قومی سوچ کی تشکیل اور مضبوط پاکستان
تحریر: سلمان احمدقریشی
ملکی سیاست میں حکومتی کارکردگی کو بنیاد بنا کر صوبوں، شہروں اور خطوں کے درمیان مقابلہ، موازنہ اور بیان بازی اب ایک خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ ابتدا شاید کارکردگی بہتر بنانے کے دعوؤں سے ہوئی ہو، مگر اب یہ رجحان تعمیری مکالمے سے نکل کر تعصب، نفرت اور مزید تقسیم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کراچی کا لاہور سے، سندھ کا پنجاب سے موازنہ محض سیاسی جملہ بازی نہیں رہا بلکہ ایک باقاعدہ ذہنی مہم بن چکا ہے جس کے اثرات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
اگر واقعی مقصد مثبت سوچ کو فروغ دینا اور گورننس کو بہتر بنانا ہے تو پھر یہ مقابلہ صرف سندھ اور پنجاب کے درمیان کیوں۔۔؟ کراچی اور لاہور کے ساتھ پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد اور حیدرآباد کیوں اس بحث میں شامل نہیں۔۔؟ اسی طرح پنجاب کے اندر ہی ترقی کا موازنہ صرف لاہور تک محدود کیوں رکھا جاتا ہے۔۔؟ کیوں نہ لاہور کی ترقی کو رحیم یار خان، بہاولنگر، ڈی جی خان، لیہ، تونسہ، وہاڑی، ساہیوال اور اوکاڑہ جیسے اضلاع کے ساتھ پرکھا جائے۔۔؟ اگر واقعی پنجاب میں یکساں ترقی ہوئی ہے تو پھر گزشتہ دس برسوں میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں لگنے والے فنڈز، منصوبوں اور وسائل کا تقابلی جائزہ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا۔۔؟
اس سوال کا ایک روایتی جواب فوراً دیا جاتا ہے کہ لاہور ایک بڑا شہر ہے۔ اس کا موازنہ چھوٹے شہروں سے نہیں بنتا۔ اگر اس منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کراچی کا لاہور سے موازنہ کس بنیاد پر درست قرار دیا جاتا ہے۔۔؟ آبادی، وسائل، مسائل، سماجی ساخت، ثقافتی تنوع، شہری آبادی میں لسانی تقسیم، ماضی کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی قیادت اور جغرافیائی اہمیت ہر پہلو سے کراچی اور لاہور دو بالکل مختلف حقیقتیں ہیں۔کراچی ایک انٹرنیشنل سٹی ہے، خطے میں اس کی اہمیت دبئی اور ممبئی کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے عالمی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ کراچی کو علاقائی اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی سے الگ کر کے دیکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ دوسری طرف لاہور کا سیاسی مینڈیٹ طویل عرصے سے ایک جماعت بلکہ ایک ہی خاندان کے گرد گھومتا رہا ہے، جب کہ کراچی کو عالمی سازشوں، لسانی تقسیم، دہشت گردی، مردم شماری کے مسائل اور پورے ملک سے روزگار کے لیے آنے والی عارضی آبادی جیسے پیچیدہ عوامل کا سامنا رہا ہے۔
صوبہ سندھ میں دیہی اور شہری تقسیم محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ لسانی بنیادوں پر پروان چڑھائی گئی وہ سوچ ہے جس کے پیچھے دہائیوں کی منفی ذہنیت، شر انگیزی، دہشت گردی اور اقتدار کے بھوکے کرداروں کی مکمل سرپرستی شامل رہی ہے۔ ان تمام محرکات کو نظر انداز کر کے صرف سڑکوں اور عمارتوں کی بنیاد پر کامیابی کے دعوے کرنا انتہائی سطحی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر ہے۔
