وہ لوگ جو اپنے نام خود بناتے ہیں،میاں زاہد رفیق کی شخصیت پر ایک نظر
تحریر : محمد زاہد مجید انور
قدرت ہر انسان کو ایک جیسا چہرہ، ایک جیسی قسمت یا ایک جیسا مقام نہیں دیتی، لیکن ایک چیز سب کو یکساں عطا کرتی ہے، اور وہ ہے کردار بنانے کا اختیار۔ کچھ لوگ بڑے خاندانوں میں پیدا ہو کر بھی گمنامی کی دھند میں کھو جاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی محنت، دیانت اور خوش اخلاقی سے ایسا مقام حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کا نام ہی ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ عہدوں سے نہیں، کردار سے جانے جاتے ہیں۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی چک نمبر 257 گ ب سے تعلق رکھنے والے معروف گورنمنٹ کنٹریکٹر، سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت میاں زاہد رفیق انہی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر ثابت کیا کہ عزت خریدی نہیں جاتی بلکہ کمائی جاتی ہے۔ وہ ایک معروف سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ ضرور ہیں، مگر ان کی اصل شناخت ان کے آباؤ اجداد کے نام سے زیادہ ان کی اپنی محنت، دیانت اور عملی کردار ہے۔تعمیر صرف اینٹ، بجری اور سیمنٹ کو جوڑنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد رکھنے کا عمل بھی ہے۔ ایک اچھا کنٹریکٹر صرف عمارتیں نہیں بناتا بلکہ لوگوں کے اعتماد کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ میاں زاہد رفیق نے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں اسی اصول کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع بھر میں ٹھیکیدار برادری کے اندر ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سفارش کے سہارے نہیں بلکہ اپنی قابلیت، شفافیت اور وعدے کی پاسداری سے یہ مقام حاصل کیا۔آج کے دور میں جب مفاد پرستی نے بہت سے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے، ایسے میں شرافت، خوش اخلاقی اور انسان دوستی کسی نعمت سے کم نہیں۔ میاں زاہد رفیق کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتے، کامیابی کو غرور نہیں بننے دیتے اور تعلقات کو مفاد کی ترازو میں نہیں تولتے۔ یہی اوصاف ایک بڑے انسان کی پہچان ہوتے ہیں۔سماجی خدمت کا اصل مفہوم صرف تقریریں کرنا یا تصویریں بنوانا نہیں بلکہ خاموشی سے لوگوں کے کام آنا ہے۔ میاں زاہد رفیق ہمیشہ ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو ضرورت کے وقت آگے بڑھتے ہیں، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی ترقی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا حلقۂ احباب روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے اور لوگ انہیں صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک باکردار انسان کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کی ترقی صرف سرکاری منصوبوں سے نہیں بلکہ ایسے کرداروں سے وابستہ ہوتی ہے جو دیانت، محنت اور اخلاص کو اپنی زندگی کا شعار بناتے ہیں۔ اگر ہمارے اداروں، کاروباری حلقوں اور سماجی تنظیموں میں میاں زاہد رفیق جیسے لوگ زیادہ ہوں تو یقیناً اعتماد، ترقی اور خوشحالی کی رفتار کہیں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔زندگی کا اصل سرمایہ نہ دولت ہے، نہ شہرت اور نہ ہی عہدہ۔ اصل سرمایہ وہ نیک نامی ہے جو انسان اپنے کردار سے کماتا ہے اور جو اس کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ میاں زاہد رفیق کا سفر اسی نیک نامی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، استقامت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور انہیں اپنے علاقے، اپنے ضلع اور اپنے وطن کی خدمت اسی جذبے، دیانت اور خلوص کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔













