خلافت امیر المومینین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
{قسط نمبر 05}
پیشکش : محمدنوید
حضرت عمر کا خود ایرانیوں کے مقابلے پر آمادہ ہونا
===================================

فاروق اعظمؓ کو یہ حالت مدینہ منورہ میں ذیقعدہ کے مہینے میں معلوم ہوئی،آپ نے اُسی وقت ایک حکم تو مثنی بن حارثہ کے نام بھیجا کہ ربیعہ اور مضر کے قبائل کو جو عراق اور مدینہ کے درمیان نصف راستے سے اس طرف آباد ہیں، خود اپنے پاس طلب کرو اور اپنی جمعیت کو اس طرح طاقتور بناؤ اور مخدوش علاقے کو خالی کرکے سرحد عرب کی طرف سمٹ آؤ، ساتھ ہی اپنے تمام عاملوں کے نام احکام روانہ کئے کہ ہر قبیلے سے جنگ جو لوگ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے بھیجے جائیں،ان احکام کی روانگی کے بعد آپ حج بیت اللہ کے لئے مدینہ سے مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہوئے ،حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو ملک کے ہر حصے سے لوگوں کے گروہ آنے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام میدان مدینہ آدمیوں سے پُر نظر آنے لگا، فاروق اعظمؓ نے حضرت طلحہؓ کو ہر اول کا سردار مقرر فرمایا، زبیر بن العوام کو میمنہ پر اور عبدالرحمن بن عوف کو میسرہ پر مقرر فرما کر خود سپہ سالار بن کر اور فوج لے کر روانگی کا عزم فرمایا ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بُلا کر مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے اور چشمہ ضرار پر آکر قیام کیا اس تمام فوج میں لڑائی کے لئے بڑا جوش پیدا ہوگیا تھا کیونکہ خلیفہ وقت خود اس فوج کا سپہ سالار تھا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ کا خود ایران جانا مناسب نہیں معلوم ہوتا، فاروق اعظم ؓ نے تمام سرداران فوج اور عام لشکری لوگوں کو ایک جلسۂ عظیم میں مخاطب کرکے مشورہ طلب کیا، تو کثرت رائے خلیفۂ وقت کے ارادے کے موافق ظاہر ہوئی، یعنی لشکری لوگوں نے خلیفہ وقت کے حیثیت سپہ سالار ملک ایران کی طرف جانے کو مناسب سمجھا لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے فرمایا کہ میں اس رائے کو ناپسند کرتا ہوں خلیفہ وقت کا خود مدینہ سے تشریف لے جانا خطرہ سے خالی نہیں؛ کیونکہ اگر کسی سردار کو میدان جنگ میں ہزیمت حاصل ہو تو خلیفہ وقت بآسانی اُس کا تدارک کرسکتے ہیں، لیکن خدانخواستہ خود خلیفہ وقت کو میدان جنگ میں کوئی چشم زخم پہنچے تو پھر مسلمانوں کے کام کا سنبھلنا دشوار ہوجائے گا یہ سُن کر مدینہ منورہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی بلوائے گئے اور تمام اکابر صحابہؓ سے اس کے متعلق مشورہ کیا گیا، حضرت علیؓ اور تمام جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی رائے کو پسند کیا، فاروق اعظم نے دوبارہ لشکری لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ خود عراق کی جانب جانے کو تیار تھا لیکن صحابہ کرام کے تمام صاحب الرائے حضرات میرے جانے کو ناپسند کرتے ہیں، لہذا میں مجبور ہوں اور کوئی دوسرا شخص تمہارا سپہ سالار بن کر تمہارے ساتھ جائے گا، اب صحابہ کرام کی مجلس میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ کس کو سپہ سالار عراق بنا کر بھیجا جائے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انکار فرمایا، ابو عبیدہؓ وخالدؓ ملک شام میں مصروف پیکار تھے۔

اسی غور وفکر کی حالت میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے فرمایا کہ میں ایک شخص کا نام لیتا ہوں کہ اُس سے بہتر دوسرا شخص نہیں بتایا جاسکتا یہ کہہ کر انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا نام لیا سب نے ان کی تائید کی اور حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی پسند فرمایا ۔
سعد بن ابی وقاصؓ آنحضرت صلی اللہ کے ماموں اور بڑے عالی مرتبہ صحابی تھے اُن دنوں حضرت سعدؓ قبیلہ ہوازن کے صدقات کی وصولی پر مامور تھے، اُسی وقت اُن کو خط لکھ کر بھیجا گیا کہ فورا مدینہ کی طرف آؤ، چنانچہ حضرت سعد چند روز کے بعد فاروق اعظمؓ کی خدمت میں پہنچے لشکر مقام ضرار میں مقیم رہا، فاروق اعظمؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مناسب ہدایات کیں اور ہر ایک چھوٹے بڑے واقعےسے اطلاع دیتے رہنے کی تاکید کرکے اور سپہ سالار فواج بنا کر روانہ کیا، سعد بن ابی وقاصؓ چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے اور اٹھارہ منزلیں طے کرکے مقام ثعلبہ میں پہنچ کر مقیم ہوئے، سعدؓ کی روانگی کے بعد ہی فاروق اعظمؓ نے دو ہزار یمانی اور دوہزار نجدی بہادروں کا لشکر سعدؓ کی کمک کے لئے روانہ فرمایا جو سعد بن ابی وقاص ؓ سے آملے ،مثنیٰ بن حارثہ موضع ذی وقار میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی آمد کے منتظر آٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر لئے ہوئے پڑے تھے کہ حضرت سعدؓ کے ساتھ مل کر فرات کی طرف بڑھیں، حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ واقعہ جسر میں زخمی ہوگئے تھے اُن کے زخموں کی حالت روز بروز خراب ہوتی گئی، بالآخر جب کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مقام ثعلبہ میں جاکر فروکش ہوئے ہیں، تو وہاں خبر پہنچی کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے انتقال فرمایا۔

*حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ملک عراق میں:*
==============================

حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے فوت ہوتے وقت اپنی جگہ حضرت بشیر بن حصامہ کو اپنی فوج کا سردار تجویز فرما دیا تھا، اس وقت آٹھ ہزار فوج مثنیٰ کے پاس موجود تھی، فاروق اعظمؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے لئے راستہ اور راستے کی منزلیں بھی خود مقرر فرمادی تھیں اور روزانہ ہدایات بھیجتے رہتے تھے اور لشکر اسلام کی خبریں منگاتے رہتے تھے، جب حضرت سعد بن وقاصؓ مقام ثعلبہ سے مقام سیراف کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں قبیلۂ بنی اسد کے تین ہزار جوان جو فاروق اعظم کے حکم نامہ کے موافق سر رہگذر منتظر تھے، سعد ؓ کی فوج میں شامل ہوگئے، مقام سیراف میں پہنچےتو یہاں اشعث بن قیس حکم فاروقی کے موافق اپنے قبیلے کے دو ہزار غازیوں کو لے کر حاضر اور لشکر سعدؓ میں شامل ہوئے، اُسی جگہ حضرت مثنیٰ کے بھائی معنی بن حارثہ شیبانی سعدؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ تمام ضروری ہدایتیں جو حضرت مثنیٰ نے فوت ہوتے وقت فوج اور دشمن کی جنگ کے متعلق بیان فرمائی تھیں، بیان کیں اسی جگہ وہ آٹھ ہزار کا لشکر بھی جو حضرت مثنیٰ کے پاس تھا، لشکرِ سعدؓ میں آکر شامل ہوگیا۔

