لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری روڈا کے ساتھ فیز ٹو کے معاہدے کو پایا تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے سید شاکر علی شاہ

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری روڈا کے ساتھ فیز
ٹو کے معاہدے کو پایا تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں میں سمجھتا ہوں اتنی بڑی کامیابی پر جو لوگ انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان تمام لوگوں کے ماضی پر اگر اپ روشنی ڈالیں گے تو ایک بھی شخص اپ کو ایسا نہیں ملے گا جو ارشد انصاری کی مہربانی سے کروڑ پتی نہ بنا ہو لاہور کی تمام یونین اور تنظیموں کے تمام سینیئر صحافی فیز ون میں کروڑوں روپے کما چکے ہیں کسی صحافی نے اپنا پلاٹ بیچ کر گاڑی لے لی کسی نے بچوں کا مستقبل بنا لیا اور بہت سے صحافیوں کے پاس اج بھی کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹ موجود ہیں ارشد انصاری کی اتنی بڑی مہربانی کے باوجود دوسروں کے لیے یہ سہولت مہیا کرنے کے لیے ارشد انصاری کا ساتھ دینے کی بجائے طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں شور صرف دوبارہ پلاٹ نہ ملنے کا ہے ؟
ارشد انصاری نے تو اپنے دور صدارت میں صحافیوں کو ہزاروں پلاٹ دلوا دیے ان گروپ کا بھی دور صدارت ایا تھا انہوں نے تو کسی ایک صحافی کو دو مرلے کا پلاٹ بھی نہیں دلوایا ؟
اب یہ ایک الیکشن جیتنے کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں سب جانتے ہیں جس اتھارٹی کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے ان میں روڈا کے سی ای او (CEO) عمران امین بھی شامل ہیں سی ای او(CEO) کے معاہدے کی کیا ویلیو ہے یہ اپ چہار باغ یا دوسرے روڈا کے پروجیکٹ پر جا کر دیکھیں ان کے دستخط شدہ فارم پر اربوں روپے لوگوں نے لگا دیے ہیں اور ہم نے کیا دیا ہے کچھ نہ دینے کے باوجود بھی صحافیوں کے ساتھ معاہدہ طے ہو گیا ہے یہ سب سے بڑی کامیابی ہے ارشد انصاری کی ،
اب وہ دن دور نہیں فیز ٹو کے صحافی بھی فیز ون کے صحافیوں کی طرح اپنی گاڑیوں میں گھومیں گے ممبران سے اپیل ہے وہ صرف ایک مثال ذہن میں رکھیں ،
*انگور کھٹے ہیں*
*انگور کھٹے ہیں*
*انگور کھٹے ہیں*