عالمی امن کی ضرورت

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

اس وقت عالمی بے چینی میں بہت تیزی سے اضاف ہو رہا ہے۔جو طاقتور ہیں وہ کمزوروں کو دبا رہے ہیں بلکہ طاقتوروں نے کمزوروں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔کمزوروں سے زندہ رہنےکاحق بھی چھینا جا رہا ہے۔کئی ممالک کو نشانہ بنا لیا گیا ہے اور کئی ممالک کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔کئی ایسے ممالک ہیں جن سے زبردستی دولت چھینی جا رہی ہے اور کہیں زمین کی وجہ سے انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ امت مسلمہ کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔امت مسلمہ کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی وجہ نااتفاقی ہے۔اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔عراق، افغانستان،غزہ،شام کے علاوہ دیگر کئی ممالک بدترین صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ کئی غیر اسلامی ممالک بھی نشانہ بن چکے ہیں اور کچھ نشانہ بننے والے ہیں۔یوکرین بھی کافی عرصہ سے حالت جنگ میں ہے۔وینیز ویلا بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔وینیز ویلا کی دولت امریکہ کنٹرول کرچکا ہے۔گرین لینڈ پر بھی قبضہ کرنے کے اعلانات کیے جا چکے ہیں۔عالمی بدامنی بہت ہی بے چینی پیدا کر رہی ہے اور جو بے چینی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں، ان کو کسی کا ڈر یا خوف محسوس نہیں ہوتا۔یہ واضح رہے کہ ڈر اور خوف کے علاوہ اخلاقیات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔کہنے کو تو ایک ادارہ’اقوام متحدہ’کے نام پر موجود ہے،لیکن یہ صرف طاقتوروں کی مانتا ہے۔عالم اسلام کے پاس بھی ایک ادارہ’اوآئی سی’کے نام پر موجود ہے،لیکن اس کی ویلیو بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔عالمی امن کے لیے ایک مضبوط ادارے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی طاقتور کو روکا جا سکے۔اگر طاقتور کو روکا نہ جا سکے تو عالمی بدامنی پھیل جاتی ہے۔
ماضی کی نسبت اس وقت حالات بہت ہی خطرناک ہیں۔ماضی میں محدود جنگیں لڑی جاتی تھیں اور نقصانات بھی محدود تھے۔اب ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور دور دراز کے علاقوں تک بھی آسانی سے حملہ کر دیا جاتا ہے۔جدید سے جدید ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں،بلکہ ایٹم بم جیسا خطرناک ہتھیار بھی دنیا میں موجود ہے جو کہ کم وقت میں بڑی بربادی پھیلا سکتا ہے۔ایٹمی قوت کا استعمال بہت بڑی تباہی پھیلا سکتا ہے اور دنیا کو خوف بھی اسی بات کا ہے کہ اگر بہت زیادہ ایٹم بم استعمال کر لیےگئے،تو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پوری دنیا تباہ ہو جائے۔دنیا کو ان خطرات سے بچانے کے لیے کمزور ممالک کو بھی آگے بڑھنا ہوگا،ورنہ ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔اگر ایٹم بم استعمال نہ بھی ہو تو پھر بھی بھاری ہتھیار بہت بڑی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔حالیہ دور میں کسی بھی علاقے میں اگر جنگ شروع ہو جائے تو اس کے اثرات کم از کم ایک درجن ممالک تک لازمی پہنچتے ہیں۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا کچھ نہ کچھ اس جنگ سے متاثر ہو سکتی ہے۔اتحاد کے نام پر بھی جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور یہ اتحاد اس لیے کیا جاتا ہے کہ کسی سے دولت چھین لی جائے یاکسی کی زمین پر قبضہ کر لیا جائے یا اس علاقے کی عوام کو غلام بنا لیا جائے۔لالچ کے لیے بہت بڑی تباہی پھیلا دی جاتی ہے اور بے شمار انسان قتل کر دیے جاتے ہیں۔
