حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی حق و صداقت کا لازوال استعارہ

تحریر محمد زاہد مجید انور

*اسلامی تاریخ میں سانحۂ کربلا ایک ایسا باب ہے جو رہتی دنیا تک حق، صداقت، صبر، استقامت، ایثار اور قربانی کی روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ نے 10 محرم الحرام 61 ہجری (680ء) کو میدانِ کربلا میں اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار رفقاء کے ہمراہ اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ کے لیے ایسی لازوال قربانی پیش کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔حضرت امام حسینؓ نے اقتدار، دنیاوی مفادات یا ذاتی خواہشات کے لیے نہیں بلکہ دینِ اسلام کی اصل تعلیمات، عدل و انصاف اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق قائم رکھنے کے لیے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ آپؓ کا یہ انکار دراصل ظلم، جبر، آمریت اور باطل نظام کے خلاف ایک عظیم اعلان تھا، جس نے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان کبھی بھی باطل قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں حضرت امام حسینؓ، اہلِ بیتِ اطہار اور وفادار ساتھیوں کو کئی دن تک پانی سے محروم رکھا گیا، لیکن اس شدید آزمائش کے باوجود انہوں نے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ عاشورہ کے دن حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے جانثار ساتھیوں نے جامِ شہادت نوش کیا، مگر حق و صداقت کا پرچم ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔سانحۂ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ درسگاہ ہے، جو ہر دور کے انسان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، حق کا ساتھ دینے، عدل و انصاف کے قیام اور انسانی اقدار کی حفاظت کا سبق دیتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی نے یہ ثابت کر دیا کہ حق کی سربلندی کے لیے اگر جان بھی قربان کرنا پڑے تو وہ خسارہ نہیں بلکہ دائمی کامیابی ہے۔آج جب دنیا مختلف آزمائشوں، ناانصافیوں اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، ایسے میں واقعۂ کربلا ہمیں اتحاد، برداشت، اخوت، صبر، ایثار اور عدل و انصاف کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر ہم حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرے سے ظلم، نفرت، فرقہ واریت اور بے انصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔محرم الحرام ہمیں غم کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کا محاسبہ کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حضرت امام حسینؓ کی سیرت، صبر، استقامت اور قربانی کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنائیں، حق کا ساتھ دیں، باطل سے نفرت کریں اور اپنے معاشرے میں امن، محبت، اخوت اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی عظیم قربانی کے پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے کردار کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*