“سیرت مراد رسول سید نا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”
قسط نمبر 1
پیشکش : محمدنوید
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قسط وار سلسلہ مکمل ہوا. ان کی سیرت کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالی گئی. اس بندہ ناچیز نے کوشش کی کہ کوئی کمی نہ رہے مگر پھر بھی کوئی کمی رہ گئی ہو تو دعا ہے اللہ پاک معاف فرمائیں اور ہم سب کو ان کی سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں. کیوں کہ نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ. میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس نے جس کی بھی پیروی کی وہ فلاح پا گیا.
آج سی سیرت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ شروع کر رہا ہوں سب دوستوں سی اپیل ہے کہ پڑھ کر آگے شئر کرنے کی کوشش کریں.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی ہیں اور انہوں نے وہ کام کیے ہیں کہ غیر مسلم آج بھی ان کی تعریف کرتے ہیں. اور جو اصلاحات انہوں نے نافذ کی تھیں اج غیر مسلموں نے وہ اصلاحات اپنے ملکوں میں نافذ کے کے وہ ترقی کی ہے کہ ہم مسلمان آج ان کی بنائی ہوئی ہر چیز استعمال کرتے ہیں. ہم لوگوں میں بس اختلافات رہ گے باقی اچھائی والے ترقی والے کام دوسروں نے اپنا لیے ہیں. کیا اچھا ہو کہ ہم اپنے اعمال کو ان بزرگ ہستیوں کے مطابق ڈھال لیں اور کامیابی کی طرف چل پڑھیں.
*نام و نسب:*
=========
سلسلہ نسب یہ ہے کہ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک۔
اہل عرب عموماً عدنان یا قحطان کی اولاد ہیں۔ عدنان کا سلسلہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ عدنان کے نیچے گیارہویں پشت میں فہر بن مالک بڑے صاحب اقدار تھے۔ ان ہی کی اولاد ہے جو قریش کے لقب سے مشہور ہے۔ قریش کی نسل میں دس شخصوں نے اپنے زور لیاقت سے بڑا امتیاز حاصل کیا، اور ان کے انتساب سے دس جدا نامور قبیلے بن گئے۔ یعنی ہاشم، امیہ، نوفل، عبد الدار، اسد، تیم، مخزوم، عدی، جمح، سمح، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عدی کی اولاد سے ہیں۔ عدی کے دوسرے بھائی مرۃ تھے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اجداد سے ہیں۔ اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے آٹھویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے۔
قریش چونکہ خانہ کعبہ کے مجاور بھی تھے۔ اس لئے دنیاوی جاہ و جلال کے ساتھ مذہبی عظمت کا چھتر بھی ان پر سایہ فگن تھا۔ تعلقات کی وسعت اور کام کے پھیلاؤ سے ان لوگوں کے کاروبار کے مختلف صیغے پیدا ہو گئے تھے۔ اور ہر صیغے کا اہتمام جدا تھا۔ مثلاً خانہ کعبہ کی نگرانی، حجاج کی خبر گیری، سفارت، شیوخ قبائل کا انتخاب، فصل مقدمات، مجلس شورا وغیرہ وغیرہ، (عدی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد اعلیٰ تھے ) اس صیغوں میں سفارت کے صیغے کے افسر تھے۔ یعنی قریش کو کسی قبیلے کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آتا تو یہ سفیر بن کر جایا کرتے۔ (یہ تمام تفصیل عقد الفرید باب فضائل عرب میں ہے )۔ اس کے ساتھ منافرہ کے معرکوں میں ثالث بھی ہوا کرتے تھے۔ عرب میں دستور تھا کہ برابر کے دو رئیسوں میں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو ایک لائق اور پایہ شناس ثالث مقرر کیا جاتا۔ اور دونوں اس کے سامنے اپنی اپنی ترجیح کے دلائل بیان کرتے۔ کبھی کبھی ان جھگڑوں کو اس قدر طول ہوتا کہ مہینوں معرکے قائم رہتے۔ جو لوگ ان معرکوں میں حکم مقرر کئے جاتے ان میں معاملہ فہمی کے علاوہ فصاحت اور زور تقریر کا جوہر بھی درکار ہوتا، یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد امجد:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا نفیل بن عبد العزیٰ نے اپنے اسلاف کی طرح ان خدمتوں کو نہایت قابلیت سے انجام دیا اور اس وجہ سے بڑے عالی رتبہ لوگوں کے مقدمات ان کے پاس فیصلہ کرنے کے لئے آتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جد امجد عبد المطلب اور حرب بن امیہ میں جب ریاست کے دعویٰ پر نزاع ہوئی تو دونوں نے نفیل ہی کو حکم مانا۔ نفیل نے عبد المطلب کے حق میں فیصلہ کیا۔