حضرت سعدؓ بن وقاص نے اس جگہ لشکر اسلام کا جائزہ لیا تو بیس اور تیس ہزار کے درمیان تعداد تھی جس میں تین سو صحابی ایسے تھے، جو بیعت رضوان میں موجود تھے اور سترصحابی ایسے تھے جو غزوہ بدر میں میں شریک تھے، حضرت سعد بن وقاص ابھی مقام سیراف ہی میں مقیم تھے فاروق اعظمؓ کا فرمان اُن کے نام پہنچا کہ قادسیہ کی طرف بڑھو اور قادسیہ میں پہنچ کر اپنے مورچے ایسے مقام پر قائم کرو کہ تمہارے آگے فارس کی زمین ہو اور تمہارے پیچھے عرب کے پہاڑ ہوں، اگر اللہ تعالیٰ تم کو فتح نصیب کرے تو جس قدر چاہو بڑھتے چلے جاؤ، لیکن خدانخواستہ معاملہ برعکس ہو تو پہاڑ پر آکر ٹھہرو اور پھر خوب چوکس ہوکر حملہ کرو، حضرت سعدؓ نے اس حکم کے موافق مقام سیراف سے کوچ کیا اور زبیرؓ بن عبداللہ بن قتادہ کو مقدمۃ الجیش کا، عبداللہ بن المعتصم کو میمنہ کا، شرجیل بن السمط کندی کو میسرہ کا، عاصم بن عمرو تمیمی کو ساقہ کا سردار مقرر کیا، لشکر سعدؓ میں سلمانؓ فارسی سامان رسد کے افسر اعلیٰ تھے، عبدالرحمن بن ربیعہ باہلی قاضی وخزانچی تھے، ہلال ہجری مترجم اور زیاد بن ابی سفیان کاتب یاسیکریٹری تھے، حضرت سعدؓ اپنا لشکر لئے ہوئے مقام سیراف سے قادسیہ کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں مقام عذیب آیا، اس پر قبضہ کرتے ہوئے قادسیہ پہنچے، قادسیہ پہنچ کر لشکرِ فارس کے انتظار میں قریباً دو ماہ انتظار کرنا پڑا اس زمانہ میں لشکر اسلام کو جب سامان رسد کی ضرورت ہوتی تو ایرانی علاقوں پر مختلف دستے چھاپے مارتے اور ضروری سامان حاصل کرتے۔

*مدائن سے رستم کی روانگی:*

دارالسلطنت ایران میں پیہم خبریں پہنچنی شروع ہوئیں کہ قادسیہ میں عربی لشکر کا قیام ہے اور فرات وغیرہ کا درمیانی علاقہ عربوں نے لوٹ کر ویران کردیا ہے، قادسیہ کے متصلہ علاقوں کے لوگ دربار میں شاکی بن کر پہنچنے شروع ہوئے کہ جلد کچھ تدارک ہونا چاہئیے، ورنہ ہم سب مجبوراً عربوں کی فرماں برداری اختیار کرلیں گے، دربار ایران میں رستم بہت عقلمند اور تجربہ کار شخص تھا، اس کی رائے آخر تک یہی رہی کہ عربوں کو اُن کے حال پر آزاد چھوڑ دیا جائے اور جہاں تک ممکن ہوجنگ و پیکار کے مواقع کو ٹلا دیا جائے، لیکن یزد جرد شہنشاہ ایران نے ان خبروں کو سُن کر رستم اپنے وزیر جنگ کو طلب کیا اور حکم دیا کہ خود لشکر عظیم لے کر قادسیہ کی طرف روانہ ہو اور عربوں کے روز روز کے جھگڑے کو پورے طور پر ختم کردے، رستم چاہتا تھا کہ یکے بعد دیگرے دوسرے سرداروں کو روانہ کرے اور مسلسل طور پر لڑائی کے سلسلہ کو جاری رکھے، لیکن یزد جرد کے اصرار پر مجبورا رستم کو مدائن سے روانہ ہونا پڑا، رستم نے مدائن سے روانہ ہوکر مقام ساباط میں قیام کیا اور ملک کے ہر حصہ سے افواج آ آ کر اس کے گرد جمع ہونی شروع ہوئیں یہاں تک کہ ڈیڑھ لاکھ ایرانی لشکر ساباط میں رستم کے گرد فراہم ہوگیا جو ہر طرح سامان حرب سے مسلح اور لڑائی کے جوش وشوق میں ڈوبا ہوا تھا۔

