خاموش رہ کر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ موت نہیں ائے گی

تحریر ! سید شاکر علی شاہ

دنیا میں ہر اس عمل کو دہشت گردی کہا جاتا ہے جس میں انسانیت کی تذلیل ہو بے قصور لوگوں کی جانیں جائیں ؟
خاموش رہنے والے باشعور لوگوں سے میرا سوال ہے کون نہیں جانتا بسنت کے موقع پر بہت سی جانیں جاتی ہیں اس شوق کی نظر بہت سے معصوم لوگوں کی گردنیں کٹی ہیں اور ایسا ہی عمل اپ نے اس بسنت ڈرامے میں بھی دیکھا ہوگا جس میں میرے ایک صحافی بھائی کی بھی جان گئی ہے
اب یہ مہنگی ڈور اور گڈی غریبوں کے بچوں کے ہاتھ اگئی ہے جو بہت سے والدین کے لیے مشکلات کا سبب بنیں گی معصوم بچے جیلوں میں جائیں گے والدین پر بھی ایف ائی ار بنے گی اور سب سے بڑھ کر خدا نہ کرے بہت سے انسانوں کی جانیں بھی جائیں گی ؟
تو کیا یہ عمل دہشت گردی کے زمرے میں نہیں اتا ؟
بے قصور انسانوں کو مارنے کے لیے دہشت گرد تو خود بھی جہنم واصل ہوتا ہے لیکن یہ کون سی دہشت گردی ہے جو انسانوں کو مارنے کا ارڈر بھی دیا جاتا ہے اور تخت و تاج پر بھی بیٹھے ہیں ؟
اس ڈرامے کے مین کردار پنجاب پولیس والے ہیں جو ایک ایک گڈی ڈور کا خاتمہ کرتے رہے جن کی انکھوں پر پٹی اور ہاتھ پاؤں باندھ کر تین دن تماشہ لگایا گیا اور تین دن کی بریک کے بعد پھر سے یہ بیچارے کروڑوں روپے کے اشتہار لگائیں گے اور غریبوں کے بچوں کو پکڑیں گے اور ایف ائی ار بنائیں گے اور یہ ڈرامہ کئی سال چلے گا اور غریب ادمی اسی سوچ میں مارا اور پکڑا جائے گا کہ گڈی ڈور بہت مہنگی ہے اس کو سونے کی طرح سنبھال کے رکھنا ہے

بسنت کی کہانی تو ان سے پوچھو جن کے گھر سے جنازہ اٹھا ہے بے وقوف لوگ تو جان لینے والی بسنت کے بھی کامیابی کے پرچار کریں گے