فاتح روم ایران امیر المومینین عادل امت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
قسط نمبر4
جنگ فحل_اور_بیسان
پیشکش : محمدنوید
================

یزید بن ابی سفیانؓ کو دمشق میں ضروری جمعیت کے ساتھ چھوڑ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح دمشق سے مقامِ فحل کی جانب بڑھے جہاں ہر قل کا نامی سردار سقلاء بن مخراق لاکھوں آدمیوں کا لشکر لئے ہوئے پڑا تھا، دمشق سے روانہ ہوتے وقت حضرت ابوعبیدہؓ نے خالد بن ولیدؓ کو مقدمۃ الجیش کا، شرجیل بن حسنہ کو قلب کا ،عمرو بن عاصؓ کو میمنہ کا، ضرار بن ازور ؓ کو سواروں کا، عیاض بن غنمؓ کو پیادوں کا افسر مقرر کیا اور خود میسرہ میں رہے، فحل کے قریب پہنچ کر اسلامی لشکر اپنے اپنے سرداروں کی ماتحتی میں مناسب موقعوں پر خیمہ زن ہوا، آدھی رات کے وقت رومیوں نے مسلمانوں کے قلب لشکر پر حملہ کیا، شرجیل بن حسنہؓ مقابل ہوئے، لڑائی کا شور وغل سُن کر تمام مسلمان سردار اپنا اپنا لشکر لے کر میدان میں آگئے اور ہنگامہ زور خورد پوری شدت اور تیزی سے گرم ہوا، یہ لڑائی کئی دن تک جاری رہی جس طرح دن کو معرکۂ کا رزار گرم رہتا تھا، اسی طرح رات کو بھی جاری رہتا تھا آخر رومی سردار سقلاء میدان جنگ میں اسی ہزار رومیوں کو مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کراکر خود بھی مقتول ہوا ،بقیۃ السیف نے راہ فرار اختیار کی اور مسلمانوں کے لئے بے شمار مالِ غنیمت چھوڑ گئے، فتح فحل کے بعد اسلامی لشکر ہیسان کی جانب بڑھا۔

بیسان کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں بھی سخت مقابلہ کرنا پڑے گا، اسلامی لشکر نے شہر وقلعہ کا محاصرہ کرلیا اسی حالت میں خبر پہنچی کہ ایک رومی سردار زبردست فوج لئے ہوئے دمشق کی جانب گیا ہے تاکہ اس کو مسلمانوں کے قبضے سے نکال لے یہ خبر سُن کر ابو عبیدہؓ نے خالد بن ولیدؓ کو سواروں کا ایک دستہ دے کر دمشق کی جانب روانہ کیا، رومی سردار جب دمشق کے قریب پہنچا تو یزید بن ابی سفیانؓ عامل دمشق اُس کے مقابلہ کو نکلے اور ہنگامۂ جدال وقتال گرم ہوا عین معرکۂ جنگ میں رومیوں کے پیچھے سے خالد بن ولیدؓ پہنچ کر حملہ آور ہوئے اور اس رومی لشکر سے ایک شخص بھی بچ کر بھاگنے کا موقع نہ پاسکا، سب کے سب میدان میں کھیت رہے، حضرت خالد بن ولیدؓ یہاں سے فارغ ہوتے ہی واپس ابو عبیدہؓ کی خدمت میں پہنچ گئے، بسیان والوں نے اول مسلمانوں کا مقابلہ کرنے اور حملہ آور ہونے میں کمی نہیں کی لیکن بالآخر اپنے آپ کو اسلامی لشکر کے مقابلے کے قابل نہ پاکر صلح کی درخواست کی اور اسلامی سپہ سالار نے بخوشی اس درخواست کو منظور کرکے اہل بسیان پر جزیہ مقرر کیا اور ایک عامل وہاں مقرر فرما دیا، حضرت ابو عبیدہؓ نے ابو الاعوراسلمیؓ کو ایک دستہ فوج دے کر طبریہ کی جانب روانہ کیا تھا، اہل طبریہ نے بیسان والوں کا انجام دیکھ کر ابوالاعور کو بمصالحت شہر سپر د کردیا۔

یزید بن ابی سفیانؓ نے دمشق کے انتظام پر قابو پاکر اپنے بھائی معاویہ بن ابی سفیان کو ایک دستہ فوج دے کر عرقہ کی جانب روانہ کیا، انہوں نے عرقہ کو فتح کرلیا، پھر یزید بن ابی سفیان صیداء حبیل وبیروت کی طرف متوجہ ہوئے اور معمولی زود خورد کے بعد ان تمام مقامات پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اس طرح دمشق اور تمام علاقہ اردن مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔

فتح یرموک کے بعد ملک شام میں مذکورہ بالا فتوحات مسلمانوں کو حاصل ہوچکیں تو انہوں نے اب حمص کی طرف جہاں قیصر ہرقل فروکش تھا بڑھنے کی تیاریاں کیں اب ملک شام اور رومی لشکروں کے ساتھ مسلمانوں کی معرکہ آرائیوں کے حالات وواقعات بیان کرنے سے پیشتر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ملکِ عراق کے ان حالات وواقعات کو بھی بیان کردیا جائے، جو خلافت فاروقی کی ابتدا سے لے کر اب تک وقوع پذیر ہوئے تھے، اگر ہم ملکِ شام کے واقعات کی سیر کرتے ہوئے دور تک آگے بڑھ گئے تو پھر ملکِ عراق کے حالات بہت زیادہ پیچھے ہٹ کر شروع سے مطالعہ کرنے میں وہ لطف حاصل نہ ہوسکے گا جو شامی وعراقی معرکہ آرائیوں کی متوازی سیر اور تطابق زمانی کے صحیح تصور سے حاصل ہوسکتا ہے۔

*حضرت ابو عبید بن مسعود ؓ:*
==================

حضرت فاروقِ اعظمؓ نے اپنی خلافت کے پہلے ہی ہفتے میں مثنیٰ بن حارثہؓ ،سعد بن عبیدؓ ،سلیط بن قیسؓ اور ابو عبید بن مسعودؓ کو عراق کی جانب روانہ کردیا تھا، مثنیٰ بن حارثہؓ، مدینہ منورہ سے تو باقی مذکورہ سرداروں کے ساتھ ہی روانہ ہوئے تھے، لیکن ابو عبید بن مسعودؓ جو لشکر عراق کے سپہ سالار اعظم بنا کر بھیجے گئے تھے، راستے کے عرب قبائل سے بھی لوگوں کو ہمراہ لیتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے گئے اس لئے وہ عراق میں مثنیٰ بن حارثہؓ سے ایک ماہ بعد پہنچے، مثنیٰ بن حارثہؓ نے حیرہ میں پہنچ کر دیکھا کہ ایرانیوں نے تمام رؤساءِ عراق کو مسلمانوں کی مخالفت پر آمادہ کردیا ہے ایران کے دربار مدائن میں خراسان کا گورنر رستم آکر قابو یافتہ ہوگیا ہے، اُس نے فوجی تنظیم اور انتظامی امور کو خوب مضبوط کرلینے کے علاوہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ کرلینے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے، سواد اور حیرہ کے مرزبان لڑائی کے لئے تلے ہوئے بیٹھے ہیں، مثنیٰ بنؓ حارثہ کے پہنچنے پر رستم نے ایک زبردست فوج مثنی کے مقابلہ کو روانہ کی، دوسری زبردست فوج شاہی خاندان کے ایک بہادر وتجربہ کار سپہ سالار نرسی کے ماتحت مقام کسکر کی جانب بھیجی اور تیسرا عظیم الشان لشکر جابان نامی سردار کے ماتحت نشیبی فرات کے سمت روانہ کیا جس نے مقام نمارق میں آکر چھاؤنی ڈال دی، حضرت مثنیؓ نے حیرہ سے نکل کر مقام خفان میں قیام کیا، اتنے میں ابو عبید بن مسعودؓ پہنچ گئے، انہوں نے تمام فوج کی سپہ سالاری اپنے ہاتھ میں لے لی مثنیٰ بن حارثہؓ کو سواروں کی سرداری سپرد کرکے مقام خفان ہی میں چھوڑا، اور خود مقام نمارق میں جابان پر حملہ آور ہوئے، بڑی خونریز جنگ ہوئی، آخر ابو عبیدؓ نے بذات خود اللہ اکبر کہہ کر لشکر ایرانی پر سخت حملہ کیا اور اُن کی صفوف کو درہم برہم کرکے جمعیت کو منتشر کردیا، مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار کی اقتدا میں جی توڑ کر ایسے شیرانہ وجواں مردانہ حملے کئے کہ ایرانی میدان خالی چھوڑ کر بھاگ نکلے، ایرانی سپہ سالار جابان کو اسلامی لشکر کے ایک بہادر مطر بن فضہ ربیعی نے گرفتار کرلیا جس کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ سپہ سالار ہے، جابان نے اس سے کہا کہ تم مجھ کو گرفتار کرکے کیا کروگے میں تم کو دو نہایت قیمتی غلام دوں گا، تم مجھ کو امان دے دو، مطر نے اس کو امان دے کر چھوڑ دیا جب وہ چھوٹ کر چلا تو ایک اور شخص نے اس کو پہچان کر گرفتار کرلیا اور حضرت ابو عبید بن مسعودؓ کے پاس لایا کہ یہ ایرانی سپہ سالار ہے، اس نے دھوکہ دے کر امان حاصل کی تھی، حضرت ابو عبیدؓ نے مطر بن فضہ کو بُلا کر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے اس کو امان دی ہے، ابو عبیدؓ نے فرمایا کہ جب ایک مسلمان نے اس کو امان دے دی ہے، تو اب اس کے خلاف عمل در آمد کرنا کسی مسلمان کو جائز نہیں ہوسکتا، یہ کہہ کر جابان کو بہ حفاظت میدان جنگ سے رخصت کردیا، جابان وہاں سے روانہ ہوکر اپنی مفرور فوج سے جاملا اور یہ تمام فراری مقامِ کسکر میں نرسی کے پاس پہنچے:

نرسی پیشتر سے تیس ہزار فوج لئے ہوئے کسکر میں مقیم تھا، اب جابان اور اُس کی ہزیمت خوردہ فوج بھی اُس کے پاس آگئی، دربار ایران کو جب جابان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو رستم نے مدائن سے ایک عظیم الشان فوج جالینوس نامی سردار کی سرکردگی میں نرسی کی امداد کے لئے کسکر کی جانب روانہ کی، مگر حضرت ابو عبیدہؓ بن مسعود ثقفی نے جالینوس کے پہنچنے سے پہلے ہی نشیبی کسکر کے مقام سقاطیہ میں نرسی کے ساتھ جنگ شروع کردی، نرسی کے ساتھ شاہی خاندان کے دو اور ماتحت سردار تھے، ان ایرانی شہزادوں نے قلب اور میمنہ ومیسرہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر حملہ کیا، مسلمانوں کی فوج میں قلب لشکر کو حضرت ابو عبید لئے ہوئے تھے حضرت سعد بن عبیدؓ میمنہ کے سردار تھے، اور حضرت سلیط بن قیسؓ میسرہ کے حضرت مثنیٰ مقدمۃ الجیش کے افسر تھے، نہایت زور شور کے ساتھ لڑائی شروع ہوئی، مثنیٰ بن حارثہؓ نے جب دیکھا کہ لڑائی طول کھینچ رہی ہے، تو انہوں نے اپنے دستے کو جدا کرکے اور چار کوس کا چکر کاٹ کر ایرانی فوج کے عقب میں پہنچ کر حملہ کیا، نرسی نے اس غیر متوقع حملہ کو روکنے کے لئے اپنی فوج کے ایک حصہ کو اُس طرف متوجہ کیا، حضرت سعدؓ بن عبید نے ایک زبردست حملہ کیا اور خاص نرسی کے سرپر جاپہنچے، ابو عبیدؓ بھی صفوں کو چیرتے اور درہم برہم کرتے ہوئے ایرانی لشکر کے سمندر میں شناوری کرنے لگے، یہ حالت دیکھ کر مسلمانوں نے نعرہ تکبیر کے ساتھ ایک زبردست حملہ کیا کہ ایرانی میدان کو خالی کرنے لگے، نرسی سعدؓ بن عبید کے مقابلہ میں نہ جم سکا اور جان بچا کر پیچھے ہٹا نرسی کے بھاگتے ہی تمام لشکر بھاگ پڑا، حضرت مثنیٰ نے مفرورین کا تعاقب کیا اور باقی لشکر نے قیدیوں کو سنبھال کر ایرانیوں کے خیموں اور بازاروں پر قبضہ کیا، اس کے بعد ابو عبیدؓ نے مثنیٰ ،عاصمؓ، اور سلیطؓ کو فوجی افسر دےکر ارد گرد کے اُن مقامات کی طرف روانہ کیا جہاں ایرانی لشکر کے موجود ہونے کی خبر پہنچی تھی، ان سرداروں نے ہر جگہ فتح حاصل کرکے تمام علاقہ سواد کو تسخیر کرلیا۔

جالینوس کسکر تک نہ پہنچنے پایا تھا کہ نرسی کو شکست فاش حاصل ہوگئی اس شکست کی خبر سُن کر وہ بافشیا میں رک گیا ،ابو عبیدؓ نے سقاطیہ اور کسکر سے روانہ ہوکر باقشیا میں جالینوس پر حملہ کیا اور جالینوس تابِ مقاومت نہ لاکر وہاں سے بھاگا اورمدائن میں جاکر دم لیا۔

