عوام کی جانیں محفوظ بنانا اچھی مہم، مگر غیر معیاری ہیلمٹس بڑا سوال
تحریر محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی پولیس کی جانب سے بغیر ہیلمٹ اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے خلاف جاری مہم یقیناً عوامی تحفظ کے لیے ایک نہایت اہم اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کی جانوں کو حادثات کے مہلک نتائج سے محفوظ رکھنا اور ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔ ٹریفک حادثات میں موت یا شدید زخمی ہونے کی سب سے بڑی وجہ سر کی چوٹیں قرار دی جاتی ہیں، ایسے میں ہیلمٹ پہننے کی پابندی شہریوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔تاہم اس مثبت اور عوامی فلاح کے اقدام کے ساتھ ایک نہایت سنگین مسئلہ بھی جنم لے رہا ہے مارکیٹ میں غیر معیاری ہیلمٹس کی بھرمار!شہر اور گردونواح میں شہری مجبوری کے تحت ایسے ہیلمٹ خریدنے پر مجبور ہیں جو نہ صرف کمزور، ناقص اور غیر محفوظ ہیں بلکہ کسی قسم کے حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ معمولی جھٹکے سے ٹوٹ جانے والا ہیلمٹ کسی حادثے میں انسانی جان کو کیا تحفظ دے سکتا ہے؟ عوامی سطح پر شکایات میں اضافہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ موجودہ مارکیٹ قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔حکومت پنجاب کا ٹریفک سیفٹی کے حوالے سے یہ اقدام کامیاب تب ہی ہوگا جب عوام کو اچھی کوالٹی کے سستے ہیلمٹس دستیاب ہوں۔ اگر معیاری سامان ہی میسر نہ ہو تو شہریوں کو صرف جرمانوں کی تلوار کے سہارے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی متعدد شہری یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے مارکیٹ میں کم قیمت پر بین الاقوامی معیار کے ہیلمٹ دستیاب ہوں۔ اس مقصد کے لیے چند اہم حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں:ضروری حکومتی اقدامات(1). معیاری ہیلمٹس کی حکومتی ریٹس پر فراہمی حکومت پنجاب کو چاہیے کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کے معیاری ہیلمٹس رعایتی نرخوں پر فروخت کے لیے اسٹالز یا مخصوص سنٹرز قائم کرے۔(2). غیر معیاری ہیلمٹس کے خلاف سخت کارروائی مارکیٹ میں ناقص، کھوکھلے، پلاسٹک کے کمزور ہیلمٹس فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔(3). معیار کی جانچ کے لیے خصوصی ٹیمیں ڈویژن اور ضلعی سطح پر ٹیمیں بنائی جائیں جو مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کا معیار چیک کریں۔(4). عوامی آگاہی مہم شہریوں کو بتایا جائے کہ معیاری ہیلمٹ کون سا ہوتا ہے، اسے خریدتے وقت کن چیزوں کو لازمی چیک کرنا چاہیے۔(5). طلب و رسد کو متوازن کرنا،چونکہ مہم کے بعد ہیلمٹس کی طلب بڑھ جاتی ہے، اس لیے سپلائی کو بڑھانا ضروری ہے تاکہ قیمتیں مصنوعی طور پر نہ بڑھیں۔نتیجہ حفاظتی اقدامات، قوانین کا نفاذ اور عوامی سہولت— تینوں مل کر ہی ایک بہتر سسٹم تشکیل دیتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے شہریوں کی حفاظت کے لیے اہم قدم ضرور اٹھایا ہے لیکن اب اس مہم کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنانے کے لیے معیاری اور سستے ہیلمٹ کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پنجاب بھر میں عوام حکومتی توجہ کے منتظر ہیں تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہیں اور وہ اس مہم کو مثبت انداز میں قبول کریں۔یہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہزاروں قیمتی جانوں کے تحفظ کا واحد مؤثر راستہ بھی!*