کئی ممالک پر نام نہاد الزامات لگا کر حملے کر دیے جاتے ہیں۔ان الزامات کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات ہیں۔مثال کے طور پر افغانستان پر دہشتگردی کے نام پر حملہ کیا گیا،عراق پر ایٹمی صلاحیت کےحصول کے نام پر حملہ کیا گیا،ایران پر بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کے نام پر حملہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔وینیز ویلا کے صدر کو اس لیے اغوا کیا گیا کہ وہ منشیات فروشی میں ملوث ہے۔روس بھی یوکرین پر حملہ کر رہا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔کسی ملک کا امن تباہ کرنے کے لیے حملہ کسی صورت جائز نہیں کہا جا سکتا۔اگر ایک ملک ظلم کر رہا ہے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے،لیکن افسوس کہ طاقتور کا ساتھ دیا جاتا ہے۔اسرائیل غزہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے اور مزید بھی پہنچا رہا ہے،لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔اس موقف کوتسلیم کرنا ضروری ہے کہ کئی غیر مسلم طاقتیں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کی مذمت بھی کر رہی ہیں اور اس کے خلاف ایکشن بھی لے رہی ہیں،لیکن اسرائیل کو بہت بڑے ممالک کی مدد حاصل ہے اس لیے اس کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا۔عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور طاقتور کے خلاف جنگ کی جائے۔
اس وقت دنیا میں کمزور طاقتیں بہت ہی پریشانی کا شکار ہو چکی ہیں۔چین کے ساتھ بھی جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور تیسری دنیا کا امن تو کافی عرصے سے خطرےسےدو چار ہو چکا ہے۔امت مسلمہ کےکئی ممالک خطرات سے دو چار ہو چکے ہیں۔امت مسلمہ میں اگر اتحاد پیدا ہو جائے تو دنیا میں امن آسکتا ہے۔کئی ممالک اتحاد کرنے کے لیے تیار ہوں گے،کیونکہ ان کو بھی بقا کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔اس وقت جو ممالک کمزور ہیں،وہ طاقتوروں کی کالونیاں بن چکے ہیں۔اگر امن کے لیے نہ سوچا گیا تو مستقبل بہت ہی بھیانک ثابت ہو سکتا ہے۔طاقتور ممالک بھی تباہی سے دوچار ہو سکتے ہیں اگر وہ باز نہ رہے۔طاقتور ممالک بھی کسی کمزور ملک کا نشانہ بن سکتے ہیں،کیونکہ ایک اصول ہے کہ اپنی بقا اگر کسی کو خطرے میں نظرآئے تو وہ پلٹ کر حملہ بھی کر سکتا ہے۔آج کل کے دور میں ہر ملک اپنی سلامتی کے لیے اسلحہ اکٹھا کر رہا ہے اور اس اسلحہ میں ایٹمی اسلحہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔جنگ کی صورت میں بھاری روایتی ہتھیار استعمال کر لیے جائیں یا ایٹمی ہتھیار،کسی بھی طاقتور مملک کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ماضی میں بڑی بڑی طاقتیں کمزور طاقتوں سے مار کھا گئیں اور ان طاقتوں کا نام و نشان تک باقی نہ ہی رہا۔کمزور ممالک اپنی سلامتی کے لیے متحد ہو جائیں تو امن کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔اسلامی ممالک بھی متحد ہو جائیں تو ایک نئے دور کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔اس وقت عالمی طور پر امن کی ضرورت ہے،اگر امن کے بارے میں نہ سوچا گیا تو دنیا کی سلامتی بھی خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔عالمی امن ضروری ہے لیکن اس کے لیے قربانیاں دینا پڑیں گی۔عالمی امن کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔کوئی ظالم کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ظالم زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔جو طاقت ظلم کر رہی ہیں اس کے ظلم کو چیلنج کرنا ہوگا تاکہ انسان اخلاقیات کے تابع اپنی زندگیاں گزار سکیں۔