خوشیوں سے ماتم تک: دعوتِ ولیمہ سے واپسی پر ایک ہی خاندان کی اجڑتی دنیا
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*زندگی کبھی کبھار ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں خوشیوں کی روشنی ایک لمحے میں اندھیروں میں بدل جاتی ہے۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قصبہ رجانہ کی کچی آبادی میں بھی کچھ ایسا ہی دل دہلا دینے والا منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب بیٹی کی شادی کی خوشیاں منانے والا ایک خاندان واپسی پر المناک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہی گھر کے چار چراغ گل ہو گئے رجانہ کی کچی آبادی کا رہائشی عبدالشکور چوہان اپنی اہلیہ رضیہ بی بی، بیٹیوں اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ ملتان میں اپنی بیٹی کی دعوتِ ولیمہ میں شرکت کے بعد کیری ڈبہ کے ذریعے واپس آ رہا تھا۔ ابھی خاندان کی خوشیوں کی باتیں ختم بھی نہ ہوئی تھیں کہ موٹروے ایم فور پر عبدالحکیم کے قریب ان کی گاڑی اچانک خراب ہو کر سڑک کنارے کھڑی ہو گئی۔ اس نازک لمحے میں احتیاط اور حفاظتی اقدامات کی کمی ایک قیامت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔عینی شاہدین کے مطابق اسی دوران پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار مسافر بس نے کھڑی وین کو بری طرح ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور چیخ و پکار نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا۔ حادثے کے نتیجے میں عبدالشکور کی اہلیہ رضیہ بی بی، بیٹی فاطمہ، نواسی سمیت چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ عبدالشکور خود، نوبیاہتا بیٹی اور دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں نوبیاہتا دلہن سمیت بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے اور ان کے علاج معالجے کا سلسلہ جاری ہے۔حادثے کی خبر جب رجانہ پہنچی تو خوشیوں سے سجا گھر آہوں اور سسکیوں میں بدل گیا۔ ایک ہی خاندان کی چار میتیں جب آبائی علاقے پہنچیں تو پورا قصبہ سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ آخر ایک لمحے کی غفلت نے کتنی زندگیاں نگل لیں۔ مرحومین کی نمازِ جنازہ بڑی تعداد میں اہل علاقہ، رشتہ داروں اور دوست احباب کی موجودگی میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔یہ المناک سانحہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موٹرویز پر خراب گاڑیوں کے لیے حفاظتی اقدامات، وارننگ سگنلز اور تیز رفتار ٹریفک کی نگرانی کس قدر ناگزیر ہے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ کسی اور گھر کا چراغ اس طرح بے وقت نہ بجھے۔رجانہ کی کچی آبادی آج بھی اس حادثے کے صدمے سے نہیں سنبھل سکی۔ جہاں کل تک شادی کی خوشیاں تھیں، وہاں آج خاموش قبریں اور نم آنکھیں اس المیے کی گواہی دے رہی ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔*








