گرین لینڈ پرقبضہ کرنےکی امریکی کوششیں

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com
گرین لینڈ پرقبضہ کرنے کی امریکی کوششیں
امریکی صدرنے کافی عرصہ سے گرین لینڈ پر نظر یں جمائی ہوئی ہیں۔گرین لینڈ خاصہ قیمتی جزیرہ ہے اور محل وقوع کے لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔اصل اہمیت اس کی بے پناہ دولت ہے،جو کہ قیمتی معدنیات کی صورت میں اس جزیرے پر پائی جاتی ہے۔امریکی صدرنے یہ بہانہ بنا کر کہ چین یہاں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے،گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خود مختار جزیرہ ہے۔یہاں پائی جانے والی قیمتی معدنیات امریکی صدر کی لالچ میں اضافہ کر رہی ہیں۔یہ ایک برفانی جزیرہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں برف پگھل رہی ہے۔مشکل سےہی سہی، یہاں سے دولت کاحصول ہو سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت(AI) سے بنائی گئی ایک تصویر سوشل ٹرتھ پر اپنے اکاؤنٹ میں شیئر کی ہے،جس میں دکھایا گیا ہے کہ امریکی صدر گرین لینڈ پر امریکی پرچم لہرا رہاہے اور گرین لینڈ کو امریکی حصہ بتایا گیا ہے۔اس تصویر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چند دوسرے بھی موجود ہیں۔سوشل ٹرتھ پر شیئر ہونے والی یہ تصویر وضاحت کرتی ہے کہ امریکہ نے گرین لینڈ پر کنٹرول کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔عالمی طور پر ٹرمپ کے اس عمل پر سخت رد عمل بھی دیا جا رہا ہے۔ڈنمارک کے ہزاروں شہری گرین لینڈ کے تحفظ کے لیے نکل پڑے ہیں۔کوپن ہیگن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔امریکی صدر کے گرین لینڈ کے متعلق بیانات کے بعد یورپی ممالک نے ڈنمارک کی خود مختاری کی حمایت کرتے ہوئے محدود فوجی تعیناتی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور نیدر لینڈ نے ایک ایک،جبکہ فن لینڈ،ناروے اور سویڈن نے دو دو فوجی ارکان گرین لینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح فرانس نے پندرہ اور جرمنی نے تیرہ فوجی تعنیات کیے ہیں۔ڈنمارک کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کے تقریبا 37 فوجی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔یورپی یونین سمیت کئی ممالک امریکہ کے اس عمل پر سخت تنقید کر رہے ہیں،کیونکہ ایسا عمل کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی جنگی طیارے گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈے پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوراڈ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگی طیارے جلدہی گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈے پر پہنچ جائیں گے۔امریکی جنگی طیارے، ہو سکتا ہے کسی اور مقصد کے تحت بھیجے گئے ہوں لیکن امریکی صدر کے بیانات کےبعد خطرہ بڑھ گیا ہے۔ڈنمارک اگر اکیلا امریکہ کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہے تو مشکل ہے کہ چند دن تک مقابلہ کر سکے۔اتحادی نہیں چاہیں گے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے اس لیے اتحادیوں کی طرف سے امریکہ کے سامنے مزاحمت کی جائے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور ڈنمارک کا ذاتی مسئلہ کہہ کر کسی قسم کی کاروائی میں حصہ نہ لیا جائے۔اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ڈنمارک پر حملہ ہو سکتا ہے یا کوئی اور طریقہ استعمال کیا جائے گا؟یہ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے کیونکہ امریکی صدر کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم گرین لینڈ کو قیمتا خریدیں گے۔ڈنمارک کی عوام احتجاج کر رہی ہے کہ ہم برائے فروخت نہیں ہیں۔گرین لینڈ کی عوام کو اچھی طرح علم ہے کہ ان کے پاس قیمتی خزانے موجود ہیں اور معمولی سی رقم کی عوض ان کو خریدنے کی بات کی جا رہی ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی معدنیات میں حصہ دیا جائے،اس طرح کم قربانی دے کر بڑی مصیبت سے بچا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے دوسرے ممالک کی خلاف بھی ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے جو اس عمل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق ان پر بھاری ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ امکان ہے کہ روس یا چین ڈنمارک کی مدد کے لیے موجود ہو۔چین یا کسی دوسرے ملک کی شمولیت سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ نیٹو اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔جتنے بھی اتحادی ممالک ہیں،وہ لازمی طور پر امریکہ مخالف بلاک میں چلے جائیں گے۔امریکی مخالف بلاک اگر مضبوط ہو جائے تو امریکہ بطور سپر پاور نہیں رہے گا۔اس لیے امریکہ کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ ایسا حل نکالا جائے جو امریکہ کی پریشانیوں میں اضافہ نہ کرے۔پریشانیاں تو ضرور ہوں گی کیونکہ ایک آزاد ملک پر یا اس کے کسی حصے پر قبضہ کرنا ناقابل برداشت ہے۔بہرحال امریکی صدر کے بیانات واضح کر رہے ہیں کہ گرین لینڈ پر قبضے کا خیال آسانی سے نہیں ختم ہوگا۔برطانیہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے امریکی صدر کے خلاف بیانات دیے جا رہے ہیں اور یہ بیانات امریکہ کے لیے بھی وارننگ بھی ہوں گےکہ گرین لینڈ پر قبضہ آسانی سے نہیں ہوگا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ کے خلاف ایک علیحدہ مضبوط اتحاد وجود میں آجائے،جو امریکہ کو مشکلات میں پھنسا دے۔اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ کچھ دن قبل کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے چین کا دورہ کیا اور نیو ورلڈ آرڈر کا ذکر بھی کیا۔نیو ورلڈ آرڈر کی طرف سنجیدگی سے کوشش امریکہ کو بہت ہی کمزور کر دے گی۔اگر جائزہ لیا جائے تو گرین لینڈ پر قبضہ آسان نہیں ہوگا،لیکن امریکی صدر کے ارادے بھی آسانی سے ختم نہیں ہو سکتے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ گرین لینڈ کی معدنیات میں کچھ حصہ امریکہ کو بھی دے کر حل نکالا جا سکتا ہے۔اس پرسنجدگی سے سوچنا چاہیے کہ امریکہ کب تک دوسرے ممالک پر اپنی من مانیاں کرتا رہے گا؟عالمی طور پر امریکہ کے خلاف سخت اشتعال بھی پایا جاتا ہے،کیونکہ بے شمار ممالک اپنی پالیسیاں امریکی ہدایات کے مطابق بناتے ہیں اور وہ پالیسیاں عوام کی تکالیف میں اضافہ کرتی ہیں۔