*جنگ کسکر:*
==========

جالینوس جب شکست کھا کر مدائن میں پہنچا تو تمام دربار اور دارالسلطنت میں ہلچل مچ گئی، رستم نے جو سلطنتِ ایران کا مدار المہام تھا، سر دربار اعلان کیا کہ کون سا بہادر ہےجولشکر عرب کی پیش قدمی کو روک سکتا ہے اور اب تک کی ایرانی شکستوں کا انتقام عربوں سے لے سکتا ہے، سب نے بالاتفاق کہا کہ بہمن جادویہ کے سوا اور کوئی ایسا تجربہ کار اور بہادر سپہ سالار نظر نہیں آتا ؛چنانچہ بہمن جادویہ کو رستم نے تین ہزار فوج اورتین سو جنگی ہاتھی نیز ہر قسم کا سامان جنگ اور سامان رسد دے کر روانہ کیا اور اس کی کمک کے لئے جالینوس کو مقرر کرکے بہمن جادویہ سے کہا کہ اگر اب کی مرتبہ بھی جالینوس میدان سے بھاگا تو ضرور اُس کی گردن اڑرادی جائے گی بہمن جادویہ کو درنش کا دیانی بھی دیا گیا، جس کی نسبت ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ جس فوج کے ساتھ یہ جھنڈا ہوتا ہے اس کو کبھی شکست نہیں ہوتی، بہمن جادویہ پورے سازوسامان اور بڑے کرو فر کے ساتھ مدائن سے روانہ ہوا ۔۔۔ راستے میں جس قدر شہر اور قصبے اور قرئیے آتے تھے، بہمن جادویہ ہر جگہ سے لوگوں کو عرب کے مقابلہ پر آمادہ کرکے اپنے ساتھ لیتا جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ دریائے فرات کے کنارے مقام قس ناطف میں آکر مقیم ہوا، ادھر سے ابو عبید بن مسعودؓ اس لشکر عظیم کی آمد کا حال سُن کر مقام کسکر سے روانہ ہوئے اور دریائے فرات کے اس کنارے پر مقام مروحہ میں مقیم ہوئے چونکہ دریائے فرات بیچ میں حائل تھا، لہذا دونوں لشکر چند روز تک خاموش پڑے رہے، بالآخر فریقین کی رضامندی سے دریائے فرات پر پُل تیار کیا گیا، جب پُل بن کر تیار ہوگیا، تو بہمن جادویہ نے ابو عبیدؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم دریا کو عبور کرکے اس طرف آتے ہو یا ہم کو دریا کے اس طرف بلاتے ہو، اگرچہ دوسرے سرداروں کی رائے یہی تھی کہ اہل فارس کو دریا کے اس طرف بلانا چاہئے لیکن ابو عبیدؓ نے یہی پسند کیا کہ ہم دریا کے اس پار جاکر ایرانیوں کا مقابلہ کریں ؛

چنانچہ وہ اسلامی لشکر لے کر دریا کے اس طرف گئے وہاں ایرانی لشکر اور دریائے فرات کے درمیان بہت ہی تھوڑا سا میدان تھا، جو لشکر اسلام کے پہنچنے سے کھچا کھچ بھر گیا، بہر حال صفیں آراستہ کرکے فریقین نے میدان کارزار گرم کیا، بہمن جادویہ نے ہاتھیوں کی صف کو لشکر کے آگے رکھا، اُن پر تیر انداز بیٹھے ہوئے تھے، اوروہ لشکر اسلام پر تیر اندازی کررہے تھے مسلمانوں کے گھوڑوں نے اس سے پیشتر کبھی ہاتھی نہ دیکھے تھے لہذا جب مسلمان حملہ آور ہوتے اُن کے گھوڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر بدکتے اوربے قابو ہوکر ادھر ادھر بھاگتے لڑائی کا یہ عنوان دیکھ کر ابو عبیدؓ نے حکم دیا کہ پیادہ ہوکر حملہ کرو، یہ حملہ بڑی جانبازی ومردانگی کے ساتھ کیا گیا، لیکن ہاتھیوں نے جب اسلامی صفوف پر حملہ کرنا اور کچلنا شروع کیا تو مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہونے لگیں ۔۔۔ ابو عبیدؓ نے بلند آواز سے لوگوں کو جرأت دلائی اور کہا کہ ہاتھیوں کی سونڈوں کو تلوار سے کاٹو، یہ کہہ کر انہوں نے خود ہاتھیوں پر حملہ کیا، اور یکے بعد دیگرے کئی ہاتھیوں کی سونڈیں کاٹ کر ان کے اگلے پاؤں تلوار کی ضرب سے کاٹے اور اس طرح ہاتھیوں کو گرا کر اُن کے سواروں کو قتل کیا۔

