ٹیلنٹ کی قدر کیوں نہیں

کالم نگار: عبدالستار

یہ سوال آج کے ہر باشعور نوجوان کے دل کی چیخ ہے. اس ملک میں ٹیلنٹ پیدا تو بہت ہوتا ہے مگر پروان کم چڑھتا ہے. ہماری گلیوں میں بیٹھا ہوا میکینک بھی ٹیلنٹ رکھتا ہے. یونیورسٹی میں پڑھنے والا نوجوان بھی ٹیلنٹ رکھتا ہے. کھیتوں میں کام کرنے والا کسان بھی ٹیلنٹ رکھتا ہے. مگر ان سب کی قدر کون کرے گایہ سچ ہے کہ اس معاشرے میں ڈگری اور تعلق کو عزت ملتی ہے. ٹیلنٹ کو نہیں. لوگ کپڑے دیکھ کر بات کرتے ہیں اور قابلیت دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں. جو آواز رکھتا ہے وہ دبایا جاتا ہے. جو سوال کرتا ہے اسے ہٹا دیا جاتا ہے. جو کچھ بنانا چاہتا ہے اسے روک دیا جاتا ہےایک نوجوان ہاتھ میں آئیڈیا لیے نکلتا ہے مگر اس کے سامنے دروازے نہیں کھلتے. ہمارے ادارے سوچ سے زیادہ فارم دیکھتے ہیں. دماغ سے زیادہ سفارش دیکھتے ہیں. اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹیلنٹ باہر ملکوں میں چلا جاتا ہے. یہاں نام نہیں بنتا. وہاں تاریخ بن جاتی ہےہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ٹیلنٹ چلنے کے لئے ماحول چاہتا ہے. کوئی بھی ہنر اس وقت تک زندہ نہیں رہتا جب تک اسے موقع نہ ملے. ہمارے یہاں مقابلہ ٹیلنٹ کا نہیں بلکہ خاندانوں کا ہوتا ہے. یہاں قابلیت سے زیادہ چہرہ دیکھا جاتا ہے. اور کردار سے زیادہ واسطہ دیکھا جاتا ہےدنیا میں بڑے بڑے لوگ صرف اسی وجہ سے کامیاب ہوئے کہ انہیں سننے والے ملے. انہیں حوصلہ دینے والے ملے. انہیں غلطی کرنے کی اجازت ملی. یہاں غلطی ہوتی ہے تو مذاق بنتا ہے. یہاں کامیابی ملتی ہے تو حسد پیدا ہوتا ہے. یہاں ٹیلنٹ محنت سے جیتنے کی کوشش کرتا ہے مگر ماحول اسے ہارنے پر مجبور کرتا ہےہمارے معاشرے میں کھیل کا ٹیلنٹ میدان نہیں پاتا. آرٹسٹ کو مقام نہیں ملتا. لکھنے والا استادوں میں کھو جاتا ہے. سوچنے والا نظام میں دب جاتا ہے. اور اختراع کرنے والا سرمایہ نہ ہونے کے سبب ختم ہو جاتا ہے. اسی لیے ہم کہتے ہیں ٹیلنٹ کی قدر نہیں. کیونکہ اس کی کہانی شروع ہوتی ہے مگر انجام تک نہیں پہنچتی اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہےحل یہ ہے کہ ہم سوچ بدلیں. ہم خاندان سے اوپر قوم کو رکھیں. ہم ڈگری سے پہلے قابلیت دیکھیں. ہم تعلق سے پہلے کردار دیکھیں. ہم نوجوانوں کو سنیں. ان پر ہنسنے کے بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہوں. اگر ایک نوجوان موبائل پر بیٹھ کر کچھ بنانا چاہتا ہے تو اس کا کہنا نہ لے کہ یہ وقت ضائع کر رہا ہے. اگر کوئی لڑکی کچھ نیا سیکھنا چاہتی ہے تو اسے روکنے کے بجائے راستہ دو. اگر کوئی لڑکا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے ناکامی کا سبق نہ دو بلکہ کوشش کا حوصلہ دو
ٹیلنٹ تب پھلتا ہے جب معاشرہ اسے کھاد دیتا ہے. جب گھر والے اس پر یقین کرتے ہیں. جب استاد راستہ دکھاتے ہیں. جب معاشرتی نظام اس کو آگے بڑھنے دیتا ہے. اور جب لوگ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں یاد رکھو. ٹیلنٹ کمیاب نہیں. اسے پہچاننے والے کمیاب ہیں. ہمارے ملک میں مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی کا نہیں. مسئلہ ٹیلنٹ کی بے قدری کا ہے. اور جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی. یہ معاشرہ آگے نہیں بڑھے گاآخر میں بس اتنا کہوں گا
قومیں ٹیلنٹ سے بنتی ہیں. اور ٹیلنٹ حوصلے سے بنتا ہے. اس لیے اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی دیواروں پر پوسٹر بدلنے سے زیادہ ذہن بدلنے کی ضرورت ہے
تحریر: عبدالستار نظامِ پاکستان
03068613849