*پاکستانی ذخیرہ اندوزوں*
*سر پہ ٹوپی ہاتھ میں*
*تسبیح پکڑ لو*
*اداکاری کا مہینہ اگیا ہے*

*تحریر ! سید شاکر علی شاہ*

رحمتوں والا مہینہ اگیا اٹھو میرے ملک کے اداکاروں سر پر ٹوپی پہن لو ہاتھ میں تسبیح پکڑ لو اور ہمیشہ کی طرح روزے کا نام دے کر بھوک ہڑتال کرو ؟
یاد رکھو روزہ بھوکے رہنے کا نام نہیں ہے روزہ روحانی تربیت تزکیہ نفس اور تقوی کے اصول کا بہترین ذریعہ ہے
روزہ صبر شکر اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کرنے کا نام ہے

یہ مہینہ ہر سال مسلمانوں کی ظاہری و باطنی اور اخرت کی بہتری کے لیے اتا ہے لیکن ہم پاکستانی مسلمان اس مہینے کا انتظار کرتے ہیں عبادت کے لیے نہیں ذخیرہ اندوزی کے لیے ،
رزق حلال کمانے کے لیے کاروبار کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے لیکن منافع شرح کے مطابق ہو دھوکے کی نیت نہ ہو ،رمضان سے پہلے سستی قیمت پر خوردنی چیزیں اٹھا کر ذخیرہ کرنا اور رمضان اتے ہی ڈبل قیمت پر بیچ کر یہ منافع خور سر پر ٹوپی رکھ کر اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر روزہ رکھ کر نماز کی ادائیگی کرنے کے بعد بھی رمضان کا مہینہ اور عید کا تہوار سفید پوش غریب ادمی کے لیے بچوں کی خوشیوں کو پورا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بنا دیتے ہیں

ان کی اداکاری بھی بے مثال ہے سال بھر نہ بکنے والی ناقص چیزیں بھی اس مہینے اور عید پر مہنگے داموں بیچ کر غریب کو لوٹ بھی لیتے ہیں اور لائنیں لگا کر دنیا کو دکھا کر زکوۃ بھی بانٹ دیتے ہیں ؟

ہم سب یہ اداکاریاں کر کے سمجھتے ہیں لوگ اندھے ہیں اللہ بھی مہربان ہے ہماری دولت بھی بڑھتی جا رہی ہے لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا گروسری کی دکانیں کم اور میڈیکل سٹور زیادہ ،ہسپتال بڑھ رہے ہیں اور قبرستان کم پڑ رہے ہیں

اس رزق سے اولاد پڑھ لکھ کر قابل تو بن رہی ہے لیکن بوڑھے ماں باپ کی نافرمان اور انہیں بوجھ سمجھتی ہیں اور بہن بھائیوں سے پیار بڑوں کی عزت و احترام سے تو کوسوں دور جا رہے ہیں ؟

تحریر لمبی ہو رہی ہے لوگوں کے پاس ٹائم نہیں ہے
To be continue tomorrow………..