اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ تمام معمولی جرائم میں ملوث افرادا ور وہ افراد جن کی سزا 7 سال سے کم ہے، انہیں فوری رہا کر دیا جائے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں جیل میں اتنے زیادہ قیدیوں کی موجودگی خطرنات ہے، کسی ایک شخص میں بھی کورونا وائرس ہوا تو نقصان بہت زیادہ ہو گا۔ایران نے بھی اپنی جیلوں میں سے قیدیوں کو رہا کر دیا ہے، اس لئے ہم بھی اپنے قیدیوں کو رہا کر رہے ہیں تا کہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچ سکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام قیدی مچکلے جمع کروا کے ضمانت حاصل کر سکتے ہیں ا ور جو افراد مچکلے جمع نہیں کروا سکتے، ان کے مچکلے حکومت جمع کروائے گی۔
اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ایک آفیسر مقرر کریں جو ضمانتی مچکلوں کے معاملات دیکھیں، جو شخص مچکلے جمع نہیں کروا سکتا، حکومت ان کے مچکلے جمع کروائے گی جس کے بعد قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناو ائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔دنیا بھر میں تباہی مچانے کے بعد کورونا وائرس نے اب پاکستان میں اپنے قدم جما لئے ہیں جس کے بعد اس کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
اب تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہا فرادا کی تعداد460 سے ز یادہ ہو گئی ہے جبکہ 3 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس نے دنیا بھر میں ابھی تک 2 لاکھ 45 ہزار کو متاثر کر دیا ہے جبکہ 10 ہزار افراد اس کی لپیٹ میں آ کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے عالمی سطح پر میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی جس کے بعد ہر ملک کی جانب سے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ تمام معمولی جرائم میں ملوث افرادا ور وہ افراد جن کی سزا 7 سال سے کم ہے، انہیں فوری رہا کر دیا جائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں جیل میں اتنے زیادہ قیدیوں کی موجودگی خطرنات ہے، کسی ایک شخص میں بھی کورونا وائرس ہوا تو نقصان بہت زیادہ ہو گا۔












