ڈرائیونگ لائسنس… قانون یا عذاب؟”
تحریر . محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ان دنوں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ایک ایسا مرحلہ بن چکا ہے جسے شہری ’’قانونی ضرورت‘‘ کے بجائے ’’عذاب‘‘ کہنے لگے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے گئے کہ صوبے بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ بظاہر یہ اقدام عوام کی سلامتی، ٹریفک نظم و ضبط اور حادثات کی روک تھام کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ مگر افسوس کہ جب اس نظام پر نظر ڈالی جائے تو زمینی حقائق حکومت کی نیت کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ لائسنس کے لیے دفاتر کا رخ کرتی ہے مگر وہاں پہنچتے ہی انہیں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایسے ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ درخواست گزاروں کے مطابق بعض اہلکار حساب کتاب میں الجھاتے ہیں، کچھ غیر ضروری اعتراضات لگا کر لوگوں کو بار بار چکر لگواتے ہیں، جبکہ کئی سادہ لوح شہریوں کو مکمل رہنمائی بھی نہیں دی جاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شریف شہری گھنٹوں قطاروں میں خوار ہو کر بھی لائسنس نہ بنوا پاتے اور روزمرہ کی ذمہ داریوں سے کٹ جاتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت خود لائسنس لازمی قرار دے چکی ہے تو متعلقہ محکمے ہی کیوں عوام کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلعی ٹریفک پولیس کی خاموشی نہ صرف اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے بلکہ شہریوں کے اندر ایک شدید بے چینی اور بد اعتمادی بھی جنم لے رہی ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا قانون صرف عوام کے لیے بنایا جاتا ہے؟ کیا ان اداروں کی کوئی نگرانی، کوئی اصلاحات، کوئی جوابدہی نہیں؟اس صورتحال کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ جب باعزت شہریوں کے لیے لائسنس لینا مشکل بنا دیا جائے تو لوگ قانون سے منہ موڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ ٹریفک حادثات میں اضافے اور عوام کے اندر قانون شکنی کے رجحان کو بڑھاتا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ صوبہ ٹریفک کے بہتر نظام کی طرف بڑھے تو سب سے پہلے اسے اپنے نظام کو آسان، شفاف اور بدعنوانی سے پاک کرنا ہوگا۔عوام کی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے یہی اپیل ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ ڈرائیونگ لائسنس کا عمل نہ صرف سہل اور منصفانہ بنایا جائے بلکہ ایسے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو عوام کو بلاوجہ امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔شہریوں کی مشکلات کا ازالہ کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ڈرائیونگ لائسنس جیسا سادہ اور تکنیکی عمل بھی عوام کے لیے آزمائش بن جائے تو پھر تبدیلی اور اصلاحات کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ اعلیٰ حکام اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں گے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں کو اس غیر ضروری اذیت سے نجات دلائیں گے۔*








