[30/04, 2:15 pm] +92 313 2688011: حکومت میں دو دھڑے اور اسلام مخالف حکومتی پالیساں ۔۔

میرے اس موضوع پر مکمل حقائق جو مجھے باوثوق ذرائع سے حاصل ہوئے ہیں جن کی بات کبھی کوئی رد نہیں کر سکتا۔میں اس موضوع پر صرف اہلیان اسلام اور اہلیان اسلامی پاکستان کے باسیوں سے مخاطب ہوں باقی ،جتنے بھی کسی بھی پارٹی یا جماعت یا فرقہ واریت یا اپنے اپنے سیاسی لیڈر خداؤں کے بچاری میری اس پوسٹ سے دور رہے ۔۔

گزشتہ تیس سال سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت پر قابض رہی اور انہوں نے اپنی جماعتوں میں کرپٹ ،خائن ،ملک دشمن عناصر ،عداروں حتی کہ غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو نا صرف جگہ دی بلکہ ان کو مکمل تعاون اور سپورٹ بھی دی لیکن خوش قسمتی سے اس ملک کی محافظ افواج نے انہیں ان کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا سابقہ حکومت نے جب 1973 کے آئین کی شقیں 295c کو ختم کرنا چاہا تو پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہوا اہل حق اسلامی حلقوں نے بھرپور دفاع کیا اور ان کو اس گھٹیا حرکت کرنے سے روکا۔۔ اسی وقت سیاسی موقع پرست جماعتوں نے بھی اہلیان اسلام کی بھرپور زبانی کلامی حمایت کی کیونکہ اس وقت کی حکومت ان سیاسی جماعتوں کی مخالف جماعت تھی جس میں تحریک انصاف سر فہرست رہی جس نے ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون کو تبدیل کرنے کی نواز حکومت کی کوششوں کو اسلام سے غداری کا نام دیا بلکہ مکمل طور پر اپنی سیاسی قوت کے ساتھ اس پر مزاحمت کی گو کہ اس کابینہ میں شامل اس جماعت کے لوگ بھی تھے جہنوں نے اس سارے عمل میں نواز حکومت کا ساتھ دیا تھا۔۔

لیکن جیسے 2018 میں پی ٹی آئی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی انہوں نے سب سے پہلے آتے ہی اسلام پسندوں اور ان لوگوں کو ہدف نشانہ بنایا جن کی حمایت وہ سابقہ نواز حکومت کے خلاف کر چکے تھے ۔۔
سب سے پہلے تو سی پیک سمیت تمام ملکی مفادات کے منصوبے خاموشی سے بند کر دیے گئے اور چین کے ساتھ تناؤ کی سی صورتحال پیدا کر کے امریکہ کی قربت کے لیے قصیدے شروع ہو گئے ۔۔

( یاد رہے پی ٹی آئی الیکشن کمپین میں بیرون ممالک سے آنے والی تمام فنڈنگ جو بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے مختلف ناموں سے پارٹی فنڈنگ کے نام آئی 100 میں سے 80 فیصد قادیانیوں کی طرف سے کی گئی اور اس کو مختلف لوگوں کے ذریعے پاکستان منتقل کیا گیا تاکہ کسی کو شک بھی نا ہو اور نا ہی کل کو جوابدہ ہونا پڑے اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کئی کیسز زیر التوا ہیں جنہیں وہ اپنی حکومتی پاور کے سبب تاخیر کا شکار کیے ہوئے ہیں ۔۔)

(دوسرا پہلو یہ کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک بھر میں شور شرابا کر کے الیکشن افواج پاکستان کی زیر نگرانی کروانے کا خوب ڈھنڈروا پیٹا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے اور اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے قادیانی یوتھ سوشل میڈیا نے پی ٹی آئی کے ساتھ افواج پاکستان کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے وہ الیکشن کے ذریعے نہیں بلکہ افواج کے ذریعے اقدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔حکومت سنبھالتے ہی جی ایچ کیو اور فوجی سربراہان سے ملاقاتیں کر کر کے اس تاثر کو مزید تقویت فراہم کی گئی جو کہ تاحال جاری ہے ۔۔باجوہ صاحب کو ایکسٹینشن دینے کے پیچھے بھی عمران نیازی کی یہی چال ہے تاکہ عوام کو اور اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ فوج میرے ساتھ ہے جبکہ یہ سب عمران نیازی بڑی پلاننگ کے ساتھ کر رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان نے جنرل راحیل شریف کے دور سے لے کر اب تک سیاسی طور پر خود کو آزاد کر لیا ہے اور سیاست میں مداخلت کی بجائے ریاست کے ماتحت کام کرنے کو ترجیح دی ہے لیکن اس چیز کو ہتھیار بنا کر ایک طرف موجودہ حکومت اور اس کے قادیانی سوشل میڈیا ونگز حکومت اور فوج کو نتھی کر رہی ہے تو دوسری طرف مخالفین فوج مخالف پراپیگنڈہ میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں جو کہ عمران نیازی حکومت کے لیے سونے پر سہاگہ ہے جس کی بنا پر پی ٹی آئی کا قادیانی سوشل میڈیا خوب افواج پاکستان کی حمایت میں یہ ظاہر کرنے میں کامیاب ہو چکا کہ چوج واقعی موجودہ حکومت کے ہر اچھے برے عمل کی ساتھ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔۔یہ تو چند حقائق ہیں جو بتانا ضروری تھے تاکہ لوگوں کو یہ سمجھ آ جائے کہ فوج کبھی بھی سیاست میں نہیں تھی نا ہے نا ہوگی لیکن پی ٹی آئی قادیانی سوشل میڈیا ونگ یہ بات زبردستی عوام پاکستان کے ذہنوں میں بٹھانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔۔)