نفیل کے دو بیٹے تھے۔ عمرو، اور خطاب ۔ عمرو معمولی لیاقت کے آدمی تھے۔ لیکن ان کے بیٹے زید جو نفیل کے پوتے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کے شخص تھے۔ وہ ان ممتاز بزرگوں میں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعثت سے پہلے اپنے اجتہاد سے بت پرستی کو ترک کر دیا تھا۔ اور موحد بن گئے تھے۔ ان میں زید (زید کا مفصل حال اسد الغابہ کتاب الاوائل اور معارف ابن قنیبہ میں ملے گا) کے سوا باقیوں کے یہ نام ہیں۔ قیس بن ساعدہ، ورقہ بن نوفل۔
زید بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو علانیہ برا کہتے تھے اور لوگوں کو دین ابراہیمی کی ترغیب دلاتے تھے۔ اس پر تمام لوگ ان کے دشمن ہو گئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد خطاب سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ خطاب نے اس قدر ان کو تنگ کیا کہ وہ آخر مجبور ہو کر مکہ معظمہ سے نکل گئے۔ اور حراء میں جا رہے۔ تاہم کبھی کبھی چھپ کر کعبہ کی زیارت کو آتے۔ زید کے اشعار آج بھی موجود ہیں۔ جن سے ان کے اجتہاد اور روشن ضمیری کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ دو شعر یہ ہیں :
ارباً واحداً ام الف ربِ
ادین اذا تقسمت الامور
ترکت اللات والعزیٰ جمیعاً
کذلک یفعل الرجل البصیر
*ایک خدا کو مانوں یا ہزاروں کو؟ جب کہ امور تقسیم ہو گئے۔ میں نے لات اور عزیٰ (بتوں کے نام تھے ) سب خیر باد کہا اور سمجھدار آدمی ایسا ہی کرتا ہے۔*
خطاب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد قریش کے ممتاز آدمیوں میں سے تھے (کتاب المعارف ابن قتیبہ)۔ قبیلہ عدی اور بنی عبد الشمس میں مدت سے عداوت چلی آتی تھی اور چونکہ بنو میں خطاب بھی شامل تھے ، مجبور ہو کر بنو سہم کے دامن میں پناہ لی۔ عدی کا تمام خاندان مکہ معظمہ میں مقام صفا میں سکونت رکھتا تھا۔ لیکن جب انہوں نے بنو سہم سے تعلق پیدا کیا تو مکانات بھی انہی کے ہاتھ بیچ ڈالے۔ لیکن خطاب کے متعدد مکانات صفا میں باقی رہے جن میں سے ایک مکان حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وراثت میں پہنچا تھا۔ یہ مکان صفا اور مروہ کے بیچ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ڈھا کر حاجیوں کے اترنے کے لیے میدان بنا دیا۔ لیکن اس سے متعلق بعض دکانیں مدت تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان کے قبضے میں رہیں۔ (تاریخ مکہ للارزقی۔ ذکر رباع بن بنی عدی بن کعب)۔
خطاب نے متعدد شادیاں اونچے گھرانوں میں کیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں کا نام خنتمہ تھا، جو ابن ہشام بن المغیرۃ کی بیٹی تھیں، مغیرۃ اس رتبہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی سے لڑنے کے لئے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام انہی سے متعلق ہوتا تھا۔ اسی مناسبت سے ان کو صاحب الاعنہ کا لقب حاصل تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی کے پوتے تھے۔ مغیرہ کے بیٹے ہشام بھی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا تھے۔ ایک ممتاز آدمی تھے۔
*قبولیت اسلام:*
===========
