خلیفہ دوم مراد رسول داماد بتول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر 3
پیشکش : محمدنوید
خلافت
=======

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں مرتدین عرب اور مدعیان نبوت کا خاتمہ ہو کر فتوحات ملکی کا آغاز ہو چکا تھا۔ خلافت کے دوسرے ہی برس یعنی 12 ہجری میں عراق پر لشکر کشی ہوئی اور حیرہ کے تمام اضلاع فتح ہو گئے۔ 13 ہجری (633 عیسوی) میں شام پر حملہ ہوا۔ اور اسلامی فوجیں تمام اضلاع میں پھیل گئیں۔ ان مہمات کا ابھی آغاز ہی تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عنان خلافت اپنے ہاتھ میں لی تو سب سے ضروری کام انہی مہمات کا انجام دینا تھا۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم ان واقعات کی تفصیل لکھیں یہ بتانا ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے فارس و شام سے کیا تعلقات تھے۔

9 ہجری میں رومیوں نے خاص مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود پیش قدمی کر کے مقام تبوک تک پہنچے تو ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اگرچہ اسی وقت عارضی طور سے لڑائی رک گئی لیکن رومی اور غسانی مسلمانوں کی فکر سے کبھی غافل نہیں رہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ مدینہ پر چڑھ نہ آئیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت مشہور ہوا کہ آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی تو ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر کہا کہ کچھ تم نے سنا! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا؟ کہیں غسانی تو نہیں چڑھ آئے۔

اسی حفظ ماتقدم کے لئے 11 ہجری میں رسول اللہﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سردار بنا کر شام کی مہم پر بھیجا۔ اور چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مقابلہ تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بڑے بڑے نامور صحابہ مامور ہوئے کہ فوج کے ساتھ جائیں۔ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی روانہ نہیں ہوئے تھے کہ رسول اللہ نے بیمار ہو کر انتقال فرمایا۔ غرض جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو عرب کی یہ حالت تھی کہ دونوں ہمسایہ سلطنتوں کا ہدف بن چکا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام پر لشکر کشی کی تو فوج سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مارا جائے گا شہید ہو گا۔ اور جو بچ جائے گا مدافع عن الدین ہو گا۔ یعنی دین کو اس نے دشمنوں کے حملے سے بچایا ہو گا۔ ان واقعات سے ظاہر ہو گا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کام شروع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس کی تکمیل کی اس کے کیا اسباب تھے ؟ اس تمہیدی بیان کے بعد ہم اصل مطلب شروع کرتے ہیں۔

عراق کی یہ فتوحات خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بڑے کارناموں پر مشتمل ہیں۔ لیکن ان کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمات عراق کا خاتمہ کر دیا ہوتا۔ لیکن چونکہ ادھر شام کی مہم در پیش تھی اور جس زور شور سے وہاں عیسائیوں نے لڑنے کی تیاریاں کی تھی اس کے مقابلے کا وہاں پورا سامان نہ تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربیع الثانی 13 ہجری (634 عیسوی) میں خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بھیجا کہ فوراً شام کو روانہ ہوں، ادھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روانہ ہوئے اور عراق کی فتوحات دفعتہً رک گئیں۔

(جغرافیہ نویسوں نے عراق کے دو حصے کئے ہیں یعنی جو حصہ عرب سے ملحق ہے ، اس کو عراق عرب اور جو حصہ عجم سے ملحق ہے اس کو عراق عجم کہتے ہیں۔ عرا ق کی حدود اربعہ یہ ہیں شمال میں جزیرہ، جنوب میں بحر فارس، مشرق میں خوزستان اور مغرب میں دیار بکر ہے جس کا مشہور شہر موصل ہے اور دارالسلطنت اس کا بغداد ہے اور جو بڑے بڑے شہر اس میں آباد ہیں وہ بصرہ کوفہ واسطہ وغیرہ ہیں۔

