*وفاقی کابینہ میں شامل 5 مشیروں اور 14 غیر منتخب معاونین خصوصی کو عہدوں سے ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر*
وفاقی وزیر کے مساوی اختیارات اور عہدہ کے حامل وزیر اعظم کے 5مشیروں اور 14 غیر منتخب معاونین خصوصی کی تقرریاں غیر آئینی قرار دی جائیں، استدعا
درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر جدون کے زریعے دائر کی گئی
درخواست میں وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم خان ،عبدالرزاق داؤد ، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو فریق بنایا گیا
ڈاکٹر عشرت حسین ،ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان ، کو بھی فریق بنایا گیا ہے
ڈاکٹر ثانیہ نشتر،مرزا شہزاد اکبر ، محمد شہزاد ارباب بھی فریق مقدمہ
سید ذوالفقار عباس بخاری،شہزاد سید قاسم ،علی نواز اعوان کو بھی فریق بنایا گیا
،عثمان ڈار،ندیم افضل گوندل، سردار یار محمد رندھ ،ڈاکٹر ظفر مرزا ،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ندیم بابر کو بھی فریق بنایا گیا
معید یوسف اور ڈاکٹر تانیہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے
مشیروں اور معاونین کو وفاقی وزیر کے برابر اختیار دینا خلاف آئین قرار دیا جائے، استدعا
*آئینی درخواست میں وزیراعظم کے اختیار پر بھی سوال اٹھا دیا گیا*
وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ غیر منتخب افراد کو وفاقی وزراء کے درجے پر تعینات کریں، موقف
مشیروں اور معاونین خصوصی کو وفاقی وزراء کے برابر تنخواہیں حاصل کرنے کا اختیار نہیں
مشیروں اور معاونین خصوصی کو ادا کی گئی گئیں تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم دیا جائے، استدعا













