ایمان یقین اور توکل میں ڈوبی ہوئی ایک منفرد اور شاہکار تحریر۔۔۔
بشیر کوکب ترابی کاشمیری
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ۔۔ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منی، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک عجیب و غریب شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکارتا چلا جا رہا تھا:
لبیک لبیک لبیک
اللہم لبیک اللھم لبیک اللہم لبیک
اور غیب سے آواز آنے لگتی ہے
لا لبیک لا لبیک لالبیک
مولانا معین الدین اجمیری رح فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا میں دیکھتا رہا،
مسلسل کئی بار دیکھنے اور اس کی آوازیں سننے کے بعد پھر وہی غیبی آواز سنتا
لا لبیک لا لبیک لا لبیک
مسلسل یہ دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر ایک طرف نکال کر لے آیا اور اس شخص سے پوچھا:
بھلے مانس تجھے کیا تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ
اے میرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں
میرے اللہ میں حاضر ہوں
لبیک لبیک اللھم لبیک،
لبیک لبیک اللھم لبیک،
تو عالمِ غیب سے ہاتِف غیبی کی یہ آوز مسلسل آنے لگتی اور جب تک تو پکارتا رہتا ہے اس وقت تک یہ آواز مسلسل اتی رہتی ہے:
نہیں، نہیں تو حاضر نہیں ہے،
تو حاضر نہیں ہے، تو حاضر نہیں ہے۔
تو وہ شخص بولا:
ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ صرف آج کی بات۔نہیں
یہ سلسلہ تو پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے اور یہ میرا پہلا۔نہیں چوبیسواں حج ہے۔۔۔
میرا رب وہ بڑا بے نیاز ہے اور میں ہر سال یہی امید لے کر حج پر آ جاتا وں کہ شاٸيد اس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام اور نامراد لوٹ جاتا ہوں مگر گھر جا کر پھر آئندہ سال واپس حج پر حاضری دینے کے لیئے آنے کی تیاری شروع کر دیتا ہوں۔۔۔
جناب معین الدین فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں یہاں کیوں چلا آتا ہے۔۔۔؟
میری بات۔سنتے ہی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ اور وہ رُندی ہوٸی آواز میں سسکتے اور گڑگڑاتے ہوۓ بولا:
اے معین الدینؒ:
تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو پھر میں کدھر جاٶں،
کس کے پاس جاوں۔۔۔؟
کس کے در پہ جاوں۔۔۔؟
بتا نا تو،
کہ اُس کے سوا میرا اور کون ہے جو۔میری فریاد سنے گا۔۔۔؟
کون میری بپتا سنے گا۔۔۔؟
کون ہے جو میری باتیں بار بار سننے والا ہے۔۔۔؟
کون ہے کوئی اور جو میرے گناہوں کو بار بار معاف کرنے والا ہے۔۔۔؟
کون ہے کوئی اور جو میری مدد کرنیوالا ہے۔۔۔؟
میں کس در پہ جا کر گڑگڑاٶں
کون میری دادرسی کرے گا۔۔۔؟
کون میرا خالی دامن بھرے گا۔۔۔؟
کون مجھے بیماری میں شفا دے گا۔۔۔؟
کون میرے گناہوں کی پردہ داری کرے گا۔۔۔؟
معین الدینؒ مجھے بتا اگر کوٸی دوسرا رب ہے تو بتا میں اسکے پاس چلا جاتا ہوں
مجھے بتا معین الدینؒ اسکے علاوہ اگر کوٸی اور در ہے تو میں وہاں جاٶں اور اس کے آگے جا کر روٶں اور گڑگڑاٶں۔۔۔
حضرت مولانا معین الدین فرماتے ہیں اسکی باتیں سن کر میری آنکھوں سے بھی۔ںے اختیار آنسو جاری ہو گۓ ،
ہچکی بندھ گئی، جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور میں نے اپنے لرزتے ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں دعا کےلیئے اٹھاۓ اور کپکپاتے۔ہاتھوں اور ہونٹوں سے ابھی صرف اللّہﷻ کو پکارنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک سناٹا سا چھا گیا،
غیب سےآواز آٸی،
اے معین الدین یہ ہمارا اور اس بندے کا معاملہ ہے۔
ایک بندے اور اس کے رب کا آپس کا معاملہ ہے۔
جا تو جا، پیچھے ہٹ جا۔۔۔
تم نہی جانتے کہ مجھ اسکا اس طرح گڑگڑا کر لبیک لبیک لبیک کہنا کتنا پسند ہے۔
اگر میں اسکے لبیک کے جواب میں آج ہی لبیک کہدوں اور اسے یہ یقین ہو جاۓ کہ اسکاحج قبول ہو گیا ہےتو وہ آٸیندہ حج کرنے نہیں آٸیگا۔۔۔
اور یہ سمجھتا ہے کہ اسکا حج قبول نہیں ہورہا تو اسے بتاٶ کہ پچھلے 23 سالوں سے جتنے بھی لوگوں کے حج قبول ہوۓ ہیں وہ سب اس کی لبیک لبیک لبیک کی بدولت ہی قبول ہوۓ ہیں..۔
(بشیر کوکب ترابی کاشمیری )