ہمارے مؤرخین کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ سنین کو عنوان قرار دیتے ہیں لیکن اس میں یہ نقص ہے کہ واقعات کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایران کی فتوحات لکھتے آ رہے ہیں کہ سنہ ختم ہوا چاہتا ہے اور ان کو اس سنہ کے تمام واقعات لکھنے ہیں۔ اس لیے قبل اس کے کہ ایران کی فتوحات تمام ہوں یا موزوں موقع پر ان کا سلسلہ ٹوٹے شام و مصر کے واقعات کو جو اسی سنہ میں پیش آئے تھے چھیڑ دینا پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے ایران کی تمام فتوحات کو ایک جا، شام کو ایک جا اور مصر کو ایک جا لکھا ہے )۔

*حضرت خالد بن ولید ؓ کی معزولی:*
=========================

حضرت صدیق اکبرؓ نے خالد بن ولیدؓ کو افواج شام کا سپہ سالار اعظم بنا کر بھیجا تھا، حضرت خالد بن ولیدؓ ایک زبردست جنگ جو اور بے نظیر بہادر سپہ سالار تھے، عراق میں بھی اب تک خالد بن ولیدؓ ہی سپہ سالاراعظم تھے اور ان کی حیرت انگیز بہادری اور جنگی قابلیت نے دربار ایران اور ساسانی شہنشاہی کو حیران وششدر اور مرعوب بنا دیا تھا، رومی سلطنت کو بھی ابتداء اسی طرح مرعوب بنانے اور ایک زبردست ٹکر لگانے کی ضرورت تھی، لہذا صدیق اکبرؓ نے سیف اللہ کو شام کی طرف سپہ سالار اعظم بنا کر بھیجا اور ان کا اندازہ نہایت صحیح ثابت ہوا؛ کیونکہ خالد بن ولیدؓ نے شام میں پہنچ کر یرموک کے میدان میں ایسی زبردست ٹکر لگائی کہ رومی شہنشاہ ہی کی کمر ٹوٹ گئی اور قیصر روم کے رعب وسطوت میں زلزلہ برپا ہوگیا، ان ابتدائی لڑائیوں کے بعد لشکر اسلام کے قبضہ میں ایران و روم کے آباد وسرسبز صوبے آنے والے تھے اور دونوں شہنشاہیوں کی باقاعدہ افواج سے معرکہ آرائی ومیدان داری شروع ہونے والی تھی، لہذا اب ضرورت تھی کہ اسلامی افواج نہ صرف ایک فتح مند وملک گیر سالار کے زیر حکم کام کریں؛ بلکہ ایک مدبر وملک دار افسر کی ماتحتی میں مصروف کار ہوں۔

حضرت فاروق اعظمؓ خالد بن ولیدؓ کی جنگی قابلیت کے منکر نہ تھے، بلکہ وہ خالد بن ولیدؓ کو کسی قدر غیر محتاط اور مشہور شخص سمجھتے تھے، ان کو شروع ہی سے یہ اندیشہ تھا کہ خالد بن ولیدؓ کی بے احتیاطی کہیں مسلمانوں کی کسی جمعیت کو ہلاکت میں نہ ڈال دے، حضرت صدیق اکبرؓ بھی اس احساس میں فاروق اعظمؓ کے مخالف نہ تھے؛ لیکن وہ عراق اور شام کے ابتدائی معرکوں میں حضرت خالد بن ولیدؓ کو ہی سب سے زیادہ موزوں اور مناسب سمجھتے تھے وہ خالد بن ولیدؓ کی سرداری کے نقائص کو خوبیوں کے مقابلے کمتر پاتے تھے اور اسی لئے انہوں نے دنیا کی دونوں سب سے بڑی طاقتوں (روم اور ایران) کو سیف اللہ کی برش وتابانی دکھانی ضروری سمجھی، یہ مدعا چونکہ حاصل ہوچکا تھا، لہذا اب ضرورت نہ تھی، کہ حضرت خالد بن ولیدؓ ہی سپہ سالار اعظم رہیں، اس موقعہ پر اُن الفاظ کو ایک مرتبہ پھر پڑھو، جو صدیق اکبرؓ نے فاروق اعظم کو اپنے آخری وقت میں لشکر عراق کی نسبت فرمائے تھے اور جو اوپر درج ہوچکے ہیں، فاروقؓ اعظم ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ:

