حکومت کی جانب سے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کئے جانے والے اس فیصلے کے تمام پہلووں پر غور انتہائی ضروری ہے۔

اس کمیشن کی شقوں کو اگر تفصیل سے پڑھا جائے تو اس میں ہر اقلیتی جماعت کو علی الاعلان اپنی سرگرمیاں منعقد کرنے کی اجازت ہے اور ریاست ان کو حتی الوسع تعاون بھی فراہم کریگی۔

اب یہ بات قادیانیوں کے حوالے سے بڑی تشویشناک ہے،

جس طرح ہندو ” ہولی ” یا ” دیوالی ” کا تہوار ،
عیسائی ” ایسٹر ” یا ” کرسمس ” کا تہوار علی الاعلان منا سکتے ہیں۔

کیا آئندہ قادیانی اعلانیہ ” سالانہ جلسہ ” بھی منعقد کر سکیں گے؟

مرزا قادیانی کی پیدائش کا دن اور موت کا دن بھی منا سکیں گے؟

اس فیصلے سے قادیانیوں کو آئین کیمطابق اب اپنی شناخت بحیثیت اقلیت تسلیم کرنا ہوگی۔ جبکہ اس آئینی شق کو وہ مانتے ہی نہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اقلیت نہیں مانتے۔

اور اھم بات ہمارے وزیر اعظم صاحب کو کیا ضرورت تھی کرونا کرائسس میں اتنا بڑا اجلاس بلا کر اس کمیشن میں فوری طور پر قادیانیوں کو شامل کرنے کی ؟؟

قادیانیوں کو اس قانون کے ذریعے قانونی حیثیت دلوا کر ان سے مسلسل اتنی ہمدردریاں کیوں ؟

اس حکومت سے متعلق علمائے کرام نے جتنے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا ایک کے بعد ایک بعینہ پورے ہورہے ہیں۔

#قادیانی_ناقابل_قبول۔