امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا جائزہ
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
امریکہ و اسرائیل،ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ایران جو کمزور ملک ہے،لیکن بڑی طاقتوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔جنگ شروع کرنے سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ فوری طور پر ایران کو تباہ کر دیا جائے گا۔یہ درست ہے کہ ایران پر زبردست حملے کیے گئے اور نقصان بھی کافی ہوا لیکن اب بھی ایران مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے۔یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ایران نے آبنائےہرمز کو بند کر کے امریکہ کو زبردست زک پہنچا دی ہے۔آبنائےہرمز کی بندش سے دنیا میں بڑی ہلچل مچ چکی ہے۔ایران پر بمباری بھی کی جا رہی ہے لیکن جوابی ایرانی حملے اسرائیل اور امریکہ کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔شاید اسرائیل اور امریکہ کو توقع نہیں تھی کہ اتنا سخت رد عمل آئے گا۔ایران کے جوابی حملے مخالفین کے لیے بھی سخت نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔امریکی صدر نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی عسکری طاقت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ ایران اب ٹوٹ چکا ہے،مگر یہ صرف دعوے تھے حقیقت کچھ اور تھی۔ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور چند بڑی شخصیات کی شہادت کی وجہ سے سمجھا گیا کہ ایران اب تقریبا ختم ہو گیا ہے،لیکن ایران کو سپریم لیڈر کی صورت میں ایک اور مضبوط قیادت مل گئی۔اب بھی ایران مقابلہ کر رہا ہے۔اب تو یہ بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ ایران کو شکست نہیں دی جا سکتی۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے سمجھا گیا کہ عوام مذہبی حکومت نہیں چاہتی،لیکن عوام کی طرف سے کوئی ایسی سرگرمی نہیں دکھائی گئی جس سے علم ہو سکے کہ عوام مذہبی حکومت نہیں چاہتی بلکہ امریکہ کی منظور نظر حکومت چاہتی ہے۔ایران میں کچھ طبقات اسلامی حکومت کے خلاف ہیں،اس لیے ان کی طرف سے احتجاج کیے جاتے ہیں لیکن اکثریت ان احتجاجوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔غدار بھی موجود ہیں اور ان غداروں کو گرفتار کر کے سزا بھی دی جا رہی ہے لیکن اب بھی بہت سے غدار موجود ہوں گے۔امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو کمزور کرنے کے لیے کافی عرصے سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے،لیکن پھر بھی ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ایران ان مقامات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے ایران کو نشانہ بنایا گیا۔جن مقامات سے ایران کونشانہ بنایا گیا،وہ مقامات امریکہ کے اڈے تھے،جو کہ مختلف ممالک میں موجود ہیں،بلکہ مشرق وسطی کے کئی ممالک میں امریکی اڈے موجود ہیں،جہاں امریکی مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے کہ امریکہ نے بہت سے اسلامی ممالک میں اپنے اڈے قائم کیےہوئےہیں۔امریکی اڈوں سے ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،اس لیے ایران نے ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔یوں یہ جنگ پورے علاقے میں پھیلنا شروع ہو گئی۔بہرحال ایران کوشش کر رہا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ایران کے پاس کوئی اور چارہ نہیں کہ ان مقامات کو نشانہ نہ بنائے کیونکہ امریکہ پر حملہ کرنا مشکل ہے.صرف اسرائیل پر حملہ کیا جا رہا ہے،لیکن امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ ان ممالک کے لیے سبق بھی ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم محفوظ ہیں،لیکن اب صورتحال مختلف ہو گئی ہے۔امریکی بالادستی ختم ہو رہی ہے کیونکہ یہ تاثر پایاجادہا ہے کہ ہم امریکی بلاک میں امریکی مفادات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔بہت سے ممالک تباہی کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں کیونکہ اگر ایٹمی صلاحیت استعمال کر لی گئی تو وہ ممالک تباہ ہو سکتے ہیں جہاں امریکی اڈےموجود ہیں۔امریکہ صرف مالی نقصان اٹھائے گا اور تھوڑا ساجانی نقصان بھی ہو سکتا ہے،لیکن کامیابی کی صورت میں امریکہ سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرے گا۔اسرائیل کی بھی کوشش ہے کہ ایران کے دشمن زیادہ سے زیادہ بنائے جائیں تاکہ ایران الجھ جائے۔اس طرح اسرائیل کو بھی کم نقصان اٹھانا پڑے گا،کیونکہ ایران اسرائیل کے علاوہ دوسرے ٹارگٹس کی طرف بھی رخ کر لے گا۔ایران آبنائےہرمزکی آبی گزر گاہوں کو جنگ میں مخالفین کے علاوہ دوسروں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ایران کا یہ عمل کئی ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ امریکہ کے اتحادی نہ بنیں۔بہت سے ممالک سمجھ چکے ہیں کہ ایران کو شکست دینا مشکل ہے،اس لیے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکاری ہیں۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ایران کو شکست دی جا سکتی ہے تو امریکہ کا اتحادی بننے میں کسی کو مشکل پیش نہ آتی لیکن ایرانی فتح کے امکانات کے پیش نظر امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
جنگ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب کیا ہو جائے؟ہو سکتا ہے یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے اور کئی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچ جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے یہ جنگ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے،اس طرح بہت بڑی تباہی آسکتی ہے۔ایران اگر اس جنگ میں فاتح ثابت ہو جائے تو امریکہ کم از کم مشرق وسطی میں اپنی پوزیشن کھو دے گا۔امریکہ نے جہاں جہاں اپنے اڈے اس وجہ سے قائم کیے ہوئے ہیں کہ ان ممالک کا تحفظ کیا جا رہا ہے جہاں امریکی اڈی موجود ہیں تو وہ ممالک امریکی شکست کی صورت میں امریکہ کو اپنے علاقوں سے فورا نکال دیں گے۔اب بھی تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ امریکہ تحفظ نہیں کر سکتا،اس لیے اگر امریکہ بھی فاتح بنتا ہے تو پھر بھی امریکی اڈوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔یہ جنگ ابھی صرف فضا میں لڑی جا رہی ہے،ہو سکتا ہے زمینی جنگ میں تبدیل ہو جائے۔زمینی جنگ کی تبدیلی خطے کے بہت سے ممالک کو بھی ہرحال میں نقصان پہنچائے گی۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس جنگ کو کسی نہ کسی طرح سے روکا جائے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ کا اختتام شاید بغیر نتیجے کےہو جائے،لیکن بہت بڑی تباہی تو ہو ہی چکی ہے۔امریکہ کی نسبت ایران کا خسارہ بہت ہی زیادہ ہے کیونکہ حملوں کی زد میں ایران براہ راست آرہا ہے اور امریکہ کا صرف مالی نقصان ہو رہا ہے۔یہ اور مسئلہ ہے کہ امریکہ بھی روزانہ کے حساب سے اربوں ڈالرز کا خسارہ برداشت کر رہا ہے۔یہ جنگ امریکہ کے لیے بھی ایک ایسی دلدل ثابت ہو رہی ہے،جس سے نکلنا امریکہ کےلیے انتہائی مشکل ہورہاہے۔دوسری طرف اسرائیل کے لیے بھی اسکی کوئی اہمیت نہیں کہ امریکہ کو نقصان پہنچتا ہے یا کسی اور کو،صرف اور صرف اپنے دفاع سے سروکار ہے۔عالمی برادری کو چاہیے کہ یہ جنگ رکوائے یا امریکہ کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑی جائے تاکہ امن کی طرف بڑھا جا سکے۔مشرق وسطی کے پورےخطےکی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو روکا جائے۔