*خدائے تعالیٰ ابوبکرؓ پر رحم کرے کہ انہوں نے خالد بن ولیدؓ کی امارت کی پردہ پوشی کردی؛ کیونکہ انہوں نے مجھ کو خالدؓ کے ہمراہیوں کی نسبت اپنے آخری وقت میں حکم دیا کہ عراق کی جانب واپس بھیج دینا، لیکن خالدؓ کا کچھ ذکر نہیں کیا۔*

اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے جو حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی کا حکم دیا، وہ منشائے صدیقی کے خلاف نہ تھا اور یہ بھی کیسے ہوسکتا ہے کہ فاروق اعظمؓ خلیفہ ہوتے ہی سب سے پہلا کام وہ کرتے جو صدیق اکبرؓ کی منشا اور خواہش کے بالکل خلاف ہوتا، فاروقؓ اعظم کی خلافت کا حال شروع کرتے ہوئے عام طور پر مؤرخین اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ صدیق اکبرؓ نے فاروق اعظم کو لشکر اُسامہ سے اس لئے جدا کرکے اپنے پاس رکھا تھا کہ امور خلافت میں ان کے مشورے سے امداد حاصل کریں اور خلافت صدیقی کے پورے زمانے میں آخر وقت تک فاروق اعظم ؓ ہی صدیق اکبرؓ کے وزیر ومشیر رہے، صدیق اکبرؓ کا کوئی کام ایسا نہ تھا، جس میں فاروق اعظم ؓ سے استخراج واستصواب نہ کرلیا گیا ہو، دنیا میں بہت سے لوگ ظاہر بیں ہوا کرتے ہیں اور وہ اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے بڑے بڑے آدمیوں سے ایسی باتوں کو منسوب کر دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا کرتے، جن کو اُن بڑے آدمیوں سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا، فاروق اعظم نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی بعض بے احتیاطیوں پر ضرور اظہار ناراضگی کیا؛ لیکن یہ اظہار ناراضگی بس وہیں تک تھا، جہاں تک شریعت اور اُن کی تحقیق واجتہاد کا تعلق تھا، اس اظہار ناراضگی کو عداوت وعناد کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا تھا نہ ہوا، وہ فاروقؓ اعظم جو اسیران بدر کی نسبت یہ آزادانہ حکم دے کہ جو جس کا عزیز ورشتہ دار ہے وہ اسی کے ہاتھ سے قتل کیا جائے، اس کی نسبت یہ رائے قائم کرلی کہ اُن کو حضرت خالدؓ سے کوئی ذاتی عداوت تھی، سراسر ظلم اور نہایت ہی رکیک وبیہودہ خیال ہے۔

فاروق اعظمؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو معزول کرکے درحقیقت امت محمدیہ پر بڑا احسان کیا اور ایک ایسی نظیر پیدا کردی کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے اور خدمت دینی کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو ہیچ سمجھنے کی مثال میں سب سے پہلے ہم حضرت خالد بن ولیدؓ ہی کا نام لیتے ہیں، حضرت خالدؓ بن ولید اگر مرتے دم تک افواج اسلام کے سپہ سالار اعظم رہتے ،تب بھی اُن کی بہادری اور جنگی قابلیت کے متعلق اس سے زیادہ کوئی شہرت نہ ہوتی جو آج موجود ہے، لیکن اس معزولی کے واقعہ نے حضرت خالدؓ بن ولید کی عظمت وعزت میں ایک ایسے عظیم الشان مرتبہ کا اضافہ کر دیا ہے جس کے آگے اُن کی سپہ گری وبہادری کے مرتبہ کی کوئی حقیقت نہیں ہم ایک طرف حضرت خالد بن ولیدؓ کے جنگی کارناموں پر فخر کرتے ہیں تو دوسری طرف اُن کی للہیت اور اطاعت ِ اولی الامر کو فخر یہ پیش کرتے ہیں۔