اب آئیے جہاں سے بات شروع کی تھی وہیں پر چلتے ہیں سب سے پہلے تو ملک پاکستان کی تمام سفارتی زمہ داریوں پر بیوروکریٹس کی تبدیلیاں کی گئی اور تمام اچھے برے لوگ ہٹا کر چھپے ہوئے قادیانی لوگوں کو بڑی خاموشی سے بٹھایا گیا اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ تھا کہ پاکستان کے تمام دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں موجود عملے یکسر تبدیل کر دیے گئے یا ان کے اعلی عہداران کو تبدیل کر کے بیرون ممالک مقیم قادیانیوں کو بٹھا دیا گیا۔۔جو تاحال پاکستانی سفارتخانوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں ۔۔۔
(یاد رہے قادیانیوں کے پی ٹی آئی کی حمایت کرنے کے حوالے سے بیانات سوشل میڈیا سمیت ربوہ ٹائم قادیانیوں کے آفیشیل ویب اور پیج پر بھی موجود ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے کئی وزرا کی خفیہ ملاقاتیں بھی ریکارڈ پر ہیں یہی نہیں ڈیم فنڈ کے نام پر پاکستان کے آئین کی توہین کرنے والا لعنتی شخص ثاقب نثار کا قادیانی کمیونٹی کے نام سے چیک وصول کرتے ہوئے میڈیا پر تصاویر بھی کسی سے چھپی نہیں ہے ۔۔)
اس کے بعد محترم عمران خان نیازی نے ایک بار سابقہ حکومت کی طرح ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایکٹ کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اپنے امریکی دورے اور دیگر میڈیا ٹاک شو اور کئی وزرا کے بیانات بھی موجود ہے ۔ جس پر انہوں نے گستاخی ملعونہ آسیہ مسیح کو چھوڑنے کی بات کی اور اس کو رہا کرنے پر جب احتجاج کیا گیا تو ایک پورا اسلامی طبقہ جن کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر نا صرف جیلوں میں بند کر کے ظلم ستم کیا گیا بلکہ بعض علماء کو تشدد سے شہید بھی کر دیا گیا۔ اور خاموشی سے سپشل طیارے کے ذریعے گستاخہ ملعونہ کو باحفاظت ملک سے بھگا دیا گیا اس کے بعد دوسرا عمل یہ کیا گیا امریکہ اور دیگر ممالک کے ذریعے خود سے گیم کروا کے یہ پریشر دلوایا گیا کہ قادیانیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے منافی سلوک بند کیا جائے اور جیلوں میں قید قادیانی گستاخوں کو رہا کیا جائے اور وہی ہوا جس کے بعد صدارتی رحم کی اپیل کی منظوری کے بعد بڑے بڑے گستاخ قادیانی ملعونوں کو نا صرف رہا کیا گیا بلکہ یورپ تک پہنچایا گیا جس کی ایک مثال وہ گستاخ بک سیلر تھا جس نے سلمان تاثیر جیسے خنزیر کے بیٹے کے ساتھ جا کر ٹرمپ کی عدالت میں اسلامی مملک پاکستان کے خلاف زہر اُگلا اور پھر اس کے بعد امریکی حکم پر تمام قادیانیوں کو نا صرف چھوڑا گیا بلکہ ان کو مکمل آزادی دے دی گئی منی لانڈرنگ سمیت ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث قادیانیوں کے خلاف ایف آئی اے و دیگر قانونی اداروں کو بھی کاروائی سے مکمل طور پر روک دیا گیا جن افسراننے ایسا کرنے سے انکار کیا ان پر اداراتی کییسز بنا کر ان کو معطل کر دیا گیا اور ان کی جگہوں پر قادیانیوں کو ایف آئی اے جیسے محکموں کی حکومت دے دی گئی۔

بات یہی ختم نہیں اس کے بعد چین کا دوری عمران نیازی جو کہ تاریخ کی شاہ سرخیوں میں لکھا رہے گا کہ ایک ایٹمی پاور اسلامی دوست ملک کے وزیرنااعظم کا استقبال ایک میونسپل ٹاؤن کمیٹی یعنی یونین کونسل کی انچارج نے کیا یعنی کوئی سرکاری پروٹوکول تک نہیں دیا گیا جس کے دو دن بعد اقوام متحدہ میں ہونے والے اجلاس میں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے پاکستان کی اسلامی فلاحی تنظیم اور تحریک کشمیر پر کام کرنے والی جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے پر کئی سالوں سے چائنہ ویٹو کر دیتا تھا اس پر چائنہ نے بھی بھارت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے وہ آخری ووٹ جس کی بدولت پاکستان کی اسلامی تنظیموں کو کالعدم قرار دلوائے جانے کا خواب عمران نیازی کی بدولت شرمندہ تعبیر ہوا ۔
اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو دہشت گرد کالعدم تنظیموں کا گڑ بنا کر ایف اے ٹی ایف جیسی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے گلے پر رکھ دی گئی۔