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ستائیسواں سال تھا کہ عرب میں آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے اور اسلام کی صدا بلند ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے میں زید کی وجہ سے توحید کی آواز بالکل نامانوس نہیں رہی تھی۔ چنانچہ سب سے پہلے زید کے بیٹے سعید اسلام لائے۔ سعید کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن فاطمہ سے ہوا تھا۔ اس تعلق سے فاطمہ بھی مسلمان ہو گئیں۔ اسی خاندان میں ایک اور معزز شخص نعیم بن عبد اللہ نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ ان کے کانوں میں جب یہ صدا پہنچی تو سخت برہم ہوئے۔ یہاں تک کہ قبیلے میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے ان کے دشمن بن گئے۔ لبینہ ان کے خاندان میں ایک کنیز تھی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کو بے تحاشہ مارتے اور مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے ذرا دم لے لوں تو پھر ماروں گا۔ لبینہ کےا سوا اور جس جس پر قابو چلتا تھا زد و کوب سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ لیکن اسلام کا نشہ ایسا تھا کہ جس کو چڑھ جاتا تھا اترتا نہ تھا۔ ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بد دل نہ کر سکے۔ آخر مجبور ہو کر فیصلہ کیا کہ (نعوذ باللہ) خود بانی اسلام کا قصہ پاک کر دیں، تلوار کمر سے لگا کر سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف چلے۔ کارکنان قضا نے کہا :
ع : آمد آں یارے کہ ماہم خواستیم
راہ میں اتفاقاً نعیم بن عبد اللہ مل گئے۔ ان کے تیور دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے ؟ بولے کہ ” محمد کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں۔ ” انہوں نے کہا کہ ” پہلے اپنے گھر کی خبر لو، خود تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام لا چکے ہیں۔ ” فوراً پلٹے اور بہن کے ہاں پہنچے۔ وہ قرآن پڑھ رہی تھیں۔ ان کی آہٹ پا کر چپ ہو گئیں۔ اور قرآن کے اجزاء چھپا لئے لیکن آواز ان کے کانوں میں پڑ چکی تھی۔ بہن سے پوچھا کہ یہ کیا آواز تھی۔ بہن نے کہا کہ کچھ نہیں۔ بولے کہ نہیں میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو۔ یہ کہہ کر بہنوئی سے دست و گریبان ہو گئے۔ اور جب ان کی بہن بچانے کو آئیں تو ان کی بھی خبر لی۔ یہاں تک کہ ان کا بدن لہو لہان ہو گیا۔ اسی حالت میں ان کی زبان سے نکلا کہ ” عمر! جو بن آئے کرو۔ لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا۔ ” ان الفاظ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر خاص اثر کیا۔ بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کے بدن سے خون جاری تھا۔ یہ دیکھ کر اور بھی رقت ہوئی فرمایا کہ تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھ کو بھی سناؤ۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قرآن کے اجزاء لا کر سامنے رکھ دیئے۔ اٹھا کر دیکھا تو یہ سورۃ تھی۔
*سبح للہ ما فی السموت والارض و ھو العزیز الحکیم۔*
ایک ایک لفظ پر ان کا دل مرعوب ہوتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے *امنوا باللہ و رسولہ* تو بے اختیار پکار اٹھے کہ *اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمداً رسول اللہ۔*
یہ وہ زمانہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ارقم کے مکان میں جو کوہ صفا کی تلی میں واقع تھا پناہ گزین تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آستانہ مبارک پر پہنچ کر دستک دی۔ چونکہ شمشیر بکف گئے تھے۔ اور اس تازہ واقعہ کی کسی کو اطلاع نہ تھی اس لیے صحابہ کو تردد ہوا۔ لیکن حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آنے دو۔ مخلصانہ آیا ہے۔ تو بہتر ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اندر قدم رکھا تو رسول اللہ خود آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر فرمایا ” کیوں عمر کس ارادہ سے آیا ہے ؟” نبوت کی پر رعب آواز نے ان کو کپکپا دیا۔ نہایت خضوع کے ساتھ عرض کیا کہ ” ایمان لانے کے لئے ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے۔ اور ساتھ ہی تمام اصحاب نے مل کر زور سے اللہ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی تمام پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ (نساب الاشراف بلاذری و طبقات ابن سعد و اسد الغابہ ابن عساکر و کامل ابن الاثیر)۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے نے اسلام کی تاریخ میں نیا دور پیدا کر دیا۔ اس وقت تک 40، 50 آدمی اسلام لا چکے تھے۔ عرب کے مشہور بہادر حضرت حمزہ سید الشہداء نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم اپنے مذہبی فرائض اعلانیہ نہیں ادا کر سکتے تھے۔ اور کعبہ میں تو نماز پڑھنا بالکل ناممکن تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کے ساتھ دفعۃً یہ حالت بدل گئی۔ انہوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا۔ کافروں نے اول اول ان پر بڑی شدت کی۔ لیکن وہ برابر ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کعبہ میں جا کر نماز ادا کی۔ ابن ہشام نے اس واقعہ کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی ان الفاظ میں روایت کیا۔
فلما اسلم عمر قاتل فریشاً حتی صلی عند الکعبۃ و صلینا معہ۔
*”جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے تو قریش سے لڑے ، یہاں تک کہ کعبہ میں نماز پڑھی اور ان کے ساتھ ہم نے بھی پڑھی۔ “*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا واقعہ سنہ نبوی کے چھٹے سال میں واقع ہوا۔
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہجرت:*
==========================
اہل قریش ایک مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے دعویٰ کو بے پروائی کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ لیکن اسلام کو جس قدر شیوع ہوتا جاتا تھا ان کی بے پروائی غصہ اور ناراضی سے بدلتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب ایک جماعت کثیر اسلام کے حلقے میں آ گئی تو قریش نے زور اور قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہا۔ جناب ابو طالب کی زندگی تک تو اعلانیہ کچھ نہ کر سکے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد کفار ہر طرف سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جس جس مسلمان پر قابو ملا اس طرح ستانا شروع کیا کہ اگر اسلام کے جوش اور وارفتگی کا اثر نہ ہوتا تو ایک شخص بھی اسلام پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ حالت پانچ چھ برس تک رہی اور یہ زمانہ اس سختی سے گزارا کہ اس کی تفصیل ایک نہایت درد انگیز داستان ہے۔
اسی اثناء میں مدینہ منورہ کے ایک معزز گروہ نے اسلام قبول کر لیا تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جن لوگوں کو کفار کے ستم سے نجات نہیں مل سکتی وہ مدینہ کو ہجرت کر جائیں۔ سب سے پہلے ابو سلمہ عبد اللہ بن اشہل رضی اللہ تعالیٰ عنہم پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مؤذن اور عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ کا قصد کیا۔ صحیح بخاری میں 20 کا عدد مذکور ہے۔ لیکن ناموں کی تفصیل نہیں۔ ابن ہشام نے بعضوں کے نام لکھے اور وہ یہ ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جن لوگوں نے ہجرت کی زید بن خطاب، سعید بن زید بن خطاب، خنیس بن حذافہ سہمی، عمرو بن سراقہ، عبد اللہ بن سراقہ، واقد بن عبد اللہ تمیمی، خولی بن ابی خولی، مالک بن ابی خولی، لیاس بن بکیر، عاقل بن بکیر، عامر بن بکیر، خالد بن بکیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان میں سے زید حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی، سعید بھتیجے ، خنیس داماد اور باقی دوست احباب تھے۔
