تفتان میں پھنسے زائرین کی کون سنےگا
(فکر اقبال )
کالم نگار انجنیئر وسیم اقبال میو احمد پور سیال
ریاستی مشینری کی نگاہ میں ایک شہری کی جان کی قیمت کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ تفتان میں پھنسے زائرین کی حالت سے لگایا جاسکتا ہے جن کی فکر ریاست کے کسی چوہدری کو نہیں
تفتان میں قرنطینہ کے نام پر کھڑی خیمہ بستی مال چھاپنے کا کام کررہی ہے
جہاں ناقص خوراک شدید موسم سے بچاؤ کا ناقص انتظام حکومتی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے
اور آئسولیشن وارڈز کے ڈرامہ پر سینکڑوں لوگ بڑےبڑے ہالز میں اکٹھےموجود ہیں
وزیرداخلہ صاحب خود اعترف کررہے ہیں کہ ان کے پاس صرف مشینری مینول ہے۔
محض تھرمل گنز سے زائرین کا درجہ حرارت چیک کیا جا رہا ہے
اس ذہنی وجسمانی اذیت سے دوچار زائرین تفتان سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں جسے ملک کے مختلف حصوں وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے
کوئٹہ کےہسپتالوں کا یہ عالم ہے زیادہ تر ڈاکٹر بیماری کے ڈر سے چھٹی پر ہیں جن کے خلاف محکمانہ کاروائ کی افواہ بھی ہے ویسے تو انسان اور اس کی جان کی قدر و قیمت تو اس ملک میں ہمیشہ سے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں رہی وبا کے علاوہ بھی ہمیشہ سے تفتان بارڈر پرزائرین کے ساتھ جس یہی سلوک کیا جارہا ہے جس کے لئے نہ اہل تشیع کی قیادت کی جانب سے بھر پور آواز آئ ہے نہ حکومتی کیمپ سے
البتہ PDMA کی جانب سے ماسک انتہائ مہنگے داموں خریدنے کی آواز ضرور آرہی ہے
والسلام دعاوں کا طلبگار انجینئیروسیم_اقبال_میئو








