…عید کا حقیقی پیغام، خوشیوں سے آگے ذمہ داری تک…
تحریر || محمد معاویہ اعظم طارق سابقہ پارلیمانی لیڈر راہ حق پارٹی
ہر سال جب شوال کا چاند طلوع ہوتا ہے تو پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں ایک عجیب سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ لہر خوشی کی ہوتی ہے، محبت کی ہوتی ہے، اور ایک ایسے احساس کی ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ بچے رات سے ہی نئے کپڑے سنبھال کر رکھ دیتے ہیں، بوڑھے دروازوں پر بیٹھ کر محلے کی رونق دیکھتے ہیں، اور عورتیں رات گئے تک سویوں اور شیرمال کی خوشبو میں ڈوبی رہتی ہیں۔ یہ سب مناظر خوبصورت ہیں، دل کو چھونے والے ہیں۔ لیکن ایک سوال ہے جو بہت کم لوگ اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ عید دراصل چاہتی کیا ہے ہم سے؟
عید الفطر کا یہ دن اسلام نے بغیر کسی حکمت کے نہیں رکھا۔ پورے رمضان المبارک میں انسان نے بھوک، پیاس اور نفس کی خواہشوں کو روک کر یہ سیکھا کہ دوسروں کی تکلیف کیسی ہوتی ہے۔ جب پیٹ خالی ہو اور پانی کا ایک گھونٹ بھی میسر نہ ہو، تب انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں کروڑوں لوگ ہر روز اسی حال میں جیتے ہیں، مگر ان کے لیے کوئی افطاری کی دسترخوان نہیں ہوتی۔ رمضان یہ درس دیتا ہے، اور عید اس درس کا امتحان ہے۔
اسی لیے عید کی صبح نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عید کی خوشی کو اس شرط کے ساتھ جوڑ دیا کہ پہلے یہ یقین کر لو کہ تمہارے آس پاس کا غریب بھی آج خالی پیٹ نہیں رہے گا۔ فطرانہ دراصل معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ یہ کہتا ہے کہ تمہاری خوشی اسی دن مکمل ہوگی جب تم اپنی خوشی میں دوسرے کو بھی شریک کر لو گے۔
اب ذرا سوچیں، ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے گھر ایسے ہیں جہاں عید کا دن باقی دنوں جیسا ہی گزرتا ہے۔ ماں باپ بچوں کو نئے کپڑے نہیں دلا سکتے، میٹھائی دور کی بات ہے، روز کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔ ایسے گھروں کے بچے عید کی صبح دوسروں کو سجے ہوئے دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہوں گے؟ یہ سوال ہمیں اپنے دل کی گہرائی میں اتار کر سوچنا چاہیے۔ اگر ہم نے صرف اپنے گھر کی خوشی تک سوچا اور پڑوس کی تکلیف سے آنکھیں بند کر لیں، تو ہم نے عید کی روح کو سمجھا ہی نہیں۔
عید ہمیں ایک اور بہت بڑی بات سکھاتی ہے، اور وہ ہے معافی اور محبت۔ ہمارے معاشرے میں رشتے اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کوئی بات بری لگ گئی، کوئی غلط فہمی ہو گئی، اور پھر برسوں تک دو گھرانے ایک دوسرے کی صورت دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ عید اس جمے ہوئے برف کو پگھلانے کا موقع ہے۔ جب ہم کسی سے گلے ملتے ہیں تو محض ایک رسم ادا نہیں کرتے، بلکہ دل کے دروازے کھولتے ہیں۔ معافی مانگنا کمزوری نہیں، بلکہ یہ اس بہادر انسان کا کام ہے جو جانتا ہے کہ رشتے دولت سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ بچوں کے لیے بھی یہ دن محض عیدی سمیٹنے کا نہیں ہونا چاہیے۔ عیدی ملتی ہے تو دل میں یہ بھی آنا چاہیے کہ میں اپنے اس پیسے سے کسی اور کو بھی خوش کر سکتا ہوں۔ کسی ایسے دوست کو یاد کریں جو شاید آج اداس ہو، کسی ایسے بچے کو تلاش کریں جس کے پاس عیدی کا کوئی سکہ نہ ہو۔ اس کے ساتھ مل کر کھیلنا، اسے ہنسانا، یہ وہ نیکی ہے جو کسی مدرسے میں نہیں بلکہ زندگی کے اسی جیتے جاگتے لمحے میں سیکھی جاتی ہے۔
عید دراصل ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم صرف اپنے لیے جی رہے ہیں تو یہ آئینہ ہمیں ایک تنہا، خودغرض انسان دکھاتا ہے۔ اور اگر ہم دوسروں کے درد کو محسوس کرتے ہیں، ان کی خوشی کا سوچتے ہیں، ان کے ساتھ بانٹتے ہیں، تو یہی آئینہ ہمیں ایک سچا انسان دکھاتا ہے۔ عید کا اصل انعام نہ نئے کپڑے ہیں، نہ سویاں، نہ عیدی کے نوٹ۔ عید کا اصل انعام وہ خوشی ہے جو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے بعد دل کے اندر اترتی ہے، اور پھر وہاں سے نکلتی نہیں۔
جب یہ عید گزر جائے گی، جب نئے کپڑے پرانے ہو جائیں گے، جب سویوں کی خوشبو ہوا میں گھل جائے گی، جب عیدی کے نوٹ خرچ ہو جائیں گے، تب بھی ایک چیز باقی رہے گی۔ اور وہ ہے وہ لمحہ، جب آپ نے کسی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر سے ایک اداس آنکھ کی چمک بدل گئی۔ وہ لمحہ جب آپ نے کسی روٹھے ہوئے کو گلے لگایا اور اس کے کندھے نے کپکپاہٹ چھوڑ دی۔ وہ لمحہ جب ایک چھوٹے بچے کی مٹھی میں آپ نے کچھ سکے رکھے اور اس کی آنکھوں میں وہ روشنی آئی جو کسی دکان پر نہیں بکتی۔ یہ لمحے وقت کے ساتھ مٹتے نہیں، یہ روح میں اتر جاتے ہیں۔ ہم سب ایک دن اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ نہ کپڑے ساتھ جائیں گے، نہ دولت، نہ مکان۔ لیکن جو دل جیتے، جو آنسو پونچھے، جو خوشیاں بانٹیں، وہ ہمارے بعد بھی زندہ رہیں گے، ان لوگوں کی یادوں میں جن تک ہم نے محبت پہنچائی۔ تو اس عید کو محض ایک تہوار مت بننے دیں۔ اسے ایک موقع بنائیں، اپنے آپ کو بدلنے کا، اپنے آس پاس کی دنیا کو تھوڑا سا بہتر بنانے کا۔ کیونکہ اللہ نے یہ دن اس لیے نہیں دیا کہ ہم صرف خود خوش ہوں، بلکہ اس لیے دیا ہے کہ ہم خوشی بانٹنا سیکھیں۔ اور جو خوشی بانٹتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔ یہی عید ہے۔ یہی اس دن کا اصل پیغام ہے۔ اور یہی وہ سبق ہے جو ہر چاند کے ساتھ ہم سے مانگا جاتا ہے، مگر ہم ہر بار اگلی عید پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس بار نہیں۔ اس بار ابھی۔
#Eid #eidmubarak #motivation #thinkbetter













