سینیٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ترمیمی بل منظور

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*اسلام آباد: سینیٹ نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق اہم ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں صحافیوں کو اظہارِ رائے کی آزادی کے مؤثر تحفظ، جان و مال کی سلامتی اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران درپیش خطرات سے بچانا ہے۔ اس قانون کو آزادیٔ صحافت کے فروغ کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ترمیمی بل کے مطابق اظہارِ رائے سے مراد معلومات کو نشر اور شائع کرنے کا بنیادی حق ہے، جسے آئینِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی صحافی کو محض اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے یا اظہارِ رائے کی آزادی استعمال کرنے پر ہراساں، تشدد یا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔بل کے تحت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک بااختیار کمیشن قائم کیا جائے گا جس کا چیئرپرسن ہائی کورٹ کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج، یا جج بننے کی اہلیت رکھنے والا ایسا شخص ہوگا جس کے پاس کم از کم پندرہ سالہ قانونی پریکٹس کا تجربہ ہو، بالخصوص انسانی حقوق اور صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے نمایاں مہارت رکھتا ہو۔ترمیمی بل میں یہ بھی درج ہے کہ کمیشن کے چیئرپرسن اور ممبران کا تقرر وفاقی حکومت کرے گی، جبکہ چیئرپرسن اور ہر رکن کی مدتِ تعیناتی تین سال ہو گی، جس میں کسی قسم کی توسیع نہیں دی جائے گی، تاکہ کمیشن کی غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔بل کے مطابق کمیشن نہ صرف صحافی بلکہ اس کے ساتھیوں، اہلِ خانہ، بیوی، زیرِ کفالت افراد اور قریبی رشتہ داروں کے تحفظ کا بھی ذمہ دار ہوگا، اگر ان کو صحافی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں یا اظہارِ رائے کی آزادی کی وجہ سے نشانہ بنایا جائے۔مزید برآں، کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ صحافی کی پراپرٹی، ذاتی اشیاء، میڈیا گروپ، تنظیم یا کسی سماجی تحریک کو بھی تحفظ فراہم کرے، اگر انہیں کسی خطرے یا حملے کا سامنا ہو۔ترمیمی بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران کسی بھی شخص کو صحافی کے خلاف پرتشدد رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کوئی شخص صحافی پر حملہ کرتا ہے یا تشدد کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اسے سات سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔اسی طرح، بل میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ کسی صحافی پر معلومات کے ذرائع ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا غیر قانونی ہوگا۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ صحافی کو اس بات پر مجبور کرتا ہے تو اسے تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس ترمیمی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اس بل پر مؤثر عملدرآمد ہی اس کی اصل کامیابی کا معیار ہوگا۔*