترس جاتا ہوں، کیا اندازبیاں،کیا خوبصورت ادائیگی، کیا توحیدی نغمے، کیا للہیت اور خشیت، کیا مترنم آواز، ۔ ۔ سماعت کے پردوں کو بھی سرور بخشے،روحانیت کو تروتازہ کرے، قلب واذہان کو نئی جہتیں عطا کرے۔ جی جی۔یہ تمام خصوصیات ایک ایسے فرد میں دیکھنے کو ملیں جس کو لوگ, مولانا خادم حسین، “،کے نام سے جانتے ہیں، ہر طبقہ فکر ان کے احترام واکرام میں پیام عقیدت رکھتے ہیں۔ دھیمے لہجے، باوقار انداز، باحیا کردار کے مالک مولانا خادم حسین کو ہم بچھڑے سات سال کاعرصہ بیت چکا ہے۔ یقینی طور پر ان کی مذہبی وسماجی خدمات ہمارے لیے سرمایہ ہیں امولانا صاحب جامع مسجد ایثار القاسمی شہید گڑھ مہاراجہ میں طویل عرصہ تک ماہ صیام کے بابرکت راتوں میں نماز قیام الیل اور تراویح کی امامت کراتے رہے ہیں، خطبات جمعہ دیتے ریے ہیں، ان کے جمعہ کے خطبات میں “الا ہو ” کی مترنم آواز کانوں میں رس گھولتی تھی۔ موصوف علاقہ بھر کے ہزاروں افراد کے استاد الاساتذہ تھے۔ ان کی شخصیت، رواداری ،شرافت ودیانت، ذہانت و فطانت کا ایک زمانہ دیوانہ رہا ہے۔ اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کی قبر میں انہیں کروٹ کروٹ سکون دے،اللہ کریم ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین ثم آمی