بعض مورخین نے اپنی ایک یہ لطیف رائے بھی بیان کی ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو چونکہ ہر ایک معرکہ میں فتح و فیروزی حاصل ہوتی رہی تھی، لہذا لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ تمام فتوحات حضرت خالد بن ولیدؓ کی سپہ سالاری کے سبب ہیں، مسلمانوں کی کامیابیاں اور فتح مندیاں کسی شخص سے وابستہ نہیں ہیں، بلکہ مشیت ایزدی اور اسلام کی برکات ان فتوحات کا اصل سبب ہے، اس روایت کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ فاروق اعظمؓ نے جس طرح افواج شام کی سپہ سالاری میں تبدیلی فرمائی، اسی طرح افواجِ عراق کی سپہ سالاری سے بھی حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو معزول کرکے ابو عبیدہؓ بن مسعود کا ماتحت بنا دیا تھا۔

*آج بھی اگر مسلمان اسلام کی پیروی میں صحابہ کرام کا نمونہ بن جائیں،تو وہی کامیابیاں اورفتح مندیاں جو قرون اولیٰ میں حاصل ہوئی تھیں پھر حاصل ہونے لگیں۔*

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جو قابل تذکرہ جنگی انتظامات کئے، ان میں سب سے پہلا کام یہ تھا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو افواجِ شام کی اعلیٰ سپہ سالاری سے معزول کرکے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو ملک شام کی اسلامی افواج کاسپہ سالار اعظم بنایا، اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی، اور حضرت خالد بن ولید نے حضرت ابوعبیدہ کی ماتحتی میں نہ صرف جان فروشی اور کافر کشی میں پہلے سے زیادہ مستعدی دکھلائی، بلکہ حضرت ابوعبیدہ کو ہمیشہ مفید ترین جنگی مشورے دیتے رہے، یہی وہ امتیاز خاص ہے جو حضرت خالد بن ولید کے مرتبہ اور عزت کو تمام دنیا کی نگاہ میں بہت بلند کر دیتا اور اُن کو روئے زمین کا بے نظیر سپہ سالار اور سچا پکا مخلص انسان ثابت کرتا ہے کہ جس کے دل میں رضائے الہی کے سوا شہرت طلبی اور ریاء کا نام ونشاں بھی نہ تھا۔

دوسرا کام فاروق اعظمؓ کا یہ تھا کہ انہوں نے ابو عبیدہؓ بن مسعود کو ایک فوج کے ساتھ عراق کی جانب روانہ کیا اور اُن کو ملک عراق کے تمام اسلامی افواج کا سپہ سالار اعظم مقرر کیا، ابو عبیدہؓ بن مسعود کے روانہ کرنے کے بعد تیسرا کام فاروقؓ اعظم کا یہ تھا کہ یعلیٰ بن اُمیہؓ کو ملکِ یمن کی جانب روانہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس آخری وصیت کو پورا کریں کہ ملکِ عرب میں مسلمانوں کے سوا کوئی یہودی اور کوئی نصرانی نہ رہنے پائے، چونکہ مسلمان حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت کے سوا دو برس دوسرے اعظم امور کی انجام دہی میں مصروف رہے کہ اس وصیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پورا کرنے کا ابھی تک موقعہ نہ مل سکا تھا۔

*فتح دمشق:*
========

جنگ یرموک میں رومی لشکر شکست فاش کھا کر بھاگا اور مقامِ فحل میں جاکر رُکا۔ ہرقل نے احکام جاری کئے جن کے موافق فحل میں بھی اور دمشق میں بھی رومی لشکر عظیم مقابلہ کے لئے فراہم ہوگیا، دمشق کو خوب مضبوطی کرلی گئی، اور فلسطین وحمص کی طرف سے بوقت ضرورت دمشق والوں کو مزید کمک بھیجنے کا اہتمام بھی ہوگیا، افواج دمشق کا سپہ سالار اعظم ہرقل نے نسطاس بن نسطورس کو مقرر کیا اور ہامان نامی بطریق دمشق کا گورنر پہلے سے وہاں موجود تھا اسلامی لشکر ابھی یرموک ہی میں خیمہ زن تھا، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے فاروقؓ اعظم کے حکم کے موافق لشکرِ عراق پر جو خالد بن ولیدؓ کے ہمراہ عراق سے آیا تھا، ہاشم بن عتبہ کو امیر مقرر کرکے عراق کی جانب روانہ کردیا، ایک دستہ فوج فحل کی جانب روانہ کیا، باقی فوج کے چند حصے کرکے ایک حصہ ذوالکلاعؓ کی سرداری میں روانہ کیا کہ دمشق اور حمص کے درمیان مقیم رہ کر اُس فوج کو جو ہر قل حمص سے دمشق والوں کی کمک کو روانہ کرے روکیں، ایک حصہ کو فلسطین ودمشق کے درمیان متعین کیا کہ فلسطین کی طرف سے رومی فوجوں کو دمشق کی جانب نہ آنے دیں، باقی فوج لے کر حضرت ابو عبیدہؓ خود دمشق کی جانب متوجہ ہوئے، دمشق پہنچنے سے پہلے مقام غوطہ کو فتح کیا، آخر ماہِ رجب ۱۳ ھ میں اسلامی لشکر نے دمشق کا محاصرہ کرلیا، شہر میں کافی فوج تھی، لیکن رومیوں کی جرأت نہ ہوئی، کہ میدان میں نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے انہوں نے شہر کی مضبوط فصیلوں اور اپنے سامان مدافعت کی پناہ لینی مناسب سمجھی، حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح باب الحابیہ کی جانب خیمہ زن ہوئے، حضرت خالد بن ولیدؓ اورحضرت عمروبن العاصؓ باب توما کی جانب اُترے، حضرت شرجیلؓ بن حسنہ فرادیس کی جانب اور یزید بن ابی سفیان باب صغیر وباب کیسان کی جانب فروکش ہوئے، اس طرح دمشق کے چاروں طرف اسلامی لشکر نے محاصرہ ڈال دیا، محصورین شہر کی فیصلوں پر چڑھ کر کبھی پتھروں کی بارش منجنیقوں کے ذریعہ کرتے کبھی تیروں کا مینہ برساتے مسلمان بھی اُن کے جواب دینے میں کوتاہی نہ کرتے اس طرح یہ محاصرہ ماہ رجب ۱۳ھ سے ۱۶محرم ۱۴ ھ تک چھ مہینے جاری رہا، ہر قل نے حمص سے دمشق والوں کی کمک کے لئے جو فوجیں روانہ کیں اُن کو ذوالکلاعؓ نے دمشق تک پہنچنے نہ دیا؛ کیونکہ وہ اسی غرض کے لئے دمشق وحمص کے درمیان مقیم تھے جب چھ مہینے گذر گئے تو دمشق والے ہر قل کی امداد سے مایوس ہوگئے اور اُن میں مقابلہ کرنے کا جوش کم ہونے لگا تو حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح نے اس حالت سے بروقت مطلع ہوکر اور محاصرہ کو زیادہ طول دینا مناسب نہ سمجھ کر ہر سمت کے سرداروں کو حکم دیا کہ کل شہر پر حملہ آوری ہوگی۔

مسلمانوں کی اس جنگی تیاری اورحملہ آوری کا حال معلوم کرکے امراء دمشق کے ایک وفد نے باب توما کی جانب سے حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس آکر امان طلب کی، حضرت خالد بن ولید نے اُن کو امان نامہ لکھدیا اور بلا مقابلہ شہر کے اندر داخل ہوئے، خالد بن ولیدؓ نے جو امان نامہ دمشق والوں کو لکھ دیا اُس کا مضمون اس طرح تھا۔

*‘‘خالد بن ولیدؓ نے دمشق والوں کو یہ رعایتیں دی ہیں کہ جب اسلامی لشکر دمشق میں داخل ہوگا تو دمشق والوں کو امان دی جائے گی اُن کی جان ومال اور گرجوں پر کوئی تصرف نہ کیا جائے گا نہ شہر دمشق کی شہر پناہ منہدم کی جائے گی نہ کسی مکان کو مسمار ومنہدم کیا جائے گا، اسلامی لشکر کا کوئی شخص شہر والوں کے کسی مکان میں سکونت اختیار نہ کرے گا، مسلمان اور ان کا خلیفہ بجز نیکی کے کوئی بُرا سلوک دمشق والوں سے نہ کریں گے جب تک کہ دمشق والے جزیہ ادا کرتے رہیں گے’’*

