رمضان المبارک میں خرچ کرنے کی فضیلت
تحریر:محمد شاهد رضا خان
مقدمہ۔
رمضان المبارک میں خرچ کرنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ یہ مہینہ فیاضی اور سخاوت کا ہے جس میں ایک نیکی کا ثواب ستر گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام نے اس سلسلے میں بہت تاکید فرمائی ہے۔ ذیل میں قرآن اور معصومین علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالنے کی کوشش اور تلاش کرتا ہوں۔
🕌 ماہِ رمضان: انفاق کا موسمِ بہار ہے۔
ماہِ رمضان کو “موسمِ بہار” قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں رحمتِ الٰہی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے . رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے: “جو اس مہینے میں کسی نیک کام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، اسے فرض کا ثواب ملتا ہے، اور جو فرض ادا کرے، اسے ستر فرضوں کا ثواب ملتا ہے” .
اسی لیے آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ میں ملتا ہے کہ رمضان میں آپ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی تھی ۔
📖 اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات۔
آل رسول (اہل بیت) کے ارشادات میں خرچ کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے:
· امام باقر (ع): فرمایا: “نیکی اور صدقہ فقر و فاقہ کو دور کرتے ہیں، عمر میں اضافہ کرتے ہیں اور بری موت کو ٹالتے ہیں” ۔
· امام باقر (ع) کا ارشاد: “اگر میں مسلمانوں کے کسی مستحق خاندان کی کفالت کروں، ان کی بھوک دور کروں، ان کی پردہ پوشی کروں اور انہیں لوگوں کے سامنے دستِ نیاز دراز کرنے سے بچاؤں، تو یہ میرے نزدیک ستر حجوں سے بھی زیادہ محبوب ہے” ۔
· امام صادق (ع): فرمایا: “صبح کے وقت صدقہ کرو، کیونکہ جو مؤمن صدقہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس دن آسمان سے نازل ہونے والی آفات و بلیّات کو اس سے دور کر دیتا ہے” ۔
💡 خرچ کرنے کے آداب (احادیث کی روشنی میں)
نیکی کو قبولیت کی سند حاصل کرنے کے لیے ان آداب کا خیال رکھنا چاہیے:
1. حلال مال سے خرچ: قرآن حکم دیتا ہے: “اے ایمان والو! اپنی کمائی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو” ۔
2. پوشیدہ صدقہ (خاموشی سے): روایت ہے: “پوشیدہ صدقہ پروردگار کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے” ۔
3. بہترین چیز کا انتخاب: قرآنی معیار ہے: “تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو” ۔
4. احسان نہ جتانا: اللہ کا فرمان: “اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو” ۔
5. اعزہ و اقربا کو ترجیح: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: “اپنے خویشاوندوں پر جو تجھ سے قطع تعلقی کیے ہوئے ہوں” ۔
6. وقت کی فضیلت: امام صادق (ع) نے فرمایا: “جو شخص رمضان میں صدقہ دے، اللہ ستر آفتوں کو اس سے دور کرتا ہے” ۔
✨ روزہ دار کی عزت و بخشش۔
ایک عظیم فضیلت ان لوگوں کے لیے ہے جو روزہ داروں کی خبرگیری کریں:
· رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے حلال کمائی سے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، فرشتے رمضان بھر اس کے لیے استغفار کرتے ہیں” ۔
· آپ ﷺ کا ارشاد ہے: “جو روزہ دار کا پیٹ بھرے گا، اللہ اسے میرے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائے گا کہ وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا” ۔
· صدقہ فطر کی ادائیگی روزوں کو لغویات سے پاک کرنے اور مساکین کی غذائی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہے ۔
نتیجہ
ماہ رمضان اپنی بے پناہ برکتوں کے ساتھ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اموال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنے درجات بلند کریں۔ اہل بیت علیہم السلام کے اقوال و اعمال اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ سخاوت اور انفاق بندے کو اللہ کے قریب کرنے اور برکتوں کا سبب بنتا ہے۔
اگر آپ ان فضائل پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں تو اس رمضان میں اپنے اخراجات کا ایک حصہ ضرورتمندوں، خویشاوندوں اور بھوکوں کی خبرگیری کے لیے مختص کر دیں۔
وسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
محمد شاهد رضا خان