مدینہ منورہ کی وسعت چونکہ کم تھی، مہاجرین زیادہ تر قبا میں (جو مدینہ سے دو تین میل ہے ) قیام کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہیں رفاعہ بن عبد المنذر کے مکان پر ٹھہرے۔ قباء کو عوالی بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ان کی فرود گاہ کا نام عوالی ہی لکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد اکثر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ہجرت کی۔ یہاں تک کہ (662 عیسوی) 13 نبوی میں جناب رسالت صلی اللہ علی و سلم نے مکہ چھوڑا اور آفتاب رسالت مدینہ کے افق سے طلوع ہوا۔
مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مہاجرین کے رہنے سہنے کا انتظام کیا۔ انصار کو بلا کر ان میں اور مہاجرین میں برادری قائم کی جس کا اثر یہ ہے کہ جو مہاجر جس انصاری کا بھائی بن جاتا انصاری مہاجر کو اپنی جائیداد، اسباب، نقدی تمام چیزوں میں آدھا آدھا بانٹ دیتا تھا۔ اس طرح تمام مہاجرین اور انصار بھائی بھائی بن گئے۔ اس رشتہ کے قائم کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم طرفین کے رتبہ اور حیثیت کا فرق مراتب ملحوظ رکھتے تھے ، یعنی جو مہاجر جس درجے کا ہوتا اسی رتبے کے انصاری کو اس کا بھائی بناتے تھے۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلامی بھائی:*
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس کا بھائی قرار دیا، ان کا نام عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا، جو قبیلہ بنو سالم کے سردار تھے (سیرت ابن ہشام حافظ ابن حجر نے بھی اصابہ میں ابن سعد کے حوالہ سے عتبان ہی کا نام لکھا ہے)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریف لانے پر بھی اکثر صحابہ نے قباء ہی میں قیام رکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہیں مقیم رہے۔ لیکن یہ معمول کر لیا کہ ایک دن ناغہ دے کر بالالتزام آنحضرت صلی اللہ علی و سلم کے پاس جاتے اور دن بھر خدمت اقدس میں حاضر رہتے۔ ناغہ کے دن یہ بندوبست کیا تھا کہ ان کے برادر اسلامی عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ اور جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے سنتے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر روایت کرتے تھے۔ چنانچہ بخاری نے متعدد ابواب مثلاً العلم، باب النکاح وغیرہ میں ضمناً اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔
مدینہ پہنچ کر اس بات کا وقت آیا کہ اسلام کے فرائض و ارکان محدود اور معین کئے جائیں کیونکہ مکہ معظمہ میں جان کی حفاظت ہی سب سے بڑا فرض تھا، یہی وجہ تھی کہ زکوٰۃ، روزہ، نماز جمعہ، نماز عیدین، صدقہ فطر کوئی چیز وجود میں نہیں آئی تھی۔ نمازوں میں بھی یہ اختصار تھا کہ مغرب کے سوا باقی نمازوں میں صرف دو دو رکعتیں تھیں۔ یہاں تک کہ نماز کے لئے اعلان کا طریقہ بھی نہیں معین ہوا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا انتظام کرنا چاہا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں نماز کے اعلان کے لئے بوق اور ناقوس کا رواج تھا۔ اس لئے صحابہ نے یہی رائے دی، ابن ہشام نے روایت کی ہے کہ یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تجویز تھی۔ بہرحال یہ مسئلہ زیر بحث تھا، اور کوئی رائے قرار نہیں پائی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ نکلے اور انہوں نے کہا کہ ایک آدمی اعلان کرنے کے لیے کیوں نہ مقرر کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی وقت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اذان کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان)۔
یہ بات لحاظ کے قابل ہے کہ اذان نماز کا دیباچہ اور اسلام کا بڑا شعار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے اس سے زیادہ کیا فخر کی بات ہو سکتی ہے کہ یہ شعار اعظم انہی کی رائے کے موافق قائم ہوا۔
جاری ہے ۔۔۔۔