اپنے سپہ سالاروں کی یہ بہادری دیکھ کر دوسروں کو بھی جرأت ہوئی اور مسلمانوں نے ایرانی ہاتھیوں کے مقابلہ میں شیرانہ حملے کئے عین اس حالت میں کہ معرکہ کارزار تیزی سے گرم تھا، حضرت ابو عبیدؓ بن مسعود سپہ سالار لشکر اسلام پر جنگی ہاتھی نے حملہ کیا، ابوعبیدؓ نے نہایت چابکدستی سے تلوار کا وار کیا اور ہاتھی کی سونڈ کٹ کر الگ جاپڑی لیکن ہاتھی نے اسی حالت میں آگے بڑھ کر اُن کو گرادیا اور سینے پر پاؤں رکھ دیا جس سے ان کی پسلیاں چور چور ہوگئیں،ابو عبیدؓ کی شہادت کے بعد اُن کے بھائی حکم نے فورا آگے بڑھ کر علم اپنے ہاتھ میں لیا لیکن وہ بھی ہاتھی پر حملہ آور ہوکر ابو عبید کی طرح شہید ہوگئے اُن کے بعد قبیلہ بنو ثقیف کے اور چھ آدمیوں نے یکے بعد دیگرے علم ہاتھ میں لیا اور جام شہادت نوش کی آٹھویں شخص جنہوں نے علم کو سنبھالا مثنی بن حارثہ تھے انہوں نے علم ہاتھ میں لیتے ہی مدافعت اور استقامت میں جرأت کا اظہار کیا لیکن لوگ اپنے سات سرداروں کو یکے بعد دیگرے قتل ہوتے دیکھ کر اور ہاتھیوں کی حملہ آوری کی تاب نہ لاکر فرار پر آمادہ ہوچکے تھے اُن بھاگنے والوں کو روکنے کے لئے عبداللہ بن مرثد ثقفی نے جاکر پُل کے تختے توڑدئے اور رسے کاٹ دئے اور کہا کہ لوگو اب بھاگنے کا راستہ بھی بند ہوگیا لہذا مرو جس طرح تمہارے بھائی اور تمہارے سردار شہید ہوچکے ہیں ۔ پُل کے ٹوٹنے سے یہ خرابی واقع ہوئی کہ لوگ دریا میں کود نے اور پانی میں غرق ہونے لگے، حضرت مثنی بچی کھچی فوج کو سمیٹ کر اور ابو مجہن ثقفی وغیرہ سرداروں کو ہمراہ لے کر میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، ساتھ ہی پُل کے تیار کرنے کا حکم دیا اور تمام لشکر میں اعلان کرایا کہ میں ایرانی لشکر کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہوں حضرت مثنیٰ نے بڑی بہادری اور جانبازی کے ساتھ ایرانیوں کے حملے کو روکا اورجب مسلمان دریا کے دوسری طرف عبور کرگئے تب سب سے آخر میں خود پُل کے راستے اس طرف آئے مسلمانوں کی تعداد نو ہزار تھی، جس میں سے چار ہزار اور بروایت دیگر چھ ہزار شہید ہوگئے، حضرت سلیمان بن قیسؓ عتبہؓ، وعبداللہؓ پسران قبطی بن قیسؓ ،عبادہ بن قیسؓ بن المسکن، ابو امیہ فزاریؓ وغیرہ صحابی بھی انہیں شہدا میں شامل تھے، ایرانیوں کے بھی چھ ہزار آدمی مارے گئے لیکن اب تک کی تمام لڑائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا اس لڑائی میں نسبتاً زیادہ نقصان ہوا اور اسی لڑائی میں ایسا اتفاق بھی ہوا کہ مسلمان ایرانیوں کے مقابلہ سے فرار بھی ہوئے، لیکن ہر ایک شخص جو فرار کی عار گوارا کرنے پر مجبور ہوا مدت العمر ندامت وشرمندگی سے لوگوں کو اپنا منہ نہ دکھانا چاہتا تھا، بہمن جادویہ کی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ فرات کو عبور کرکے مسلمانوں پر جو بہت ہی تھوڑے اور خستہ حالت میں رہ گئے تھے حملہ آور ہوتا وہ وہیں سے مدائن کی جانب چل دیا، یہ لڑائی ماہ شعبان ۱۳ ھ کو واقع ہوئی۔

جاری ہے ۔۔۔۔