قادیانیوں کو اقلیتوں میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوتے ہی کچھ لگڑ بگڑ نے عجیب عجیب سوالات اٹھانا شروع کردئیے جن میں کچھ اہم سوالات کچھ یوں ہیں۔۔

1 : اب قادیانی اسمبلی میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
2 اب قادیانی اپنی عبادت گاہیں تعمیر کریں گے۔
3 اب قادیانی آزادی سے تبلیغ کرسکیں گے۔

پہلے سوال کا جواب محترم تمہیں معلوم ن لیگ دور حکومت میں گورنر پنجاب اور وزیر اطلاعات کون تھے؟؟

انکی مثال دینے کا مقصد آپ کو یی بتانا ھیکہ ماضی میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھے بڑے بڑے عہدوں پر آپکے قادیانی رہ چکے ہیں۔ ہمارا مقصد ہی یہی ھیکہ وہ خود کو صرف ایک بار ہی تو اقلیت مان لے۔۔ وہ تو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں وہ مر جائیں گے لیکن کبھی خود کو اقلیت مان کر اسمبلی میں نہیں پہنچیں گے۔

دوسرے سوال کا جواب انکی عبادت گاہوں پر پابندی کے باوجود آپکے ملک میں انکی عبادت گاہیں موجود ہیں۔۔ جنہیں عام سادہ لوح مسلمان مسجد سمجھ کر نماز پڑھنے جاتے ہونگے کیونکہ وہ بھی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور نماز کا طریقہ کار بھی ہم سے زیادہ مختلف نہیں تو اسی لئے میں اس اقدام کی حمایت کررہا ہوں اگر قادیانی اقلیتوں میں شامل ہوجائیں گے تو انکی عبادت گاہوں سے لیکر شناخت کارڈز تک سب پر غیر مسلم یا قادیانی لکھنا شروع ہوجائے گا۔۔

تیسرے سوال کا جواب مجھے یی بتاؤ آج تک بدھ مت، عیسائیوں، ہندو ، کرسچیئن، زاکریوں، سکھوں اور بے پناہ مذاہب کے ماننے والے جو اس ملک اور ہمارے معاشرے میں موجود ھے کبھی انکو تبلیغ کرتے دیکھا ہیں؟؟

کوئی ایک پاکستانی مسلمان بتا دے مجھے جو انکی تبلیغ کی وجہ سے دین اسلام چھوڑ کر بدھ مت ، عیسائی ، کریسچن ، سکھ ، ہندو یا کسی اور مذہب میں گیا ہو؟؟

یاد رکھیں بھٹو نے صرف کاغذی کارروائیوں میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا آج ان کاغذوں پر وزیر اعظم عمران خان نے پکی مہرلگا کر پوری دنیا کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔
عمران خان زندہ باد پاکستان پائندہ باد 💞🔥