اکھی دیکھی مکھی
نئی کھادی جاندی
تحریر ! سید شاکر علی شاہ
اکھی دیکھی مکھی نئی کھادی جاندی ،یہ ایک پنجابی کی کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ جانتے بوجھتے ہوئے کوئی غلط کام، نقصان دہ چیز یا مصیبت قبول نہیں کی جاتی جب کوئی بات یا چیز سامنے نظر آ رہی ہو کہ وہ خراب یا بری ہے تو انسان دانستہ طور پر اسے اختیار نہیں کرتا۔
لیکن یہ ساری باتیں اج کل کہیں دکھائی نہیں دیتی اج کل ہر کام کو قیمت کے حساب سے رکھا اور تولا جاتا ہے مکھی ہو یا رشتے دوستیاں سب اپ کی ویلیو کے حساب سے رکھی یا چھوڑے جاتے ہیں
مکھی کی کہانی کچھ یوں ہے اپ کے چائے کے کپ یا دودھ کے گلاس میں اپ کی انکھوں کے سامنے اگر مکھی گر جائے تو آپ دودھ یا چائے بدل لیتے ہیں کیونکہ انکھوں دیکھی مکھی نہیں کھائی جاتی لیکن وہی مکھی اپ کی انکھوں کے سامنے دیسی گھی کہ ڈبے میں گری ہوگی تو اپ گھی نہیں پھینکیں گے مکھی نکال کر گھی کھا جائیں گے کیونکہ ایک کپ چائے سے دیسی گھی بہت مہنگا ہے ویلیو کے حساب سے اپ مکھی بھی کھا جاتے ہیں
ایسے ہی پاکستان میں رشتوں اور دوستیوں میں ویلیو کے حساب سے تعلق رکھا جاتا ہے اپ نے اکثر دیکھا ہوگا کوئی بھی بڑا عہدےدار سب کا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے اسی عہدے دار کا بھائی اگر غریب یا مزدور ہے تو وہ دور کا رشتہ دار ہو جاتا ہے
اس کے علاوہ دوستیوں میں بھی اسی طرح کی کیفیت پائی جاتی ہے کچھ دوست کہیں چیر پر بیٹھے ہوں ایک دوست سائیکل پر ا جائے اسے چیر دینا تو دور کی بات ہے اسے کھڑے ہو کر محبت سے گلے بھی کوئی نہیں لگاتا
اور اگر ایک دوست پراڈو پر ا جائے تو سبھی اگے بڑھ کر گلے لگائیں گے محبت کا اظہار کریں گے اور سب اپنی اپنی چیئر دینے کو تیار ہو جائیں گے
یہ تو ہو گئی دنیاوی دیسی گھی کی باتیں اب چلتے ہیں مذہبی حلقوں کی طرف بہت سی مسجدوں میں اپ نے اعلان سنے ہوں گے زیادہ چندہ دیں زیادہ نیکیاں لیں اور ایسے ہی جو زیادہ پیسے دیتے ہیں ان کے کاروبار کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں یہ کبھی نہیں دیکھا جاتا اس کی انکم کا ذریعہ کیا ہے منشیات فروش کو بھی ایک ہی دعا دی جاتی ہے کہ اللہ تعالی تیرے کاروبار میں برکت عطا فرمائے جاؤ اور پورے پاکستان کو نشہ لگاؤ ؟
اب اپ لوگ مجھے بتائیں انکھوں دیکھی مکھی کو ہم کھا رہے ہیں یا نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟