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے دربار خلافت میں ایرانیوں کی جنگی تیاریوں اور نقل وحرکت کے حالات بھیجے، فاروق اعظمؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو لکھا کہ تم ایرانیوں کی کثرت افواج اور ساز وسامان کی فراوانی دیکھ مطلق خائف ومضطر نہ ہو بلکہ خدائے تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اور خدائے تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرتے رہو اور قبل ازجنگ چند آدمیوں کی ایک سفارت یزد جرد شاہ ایران کے پاس بھیجو تاکہ وہ دربارِ ایران میں جاکر دعوت اسلام کے فرض سے سبکدوش ہوں اور شاہِ فارس دعوت اسلام کو قبول نہ کرے تو اس انکار کا وبال بھی اُس پر پڑے، اس حکم کے پہنچنے پر حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے لشکر اسلام سے سمجھ دار خوش گفتار، وجیہہ، بہادر اور ذی حوصلہ حضرات کو منتخب کرکے قادسیہ سے مدائن کی جانب روانہ کیا۔

*اسلامی سفارت ایران میں:*
===================

اس سفارت میں جو قادسیہ سے مدائن کی جانب روانہ ہوئے مندرجہ ذیل حضرات شامل تھے: نعمان بن مقرنؓ قیس بن زراراہؓ، اشعثؓ بن قیس، فرات بن حبانؓ، عاصم بن عمرؓ، عمرو بن معدیکربؓ، مغیرہ بن شعبہؓ، معنی بن حارثہؓ، عطار بن حاجبؓ، بشیر بن ابی رہم، حنظلہ بن الربیعؓ، عدی بن سہیلؓ، یہ تمام حضرات اپنے عربی گھوڑوں پر سوار راستے میں رستم کے لشکر کو چھوڑتے ہوئے سیدھے مدائن پہنچے، وہاں یزد جرد نے اُن سفیروں کے آنے کی خبر سُن کر دربار کو خوب آراستہ کیا، جب یہ اسلامی سفیر دربار میں اپنی سادہ وسپاہیانہ وضع کے ساتھ داخل ہوئے، تو تمام دربار ان کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔

اول یزد جرد نے ان سے معمولی سوالات کئے اور اُن کے باصواب جواب پاکر دریافت کیا کہ تم لوگوں کو ہمارے مقابلے کی جرأت کیسے ہوئی اور تم کس طرح اس بات کو بھول گئے کہ تمہاری قوم اس دنیا میں ذلیل و احمق سمجھی جاتی ہے، کیا تم اس بات کو بھی بھول گئے ہو کہ جب کبھی تم لوگوں سے کوئی سرکشی یا بغاوت دیکھی جاتی تھی تو ہم اپنی سرحدوں کے عاملوں اور صوبے داروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ تم کو سیدھا کردیں؛ چنانچہ وہ تم کو ٹھیک بنا دیا کرتے تھے۔

یہ سُن کر حضرت نعمانؓ بن مقرن نے جواب دیا، کہ ہم دنیا سے بت پرستی اور شرک مٹانے کی کوشش کرتے اور تمام دنیا کے سامنے اسلام پیش کرتے ہیں کہ اسلام ہی کے ذریعہ انسان سعادت انسانی حاصل کرسکتا ہے، اگر کوئی شخص اسلام قبول نہیں کرتا تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی حفاظت وسرپرستی میں سپرد کردے اور جزیہ ادا کرے لیکن اگر وہ اسلام اور ادائے جزیہ دونوں باتوں سے انکار کرتا ہے تو اُس کے اور ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔

*قیس بن زرارہ کی تقریر:*

یرذجرد اس گفتگو کو سُن کر برافروختہ ہوا لیکن ضبط کرکے بولا کہ تم لوگ محض وحشی لوگ ہو تمہاری تعداد بھی کم ہے، تم ہمارے ملک کے کسی حصہ کی طمع نہ کرو، ہم تم پر اس قدر احسان کرسکتے ہیں کہ تم کو کھانے کے لئے غلہ اور پہننے کے لئے کپڑا دے دیں اور تمہارے اوپر کوئی ایسا حاکم مقرر کردیں، جو تمہارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، اس بات کو سُن کر حضرت قیس بن زراراہ آگے بڑھے اور کہا کہ:

یہ لوگ جو تمہارے سامنے موجود ہیں، رؤسا وشرفائے عرب ہیں اور شرفائے عرب ایسی لغو باتوں کا جواب دینے سے شرم کرتے ہیں میں تمہاری باتوں کا جواب دیتا ہوں اور یہ سب میری باتوں کی تصدیق کرتے جائیں گے ،

*سنو! تم نے جو عرب کی حالت اور اہل عرب کی کیفیت بیان کی درحقیقت ہم اس سے بھی بدرجہا زیادہ خراب وناقص حالت میں تھے؛ لیکن خدائے تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل واحسان کیا کہ ہماری ہدایت کے لئے نبی بھیجا، جس نے ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت کی اور حق وصداقت کے دشمنوں کو مغلوب وذلیل کیا اور دنیا میں فتوحات ہونے کا ہم کو وعدہ دیا پس تمہارے لئے اب مناسب یہی ہے کہ تم ہم کو جزیہ دینا منظور کرو یا اسلام قبول کرو ورنہ ہمارے تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کردے گی۔*

یزد جرد اس کلام کو سُن کر آپے سے باہر ہوگیا اُس نے کہا اگر سفیروں کا قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم کو ضرور قتل کردیتا، پھر اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ایک مٹی کی ٹوکری بھر کر لاؤ اور جو شخص ان میں سردار ہے ان کے سر پر رکھ دو اور اسی حالت میں اس کو مدائن سے باہر نکال دو، پھر بولا کہ رستم بہت جلد تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کردے گا، اتنے میں مٹی کی ٹوکری آگئی حضرت عاصمؓ نے فوراً اُٹھ کر وہ ٹوکری اپنے کاندھے پر اٹھالی اور کہا کہ میں اس وفد کا سردار ہوں، یہ سب حضرات یزد جرد کے دربار سے نکلے اور اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر مٹی کی وہ ٹوکری لئے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ملک ایران کی فتح مبارک ہو، خدائے تعالیٰ نے ان کے ملک کی مٹی ہم کو عطا کی ہے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی اس تفاول سے بہت ہی خوش ہوئے۔

ان سفراء کی واپسی کے بعد دربار ایران سے رستم کے پاس ساباط میں تازہ احکام پہنچے اور کمک سردار بھی روانہ کئے گئے، ساٹھ ہزار فوج کا بڑا حصہ خاص رستم کے زیر کمان تھا، مقدمۃ الجیش کا سردار جالینوس تھا جس کے ہمراہ چالیس ہزار کا لشکر تھا، بیس ہزار فوج ساقہ میں تھی، میمنہ پر تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ ہرمزان اور میسرہ پر تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ مہران بن بہرام رازی تھا، اس طرح کل ایرانی لشکر کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار تک پہنچ گئی، اس کے علاوہ ایک سو جنگی ہاتھی قلب میں رستم کے ساتھ تھے، پچھیتر ہاتھی میمنہ میں اور پچھیتر میسرہ میں، بیس ہاتھی مقدمۃ الجیش میں اور تیس ساقہ میں تھے، اس ترتیب وسامان کے ساتھ رستم ساباط سے روانہ ہوکر مقام کو ثا میں پہنچا اور وہاں خیمہ زن ہوا، قادسیہ اور مدائن کے درمیان تیس چالیس کوس کا فاصلہ تھا، ایرانی اور اسلامی لشکروں کا فاصلہ اب بہت ہی کم رہ گیا تھا، طرفین سے چھوٹے چھوٹے دستے ایک دوسرے پر چھاپہ مارنے اور سامان رسد لوٹنے کے لئے ہر روز روانہ ہوتے رہتے تھے، رستم لڑائی کو ٹالنا چاہتا تھا، اس لئے اس نے مدائن سے قادسیہ تک پہنچنے میں چھ مہینے صرف کردئے، مقام کوثا سے روانہ ہوکر رستم قادسیہ کے سامنے پہنچا اور مقام عتیق میں خیمہ زن ہوا، دربار ایران سے بار بار رستم کے پاس تقاضوں کے پیغام آتے تھے کہ جلد عربوں کا مقابلہ کرو، رستم یہ چاہتا تھا کہ بلا مقابلہ کام چل جائے تو اچھا ہے؛ چنانچہ اس نے قادسیہ پہنچ کر سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اپنے کسی سفیر کو ہمارے پاس بھیج دو تاکہ ہم اس سے مصالحت کی گفتگو کریں۔

حضرت سعد بن وقاصؓ نے حضرت ربعی بن عامرؓ کو سفیر بناکر رستم کے پاس روانہ کیا رستم نے بڑے تکلف اور شان وتجمل کے ساتھ دربار کیا، سونے کا تخت بچھوایا اور اُس کے چاروں طرف دیباوحریر اور رومی قالینوں کا فرش کرایا، تکیوں اور شامیانوں کی جھالریں سچے موتیوں کی تھیں، غرض حضرت ربعی بن عامرؓ اس شان وشوکت والے دربار میں داخل ہوئے اور گھوڑے کو ایک گاؤ تکئے سے جولبِ فرش پڑا ہوا تھا باندھ کر تیر کی اَنی ٹیکتے ہوئے اور اس فرش کو چاک وسوراخ دار بناتے ہوئے تخت کی طرف بڑھے اور بڑھ کر رستم کے برابر جا بیٹھے، لوگوں نے ربعیؓ کو تخت سے نیچے اتارنا اور ان کے ہتھیاروں کو علیحدہ کرنا چاہا، توحضرت ربعیؓ نے جواب دیا کہ میں تمہارے یہاں تمہارے طلب کرنے پر آیا ہوں، خود اپنی کوئی استدعا لے کر نہیں آیا، ہمارے مذہب میں اس کی سخت ممانعت ہے کہ ایک شخص خدا بن کر بیٹھے اور باقی آدمی بندوں کی طرح ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑے ہوں، رستم نے اپنے آدمیوں کو خود منع کردیا کہ کوئی شخص اس کے حال سے معترض نہ ہو مگر کچھ سوچ کر ربعیؓ خود رستم کے پاس سے اُٹھے اور تخت سے اتر کر خنجر سے زمین پر بچھے ہوئے قالین اورفرش کو چاک کرکے نیچے سے خالی زمین نکال کر اُس پر بیٹھ گئے اور رستم سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہم کو تمہارے اس پر تکلف فرش کی بھی ضرورت نہیں، ہمارے لئے خدائے تعالیٰ کا بچھا یا ہوا فرش یعنی زمین کافی ہے اس کے بعد رستم نے ترجمان کے ذریعہ حضرت ربعیؓ سے سوال کیا کہ اس جنگ وپیکار سے تمہارا مقصد کیا ہے؟

*حضرت ربعیؓ نے جواب دیا کہ ہم خدائے تعالیٰ کے بندوں کو دنیا کی تنگی سے دارِ آخرت کی وسعت میں لانا ،ظلم اور مذاہب باطلہ کی جگہ عدل اور اسلام کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں، جوشخص عدل اور اسلام پر قائم ہوجائے گا، ہم اس سے اور اس کے ملک واموال سے معترض نہ ہوں گے جو شخص ہمارے راستے میں حائل ہوگا، ہم اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائیں گے یا فتح مند ہوں گے، اگر تم جزیہ دینا منظور کرو گے، تو ہم اُس کو قبول کرلیں گے اور تم سے معترض نہ ہوں گے اورجب کبھی تم کو ہماری ضرورت ہوگی، تمہاری مدد کو موجود ہوں گے اور تمہارے جان ومال کی حفاظت کریں گے۔*

یہ باتیں سُن کر رستم نے سوال کیا کہ کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟ حضرت ربعیؓ نے جواب دیا کہ نہیں میں ایک معمولی سپاہی ہوں، لیکن ہم میں ہر ایک شخص خواہ ادنی ہو، اعلیٰ کی طرف سے اجازت دے سکتا ہے، اور ہر متنفس ہر معاملے میں پورا اختیار رکھتا ہے، یہ سُن کر رستم اور اس کے درباری دنگ رہ گئے، پھر رستم نے کہا کہ تمہاری تلوار کا نیام بہت بوسیدہ ہے، ربعیؓ نے فورا تلوار نیام سے کھینچ کر کہا کہ اس پر آب ابھی دکھائی گئی ہے، پھر رستم نے کہا کہ تمہارے نیزے کا پھل بہت چھوٹا ہے، یہ لڑائی میں کیا کام دیتا ہوگا،؟ حضرت ربعیؓ نے فرمایا کہ یہ پھل سیدھا دشمن کے سینے کو چھیدتا ہوا پار ہوجاتا ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آگ کی چھوٹی سی چنگاری تمام شہر کو جلا ڈالنے کے لئے کافی ہوتی ہے، اسی قسم کی نوک جھونک کی باتوں کے بعد رستم نے کہا کہ اچھا ہم تمہاری باتوں پر غور کرلیں، اور اپنے اہل الرائے اشخاص سے مشورہ بھی لے لیں، ربعیؓ وہاں سے اُٹھے اور اپنے گھوڑے کے پاس آکر اُس پر سوار ہوکر حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کی خدمت میں پہنچے ۔

دوسرے روز رستم نے حضرت سعدؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ آج بھی میرے پاس اپنے ایلچی کو بھیج دیجئے، حضرت سعدؓ نے حضرت حذیفہؓ بن محصن کو روانہ کیا،حضرت حذیفہ بھی اسی انداز میں اور اسی آزادانہ روش سے گئے، جیسے کہ حضرت ربعیؓ گزشتہ روز گئے تھے، حضرت حذیفہ رستم کے سامنے پہنچ کر گھوڑے سے نہ اُترے؛ بلکہ گھوڑے پر چڑھے ہوئے اس کے تخت کے قریب پہنچ گئے، رستم نے کہا کہ کیا سبب ہے کہ آج تم بھیجے گئے ہو اور کل والے صاحب نہیں آئے، حضرت حذیفہ نے کہا کہ ہمارا سردار عدل کرتا ہے، ہر خدمت کے لئے ہر ایک شخص کو موقع دیتا ہے کل ان کی باری تھی، آج میری باری آگئی، رستم نے کہا کہ تم ہم کو کتنے دنوں کی مہلت دے سکتے ہو، حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ آج سے تین روز تک کی۔ رستم یہ سُن کر خاموش ہوا اورحضرت حذیفہ ؓ اپنے گھوڑے کی باگ موڑ کر سیدھے اسلامی لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے، آج بھی حضرت حذیفہؓ کی بے باکی اور حاضر جوابی سے تمام دربار حیران وششد رہ گیا۔

اگلے روز رستم نے پھر لشکر اسلام سے ایک سفیر کو طلب کیا، آج حضرت سعدؓ نے مغیرہ بن شعبہؓ کو روانہ کیا، حضرت مغیرہؓ کو رستم نے لالچ بھی دینا چاہا اور ڈرانے کی بھی کوشش کی، لیکن حضرت مغیرہؓ نے نہایت سخت اور معقول جواب دیا، جس سے رستم کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ میں اب تم سے ہرگز صلح نہ کروں گا اور تم سب کو قتل کرڈالوں گا، حضرت مغیرہؓ وہاں سے اُٹھ کر اپنے لشکر گاہ کی جانب چلے آئے۔

================== جاری ہے ۔۔۔