سندھ اور پنجاب میں موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز کی تعمیر و بہتری میں عدم توازن، سندھی کلچر کے خلاف بیانیہ اور کراچی کو دانستہ نظر انداز کرنے کی روش یہ سب وہ تلخ حقائق ہیں جن پر بات کرنا شاید کچھ لوگوں کے لیے ناگوار ہومگر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کی منتخب قیادت سے سیاسی اختلاف ایک جمہوری حق ہے مگر اسے مسلسل ناکام قرار دینا دراصل سندھی عوام کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ اگر سندھ کی عوام جس جماعت کو ووٹ دیتی ہے وہ نااہل ہے تو پھر سوال قیادت کے ساتھ ساتھ عوام کے شعور پر بھی اٹھتا ہے اور یہ سوچ جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔انتظامی تقسیم کے معاملے پر بھی دوہرا معیار واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب کی آبادی اور سندھ کی آبادی میں واضح فرق کے باوجود پنجاب کی انتظامی تقسیم کو مثال بنا کر سندھ کی لسانی بنیادوں پر تقسیم کی بات کرنا عقل و شعور سے ماورا ہے۔ جب سندھ کی آبادی 12 کروڑ تک پہنچے گی تو انتظامی یونٹس پر بات کی جا سکتی ہے، اس سے پہلے پنجاب میں اس ماڈل پر مکمل عملدرآمد کیوں نہیں کیا جاتا؟
اس پورے منظرنامے میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم بلکہ تشویشناک ہے۔ کراچی کے مسائل پر محض خبریں نہیں بلکہ ایک منفی مہم چلائی جاتی ہے۔ لاہور یا پنجاب کا معاملہ ہو تو خبر کو صرف خبر کی حد تک رکھا جاتا ہے بلکہ اکثر اس میں سے مثبت پہلو بھی کشید کر لیا جاتا ہے۔ قصور میں کمسن بچی زینب کے کیس میں قاتل کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ کا متاثرہ خاندان کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر تالیاں بجوانا میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہا۔ حال ہی میں لاہور کے ایک ہوٹل کے کچن میں آگ لگنے سے تین قیمتی جانیں ضائع ہوئیں مگر اس سانحے کو بھی بہترین حکومتی کارکردگی کے بیانیے میں لپیٹ دیا گیا۔
اسی طرح حادثات کے معاملے میں بھی دوہرا معیار واضح ہے۔ کراچی میں ڈمپر یا واٹر ٹینکر کا حادثہ ہو تو ذمہ داری مافیا، حکومت اور لسانی شناخت پر ڈال دی جاتی ہے، جب کہ کوٹ ادو میں لیہ روڈ پر ٹریلر کے حادثے میں 10 سے 16 سال کے پانچ طالب علم جاں بحق ہو جائیں تو اسے محض حادثہ قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ وہاں ڈرائیور کی قومیت زیر بحث نہیں آتی تو کراچی کے لیے یہ رویہ کیوں مختلف ہونا چاہیے؟
کراچی میں بچے گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو شور اٹھتا ہے اور ہونا بھی چاہیے مگر یہی سانحہ لاہور میں پیش آئے تو بیانیہ بدل جاتا ہے۔ بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون اور بچی کے واقعے کو جس طرح دبانے کی کوشش کی گئی وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تاثر کی سیاست انسانی جانوں سے زیادہ اہم بنا دی گئی ہے۔
ملک کو آج جس بحران نے جکڑ رکھا ہے وہ صرف گورننس کا نہیں بلکہ قومی سوچ کی تشکیل کا بحران ہے، جہاں کارکردگی کو بہتر بنانے کے بجائے اسے سیاسی ہتھیار بنا کر صوبوں، شہروں اور قومیتوں کے درمیان نفرت انگیز موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی نیت اصلاح اور بہتری کی ہے تو پھر منفی مقابلہ بازی کی حوصلہ شکنی ناگزیر ہے۔ سڑکیں، عمارتیں اور اشتہاری ترقی کسی قوم کی کامیابی کا پیمانہ نہیں ہوتیں، اصل ترقی وہ ہے جو عام آدمی کو روزگار، تحفظ، انصاف اور عزت فراہم کرے۔ کراچی ہو یا لاہور، پشاور ہو یا کوئٹہ، ہر شہر اپنے مسائل، تاریخ اور سماجی ساخت کے ساتھ جیتا ہے، اسے دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا دراصل قومی وحدت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکردگی کو موازنوں کی جنگ نہیں بلکہ عوامی فلاح کے ٹھوس نتائج سے جانچیں، اور ایسی سوچ کو فروغ دیں جو تقسیم نہیں بلکہ یکجہتی پیدا کرے کیونکہ مضبوط پاکستان کا راستہ صوبوں کی نفی سے نہیں بلکہ برابر کے احترام اور منصفانہ ترقی سے ہو کر گزرتا ہے۔









