محترمہ بے نظیر بھٹو: جمہوریت کی شہید، تاریخ کا ادھورا باب

تحریر محمد زاہد مجید انور

*پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام ایک ایسے باب کی حیثیت رکھتا ہے جو آج بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں، بلکہ ایشیا میں بھی ایک مضبوط، باوقار اور جرات مند خاتون رہنما کے طور پر پہچانی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے انقلابی اور عوامی رہنما کی بیٹی ہونے کے ناتے سیاست ان کی وراثت تھی، مگر اس وراثت کی قیمت انہیں جلاوطنی، قید، الزامات، کردار کشی اور بالآخر شہادت کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیرِ اعظم رہیں (1988ء تا 1990ء اور 1993ء)، مگر ان کا ہر دور سیاسی عدم استحکام، طاقت کے غیر مرئی مراکز اور جمہوری عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نذر ہوتا رہا۔ اس کے باوجود انہوں نے آئین، پارلیمان، خواتین کے حقوق اور جمہوری تسلسل کی بات کی، جو انہیں اپنے ہم عصروں سے منفرد بناتی ہے۔27 دسمبر 2007ء پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جس نے قوم کو سوگ میں ڈبو دیا۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی اجتماع کے بعد ہونے والے خودکش حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے 23 کارکنان شہید ہو گئے۔ بعد ازاں مزید چار افراد بھی اس سانحے کا نشانہ بنے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک سیاسی قتل تھا بلکہ جمہوریت پر براہِ راست حملہ تصور کیا جاتا ہے۔آج اس سانحہ کو 18 برس گزر چکے ہیں، مگر سوالات اب بھی وہیں کے وہیں ہیں۔ وہ طاقتور ہاتھ کون تھے جنہوں نے محترمہ کو راستے سے ہٹایا؟ اصل منصوبہ ساز کون تھے؟ تحقیقات کیوں منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات نہ عوام کو مل سکے اور نہ ہی تاریخ کے اوراق پر تحریر ہو سکے۔ حیران کن طور پر اسی لیاقت باغ میں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم شہید لیاقت علی خان کو بھی قتل کیا گیا، مگر ان کے قاتل بھی آج تک بے نقاب نہ ہو سکے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ جیسا عالمی ادارہ بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کے محرکات اور ذمہ داران کو واضح طور پر سامنے نہ لا سکا۔یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ محترمہ کے ساتھ شہید ہونے والے کارکنان کے خاندانوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود پارٹی سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان خاندانوں کی کفالت کی گئی اور آج ان کے بچے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریاتی سیاست ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کی وصیت کے مطابق گڑھی خدا بخش میں اپنے والد، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ گڑھی خدا بخش آج بھی پاکستان میں جمہوریت، قربانی اور جدوجہد کی علامت ہے، جہاں ہر سال ہزاروں کارکن اور عوام آ کر اپنی قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔بے نظیر بھٹو کو قتل کیا جا سکتا تھا، مگر ان کے نظریے، سوچ اور جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ وہ آج بھی جمہوریت کی علامت، عوامی سیاست کی آواز اور ایک ایسی شہید رہنما کے طور پر زندہ ہیں جس کا خون تاریخ کے دامن پر ایک سوالیہ نشان بن کر ثبت ہے۔ جب تک ان کی شہادت کے اصل ذمہ دار سامنے نہیں آتے، یہ باب ادھورا ہی رہے گا۔*