ادھر خالد بن ولیدؓ صلح کے ذریعہ شہر میں داخل ہوئے، ٹھیک اُسی وقت باقی ہر سہ جوانب سے اسلامی سردار سیڑھیاں لگا لگا کر اور دروازے توڑ توڑ کر قہر وغلبہ کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے، وسط شہر میں خالدؓ اور ابو عبیدہؓ کی ملاقات ہوئی، ابو عبیدہؓ نے کہا کہ ہم نے شہر کو بزور شمشیر فتح کیا ہے، خالد بن ولیدؓ نے کہا کہ میں نے بمصالحت شہر پر قبضہ کیا ہے، بعض روایات کی رُو سے معلوم ہوتا ہے کہ بطریق ہامان نے خود امراء دمشق کو بھیج کر خالد بن ولید سے عہد نامہ لکھوا لیا تھا، اور وہ مسلمانوں کے حملہ کی طاقت اور نیچے کو دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر مسلمان اپنے متفقہ حملے اور پوری کوشش میں ناکام رہے اور بزور شمشیر دمشق میں داخل نہ ہوسکے تو آئندہ بھی مدافعت کو جاری رکھا جائے گا اور خالدؓ کے عہد نامہ کو کوئی وقعت نہ دی جائے گی۔

لیکن اگر مسلمان اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگئے اور زبردستی شہر میں داخل ہوئے تو اس عہد نامہ کے ذریعے اُس برتاؤ سے محفوظ رہیں گے، جو بزور شمشیر فتح کئے ہوئے شہر کے ساتھ آئین جنگ کے موافق کیا جاتا ہے ادھر ابو عبیدہؓ بزور شمشیر شہر میں داخل ہوئے اور اُدھر دمشق والوں نے خود دروازہ کھول کر خالد بن ولیدؓ کو شہر کے اندر بلالیا، بہر حال کوئی بات ہوئی، یہ ضرور ہوا کہ خالد بن ولیدؓ بذریعہ مصالحت داخل دمشق ہوئے اور ابو عبیدہؓ بن جراح بزورِ شمشیر۔

وسط شہر میں جب دونوں سردار ملاقی ہوئے تو یہ مسئلہ در پیش ہوا کہ دمشق بزور شمشیر مفتوح سمجھا جائے یا بمصالحت، بعض شخصوں نے کہا کہ خالد بن ولیدؓ چونکہ افواجِ اسلامی کے سپہ سالار اعظم نہ تھے، لہذا اُن کا عہد نامہ جائز نہیں سمجھا جائے گا ایسا عہد نامہ صرف ابو عبیدہؓ لکھ سکتے تھے، حضرت ابو عبیدہؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا کوئی ایک معمولی سپاہی بھی جو عہد و اقرار کرلے گا وہ تمام مسلمانوں کو تسلیم کرنا پڑے گا لہذا خالد بن ولیدؓ کا عہد نامہ جائز سمجھا جائے گا، اس پر یہ رائے پیش کی گئی کہ وسط شہر سے باب توما تک نصف شہر بذریعہ مصالحت سمجھا جائے گا، اور باقی نصف شہر بذریعہ شمشیر مسخر تصور کیا جائے؛ لیکن حضرت ابو عبیدہؓ نے اس کو بھی پسند نہ فرمایا اور تمام شہر خالد بن ولیدؓ کے عہد نامہ کے موافق بمصالحت مفتوح سمجھا گیا اور ان تمام باتوں پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا جن کی نسبت خالد بن ولیدؓ نے اپنے عہد نامے میں تصریح فرمادی تھی، ابن خلدون کی روایت کے موافق خالد بن ولیدؓ بزور شمشیر باب توما کی طرف سے داخل ہوئے، تو شہر والوں نے باقی دروازوں کے سامنے والے سرداروں سے مصالحت کرکے اُن کو فوراً بمصالحت شہر میں داخل کیا، بہرحال مسلمانوں نے دمشق والوں کے ساتھ مصالحانہ سلوک کیا اور شہر والوں کو کوئی آزار نہیں پہنچایا، ابو عبیدہؓ بن جراح نے یزید بن ابی سفیان کو دمشق کا عامل مقرر کیا اور رومی سرداروں نیز سپاہیوں کو دمشق سے نکل کر جہاں اُن کا جی چاہا چلے جانے دیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