رمضان میں ریلیف یا لوٹ مار؟ پرائس کنٹرول اور احترامِ رمضان کی اصل ذمہ داری
تحریر محمد زاہد مجید انور
*رمضان المبارک برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس وقت ہے جب مسلمان عبادت، صبر، تقویٰ اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رمضان آتے ہی ایک اور پہلو بھی نمایاں ہو جاتا ہے، اور وہ ہے مہنگائی، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری۔ ہر سال یہ شکایات عام سنائی دیتی ہیں کہ رمضان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں، بازاروں میں نرخنامے محض کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسی پس منظر میں یہ بات امید افزا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ نے رمضان المبارک کے دوران پرائس کنٹرول میکنزم اور احترامِ رمضان آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد کیلئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ منور حسین کملانہ سیال کی جانب سے مقامی صحافیوں سے اہم ملاقات محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ پیغام ہے کہ اس بار رمضان میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے انتظامیہ متحرک ہے۔بازاروں میں روزانہ معائنہ: ایک مثبت قدم اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے یہ اعلان کہ روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے، یقیناً ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک بازاروں میں نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہ ہو، تب تک گراں فروش اور ذخیرہ اندوز قانون کو مذاق سمجھتے رہتے ہیں۔ نرخنامہ آویزاں ہونا ضروری ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نرخنامے پر حقیقی عملدرآمد ہو۔رمضان میں چینی، آٹا، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل اور گوشت جیسی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ معاشرتی ظلم بن جاتا ہے۔ ایسے میں ضلعی انتظامیہ کا کردار محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی خدمت کا عملی امتحان بھی ہے۔گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی: معاشرتی جرم یہ بات بالکل درست ہے کہ گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان میں زیادہ منافع کمانا بعض تاجروں کی پرانی روایت بن چکا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عام دنوں میں بھی قیمتیں بڑھاتے ہیں، مگر رمضان میں “مقدس مہینے” کو بھی کاروبار کا سنہری موقع سمجھ کر عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ اسلام میں ناپ تول میں کمی، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کو سخت ناپسند کیا گیا ہےرمضان میں جہاں ہمیں صبر، ایثار اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا درس ملتا ہے، وہاں لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا بدترین عمل ہے۔احترامِ رمضان آرڈیننس: قانون اور تہذیب دونوں کا معاملہ رمضان المبارک میں احترامِ رمضان آرڈیننس پر عملدرآمد صرف قانونی معاملہ نہیں بلکہ معاشرتی نظم و ضبط اور تہذیبی اقدار کا تقاضا بھی ہے بازاروں، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر آرڈیننس کی خلاف ورزی نہ صرف روزہ داروں کیلئے تکلیف کا باعث بنتی ہے بلکہ رمضان کے تقدس کو بھی متاثر کرتی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا اعلان اس حوالے سے قابلِ تعریف ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیمیں صرف کاغذوں میں موجود ہوں گی یا عملی طور پر میدان میں بھی نظر آئیں گی؟ کیونکہ عوام کی توقع یہی ہے کہ اس بار قوانین پر عملدرآمد محض دکھاوا نہ ہو بلکہ حقیقت میں نظر آئے میڈیا کا کردار: نشاندہی بھی، رہنمائی بھی اسسٹنٹ کمشنر منور حسین کملانہ سیال کی جانب سے صحافیوں سے تعاون کی اپیل بھی بہت اہم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتا ہے۔ گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی یا دیگر خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی کے ذریعے انتظامیہ کو کارروائی میں آسانی ملتی ہے۔تاہم میڈیا کا کردار صرف شکایات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ سرکاری نرخنامہ کیا ہے، شکایت کہاں اور کیسے درج کرنی ہے، اور اگر کسی دکاندار نے زیادتی کی تو اس کا حل کیا ہے۔ جب عوام باخبر ہوں گے تو خود بخود بازاروں میں نظم و ضبط بہتر ہوگا۔عوامی ریلیف: اعلان سے آگے عمل ضروری رمضان میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کا عزم خوش آئند ہے، مگر عوام اب صرف بیانات پر یقین نہیں کرتے۔ انہیں عملی اقدامات چاہئیں۔ اگر مارکیٹوں میں روزانہ چیکنگ ہو، ناجائز منافع خوروں پر جرمانے ہوں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مقدمات درج ہوں اور ریٹ لسٹ پر حقیقی عملدرآمد ہو تو یقیناً عام آدمی کو ریلیف ملے گااسی طرح رمضان بازاروں میں معیار، مقدار اور قیمت تینوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ بعض اوقات قیمت تو کم ہوتی ہے مگر معیار اتنا خراب ہوتا ہے کہ عوام کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ لہٰذا چیکنگ کے دوران صرف ریٹ ہی نہیں بلکہ اشیاء کے معیار کو بھی دیکھا جانا چاہیےاختتامیہ،،یہ حقیقت ہے کہ رمضان المبارک عبادت کے ساتھ ساتھ ایک بڑا سماجی امتحان بھی ہے۔ اگر اس مہینے میں انتظامیہ، تاجر، میڈیا اور عوام سب اپنی ذمہ داری پوری کریں تو یہ مہینہ حقیقی معنوں میں رحمت بن سکتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر منور حسین کملانہ سیال کی صحافیوں سے ملاقات اور رمضان میں سخت مانیٹرنگ کے اعلانات امید کی کرن ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف اجلاسوں اور بیانات تک محدود رہتے ہیں یا واقعی بازاروں میں عوام کو عملی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ رمضان میں عوام کی دعائیں بھی اسی کیلئے ہوتی ہیں کہ انہیں عبادت کے ساتھ ساتھ زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی آسانی سے مل سکیں رمضان المبارک میں عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک اور خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت پنجاب نے “رمضان نگہبان پروگرام” کے تحت غریب اور مستحق خاندانوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق فی کس 10 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بہت سے سفید پوش اور کم آمدن طبقے کیلئے رمضان کے اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر یہ امداد شفاف طریقے سے حقیقی مستحقین تک بروقت پہنچے تو یقیناً یہ پروگرام عوام کیلئے بڑا سہارا بن سکتا ہے اور رمضان میں ریلیف کے حکومتی اقدامات کو مزید مؤثر بنا دے گا*






