ایک خبر نہیں، ایک اور زخم

تحریر: سلمان احمد قریشی

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں کی امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش حملہ محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں، یہ ریاستِ پاکستان، اس کے شہریوں، ہمارے سماج اور اجتماعی شعور پر ایک بھرپور حملہ ہے۔ 33 قیمتی جانوں کا ضائع، 162 افراد کا زخمی ہونا، ماؤں کی اجڑی گودیں، بچوں کا یتیم ہو جانا اور عبادت گاہ کا خون میں نہا جانا ہمیں ایک بار پھر اس تلخ سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ آخر ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔۔؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس سفاک حملے کے چار سہولت کار گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ داعش کے افغان ماسٹر مائنڈ کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جا چکا ہے۔ پشاور اور نوشہرہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران وطن کا ایک اور بیٹا شہید اور تین زخمی ہوئے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو اکثر سرخیوں میں جگہ نہیں پاتیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی بقا انہی گمنام شہیدوں کے خون سے جڑی ہوتی ہے۔
عالمی برادری نے، جن میں چین، امریکا، روس، یورپی یونین، ایران، افغانستان اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں، اس حملے کی مذمت کی اور پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ یہ سب اپنی جگہ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض مذمتیں اور بیانات اس آگ کو بجھا سکتے ہیں جس میں پاکستان دہائیوں سے جل رہا ہے۔۔؟
دہشت گردی کا واقعہ ایک خبر نہیں مسلسل زخم ہے۔پاکستان دہشت گردی کی ایک طویل اور خونی تاریخ رکھتا ہے۔ اے پی ایس پشاور، داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی، کوئٹہ میں ہزارہ برادری، مساجد، امام بارگاہیں کوئی جگہ محفوظ نہ رہی۔ قوم نے بہت کچھ برداشت کیامگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان بنا، عسکری اداروں نے بے مثال قربانیاں دیں مگر مسئلہ آج بھی وہیں کھڑا ہے، کیونکہ قومی یکجہتی کا فقدان ہے۔جب دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر بھی ہم متحد نہ ہو سکیں تو دشمن کو راستہ خود بخود مل جاتا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر کیا ریاست کی سلامتی بھی متنازع بنائی جا سکتی ہے۔۔؟
سیاست کی الجھنیں اور متضاد بیانیہ قابل غور ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں ایسے بیانات اور فیصلے سامنے آئے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا یہ کہنا کہ طالبان پنجاب میں کارروائیاں نہ کریں آج بھی ایک کڑوی یاد کے طور پر موجود ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی قیادت کے طالبان سے مذاکرات، افغانستان سے متعلق غیر واضح مؤقف، اور بعض مواقع پر دہشت گردوں کوگمراہ بھائی قرار دینا یہ سب وہ رویے ہیں جنہوں نے ریاستی بیانیے کو نقصان پہنچایا۔ ترلائی کلاں دہشت گردی کے واقعہ پر وفاقی وزیر عطاء تارڑ کاپی ٹی آ ئی کو الزام دینا الجھنیں بڑھتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق سے نہیں، واضح اور دو ٹوک مؤقف سے جیتی جاتی ہے۔ جب سیاست دان کنفیوژن پیدا کریں تو دشمن مضبوط اور ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔
اگر ہم پس منظر میں جائیں تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نفرت، انتہاپسندی اور تقسیم اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہب کو ریاستی سرپرستی میں سیاست اور جنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ افغان جہاد کے نام پر اسلحہ، نظریہ اور شدت پسندی کو معاشرے میں داخل کیا گیا، فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور سماج کوہم اوروہ میں بانٹ دیا گیا۔بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کا دور آیا۔ ایک طرف روشن خیال اعتدال کا نعرہ، دوسری طرف پرانے نیٹ ورکس، ڈبل گیم اور امریکی جنگ کا حصہ بننے کے نتائج سامنے آئے۔ فاٹا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان آگ میں جھلستے رہے۔ یہ دونوں ادوار اپنے اپنے انداز میں اس بحران کے ذمہ دار ہیں جس کی قیمت آج بھی قوم ادا کر رہی ہے۔
آخری سوالحل کیا ہے۔۔؟حل کسی آپریشن، کسی ایک بیان یا کسی ایک حکومت میں نہیں۔ حل ایک سچے قومی مکالمے میں ہے۔واضح قومی بیانیہ اور اس پر عملدرآمد میں ہے۔اچھے اور برے طالبان کی بحث کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا۔تمام سیاسی جماعتوں کو کم از کم نکات پر اتفاق کرنا ہوگا۔سیاست اپنی جگہ مگر ریاست سب سے پہلے ہے۔افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کا ابھرنا ایک سنگین خطرہ ہے، جس پر دو ٹوک مؤقف ناگزیر ہے۔انتہاپسندی کی فکری بیخ کنی، مدارس، نصاب، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کے خلاف سنجیدہ اور عملی کارروائی ضروری ہے۔شہداء کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
ترلائی کلاں کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی، اور شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک ہماری باہمی تقسیم ہے۔ جب تک ہم ایک قوم بن کر فیصلہ نہیں کریں گے، دشمن ہمیں بانٹتا رہے گا۔
یہ وقت مذمت سے آگے بڑھنے کا ہے۔یہ وقت یکجہتی، سچائی اور جراتِ فیصلہ کا ہے۔ورنہ خدانخواستہ ہر چند ماہ بعد کوئی اور امام بارگاہ، کوئی اور مسجد، کوئی اور بازاراور ہم پھر یہی سوال دہراتے رہیں گے آخر کب تک۔۔؟
اور المیہ یہ ہے کہ اسی دوران بسنت کے رنگ سجے رہے۔ لاہور میں پتنگوں کی ڈوریں کٹتی رہیں، تفریح، ناچ گانا اور ہلہ گلہ جاری رہا۔ میڈیا پر قومی سانحے کے بجائے بسنت کوریج کی میراتھن ریس جاری رہی۔ ایک طرف لہو سے تر مسجد، دوسری طرف صوبائی وزراء پتنگ بازی میں مصروف رہے۔شاید یہی ہماری اصل شکست ہے۔