ڈاکٹر صاحبزادہ کاشف سلطان
بانی خاتم الابنیا ٹراما سنٹرتحصیل احمد پور سیال
تحریر:ڈاکٹرمحمداقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈسٹ)
پاکستان کی طبی دنیا میں چند نام ایسے ہیں جو اپنی صلاحیت، دیانت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہی درخشاں شخصیات میں محسن جھنگ صاحبزادہ پروفیسر ڈاکٹر سلطان کاشف علی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ملک کے نامور نیورو سرجن ہیں جنہوں نے نہ صرف پیچیدہ دماغی و اعصابی امراض کے علاج میں مہارت حاصل کی بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔
ڈاکٹر سلطان کاشف علی نے طب کے میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نیورو سرجری جیسے مشکل اور نازک شعبے کو منتخب کیا۔ یہ وہ میدان ہے جہاں ایک لمحے کی مہارت انسانی زندگی بچا سکتی ہے۔ مسلسل محنت، جدید تحقیق اور عالمی معیار کی تربیت نے انہیں ملک کے ممتاز نیورو سرجنز کی صف میں لاکھڑا کیا
بطور نیورو سرجن انہوں نے دماغی رسولیوں، ریڑھ کی ہڈی کے امراض، سر کی چوٹوں اور پیچیدہ اعصابی سرجریوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا خاص پہلو مریضوں سے ہمدردانہ رویہ اور علاج میں شفافیت ہے۔ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی بنیادوں پر علاج کے قائل ہیں، جس سے بے شمار مریض صحت یاب ہو کر نئی زندگی پا چکے ہیں۔
ڈاکٹر سلطان کاشف علی کا سب سے بڑا کارنامہ تحصیل احمدورسیال میں خاتم الانبیاء ٹراما سنٹر کا قیام ہے۔ یہ ادارہ ہنگامی حالات، حادثات اور دماغی چوٹوں کے فوری علاج کے لیے قائم کیا گیا، اس سنٹر کے قیام نے خاص طور پر ٹراما اور ایمرجنسی نیورو سرجری کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔
وہ صرف ایک سرجن نہیں بلکہ ایک مخلص سماجی رہنما بھی ہیں۔ ان کا وژن ہے کہ پاکستان میں جدید نیورو سرجری کی سہولیات عام آدمی تک پہنچیں۔ وہ نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور طبی تحقیق کی حوصلہ افزائی میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔
خراجِ تحسین
ڈاکٹر سلطان کاشف علی کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اخلاص، علم اور خدمت کا جذبہ انسان کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ان کی خدمات نہ صرف طبی میدان میں بلکہ سماجی سطح پر بھی ایک روشن مثال ہیں۔ پاکستان کو ایسے باصلاحیت اور مخلص معالجین پر فخر ہے جو اپنی مہارت سے زندگیوں میں امید کی روشنی بکھیر رہے ہیں۔
Sahibzada Sultan Kashif Ali








