بعد صدیق،فاروق،عثمان و علی۔۔۔۔۔رہبر قافلہ۔۔معاویہ معاویہ۔۔۔رضوان اللہ تعالی اجمعین۔۔۔۔٢٢رجب المرجب بارے چشم کشاء کالم۔۔۔۔۔سٹار نیوز پر

معروف کالم نگار غلام شبیر منہاس

22 رجب کا پیغام۔۔
مسلہ اعتراض کرنا نہیں ھے۔۔بلکہ ھمارا اعتراض کرنا بنتا ہی نہیں ھے۔۔کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔۔کہاں ھم۔۔اور کہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ ۔۔
آپ بات کو سمجھنے کو کوشش کریں۔۔یہ محض ایک اختلاف تھا۔۔قصاص عثمان رضی اللہ عنہ پہ۔۔اور یہ بات ایسی بے وزن بھی نہیں تھی۔۔کیونکہ یہ مدینہ میں 40 دن تک بھوکا پیاسا شہید کیا جانے والا وہی عثمان رضی اللہ عنہ تھا جس کی موت کی خبر پہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ سے قصاص عثمان پہ موت کی بیعت لی تھی۔۔اور اس بیعت رضوان کا زکر قرآن میں بھی ھے۔۔اور اسی سنت کے عین مطابق شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا تھا۔۔یہ محض ایک اختلاف تھا۔۔جس پہ یہ دونوں حضرات اپنی جگہ ٹھیک تھے۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ فی الوقت حالات ایسے نہیں ہیں کہ قصاص عثمان رضی اللہ عنہ لیا جاسکے۔۔باقی دکھ ان کو بھی اتنا ہی تھا۔۔مگر ھم کون ہوتے ھیں ان باتوں کو جواز بنا کے ان پہ تنقید کے نشتر چلانے والے۔۔ھماری حیثیت ہی کیا ھے۔۔
مگر کچھ لوگ اس کو جواز بنا کر امت کے ماموں کو کیا سے کیا کہہ رھا ھیں۔۔۔طرح طرح کے ہتھکنڈے اور تبراء کے دروازے وا کیئے بیٹھے ھیں۔۔۔کبھی کہتے ھیں اس کے ماں باپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل ھیں۔۔جنھوں نے وحشی رضی اللہ عنہ سے انکو میدان احد میں شہید کروایا۔۔بالکل سچ۔۔مگر جب یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش محبت میں آگئے تو پھر ھمیں کیا مسلہ ھے۔۔ ھم کون ھوتے ھیں اس پہ رائے زنی کرنے والے۔۔۔
کبھی کہتے ھیں یہ تو ایمان ہی نہیں لائے تھے۔۔۔فتح مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو پھر ایسے ہی دارلامان قرار دے دیا تھا۔۔۔خدا کیلئے آپ لوگ اس بحث میں نہ پڑھیں۔۔کہ کون ایمان لایا تھا اور کون نہیں۔۔کیا کسی صاحب ایمان سے جناب ابوطالب پہ بھی کبھی ایمان لانے کی جرح سنی ھے۔۔۔یہ ھمارا لیول نہیں ھے ھم کون ھوتے ھیں ان پہ بحث کرنے والے۔۔۔آپ اپنے ایمان کی فکر کریں۔۔۔
آپ لوگ اس معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ پہ بحث کرنے چل نکلے ھیں ۔۔جو کاتب وحی تھا۔۔جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سالا تھا جو مومنوں کی ماں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا بھائی تھا۔۔پہلے اسلامی بحری بیڑے کا نیول چیف تھا۔۔۔جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط تحریر کیئے۔۔۔جو فتح مکہ کے بعد ھر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ رھے۔۔جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار اپنی دعاوں سے نوازا۔۔اس عظیم المرتبت انسان پہ آپ لوگوں نے جرح شروع کردی ھے بدبختو۔۔۔زرا سا بھی نہیں سوچا۔۔ظالمو تمہیں معاویہ رض اور علی رض کی جنگ تو نظر آتی ھے۔۔مگر تمہیں حسن رض معاویہ رض کے ہاتھ پہ بیعت کرتے نظر نہیں آتے۔۔منافقو۔۔اسلام دشمنو۔۔تم نے یہ کیا وطیرہ بنا رکھا ھے۔۔
اور پھر۔۔۔جب بے ایمان لوگوں کے تبرے کے سامنے امت نے مزاحمت کی تو انھوں نے اپنی روش بدلی اور تقیہ کا سہارا لیتے ھوئے 22 رجب کو کونڈوں کے نام سے حلوہ پکا پکا کر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پہ تقسیم کرنا شروع کردیا۔۔22 رجب کو بیلوں کی دوڑ اور کبڈی کے میدان سجانے شروع کردیئے۔۔ جشن نوروز کے نام سے میلوں کا اہتمام کرنا شروع کردیا۔۔۔تف ھے تم پہ۔۔اور افسوس ھے ھر اس شخص پر جو آج اپنے مولوی۔۔اپنے مفتی۔۔اپنے امام۔ اپنے واعظ۔۔اپنے زاکر سے اسلیئے بحث نہیں کرتا کہ وہ صاحب علم ھے۔۔اس سے میری بحث نہیں بنتی۔۔مگر عالم اسلام کی سب سے بڑی سلطنت کے خلیفہ۔۔خال المومنین کاتب وحی۔۔ھادی و مہدی کا لقب پانے والے۔۔۔اسلام کے پہلےنیول چیف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہ بحث ہو تو زبانوں کو تالے لگ جایئں۔۔یہ کفر ھے۔۔یہ منافقت ھے اور یہ بددیانتی ھے۔۔
22 رجب المرجب کا درس یہ ھے کہ ھم سب جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے تقدس کیلئے کھڑے ھوجایئں۔۔انکی ناموس کے پہریدار بن جایئں۔۔ یہی راستہ فلاح کا راستہ ھے۔۔
خادم مصطفے معاویہ معاویہ
پیشوا مقتدی معاویہ معاویہ
بعد صدیق وفاروق و عثمان وعلی
رہبر قافلہ معاویہ معاویہ
شرف کاتب کا تمغہ ملا آپ کو۔۔
عظمتوں کا پتہ معاویہ معاویہ

نوٹ کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ادارہ