پاکستان کی اسلامی فلاحی جماعتوں کو کالعدم قرار دے کر ان کے سربراہان پر دہشت گردیاں کے مقدمات درج کیے گئے سزائیں تک دے دی گئی یہاں تک تمام تنظیمی دفاتر ،مدارس،سکول سب کچھ سیل کر دیاگیا اس طرح سے ایک اسلام اور نظریات پسند جماعت کو دیوار سے لگانے کا کام تکمیل کو پہنچا ۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بقیہ حصہ اگلی قسط میں ۔۔۔
[30/04, 2:15 pm] +92 313 2688011: حکومتی دھڑے بازیاں اور اسلام مخالف حکومتی پالیساں

حصہ دوئم ۔۔
پہلے حصے میں اسلامی جماعتوں کو زد و کوب کرنے سے لے کر کالعدم قرار دلوانے تک کے عمران نیازی کے پلان پر روشنی ڈالی گئی تھی اب ہم چلتے ہیں اگلے حصے کی طرف ۔۔مولانا عمران خان نیازی یوٹرن سرکار نے الیکشن سے پہلے اور الیکشن کمپین اور پھر حکومت سنبھالتے ہی بڑے بڑے دعوے کیے کہ وہ پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا دیں گے۔ اور لوگوں کو روزگار سے لے کر ایک لاکھ گھر دینے تک کے لولی پاب جو کہ (سکون تو قبر میں ہے صرف ) پر جا کر اختتام پذیر ہوئے مولانا عمران خان نیازی صاحب نے اپنے ابتدائی حکومتی سال میں ہی لوگوں کو بھوکا ننگا لاچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو تھا وہ بھی چھین لیا گیا ڈیم فنڈ کے نام پر بھی کھلواڑ کیا گیا ۔۔سابقہ حکومتوں کی طرح سکمییں نکالی جا رہی ہیں جیسے قرض اتارو ملک سنوارو جیسی سکیم پٹواریوں نے نکالی تھی ۔۔
موجودہ حکومت کا سب سے اول ہدف اور سب سے آخری ہدف ایک ہی ہے کہ کلمہ طیبہ کے نام پر رمضان المبارک کی 27وین رات کو حاصل کیے جانے والے ملک کو سیکولر لبرل اور غیر اسلامی ملک بنایا جائے اور اسلام پسندوں کو یا تو ختم کر دیا جائے یا پھر جیسے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ اقلیتوں کے طور جو ظلم و ستم ہو رہا ویسے ہی کیا جائے ان سے مکمل آزادی چھین لی جائے جو اب تک کرونا وائرس کی آڑ میں حکومتی اولین ترجیح ہے ۔۔

اب آتے ہیں موضوع کی اصل پر کہ حکومت وقت میں دو دھڑے کون سے ہیں جو ملک کو اندرونی طور پر کنٹرول کر رہے جن میں سے ایک دھڑا شیعہ مکتب فکر سے جس نے پی ٹی آئی کی حکومت کو اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لیے ہائی جیک کیا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف قادیانی نواز لابیز اور کچھ چھپے قادیانی جو کہ پی ٹی آئی حکومتی کابینہ کا نا صرف حصہ ہے بلکہ اہم وزراتوں پر بھی براجمان ہے اس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے عہدوں پر موجود بیوروکریٹس بھی ان دو گروہوں کے حامی ہے اور دونوں ہی گروہ اپنے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حکومت سے ہر وہ کام کروا رہے ہیں جس سے اسلام و پاکستان کا نقصان ہونا مقصود ہو ۔۔

قادیانی کھلا کافر ملعون مرتد ہے اس سے تو خیر کی کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی لیکن دوسرا گروہ بظاہر تو ملکی شیعہ طبقہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن جن سے ان کا تعلق ہے ان کا تعلق اگر دیکھا جائے تو سیدھا ایرانی ایجنسیوں یا ایرانی مفادات سے ہے ۔۔

اس طبقے نے شیعہ کمیونٹی کے مفادات کے لیے اپنی من مانیاں کی اور عمران نیازی نے ان کو سپورٹ کیا جبکہ دوسرا گروہ قادیانی یا قادیانی نواز ہے جنہوں نے یا تو پی ٹی آئی میں شمولیت اسی شرط پر کی تھی کہ حکومت آنے کے بعد قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ اور آزادی دی جائے گی اور یا پھر وہ لوگ جو پہلے چھپے ہوئے قادیانی دوست تھے جو دیگر جماعتوں سے لوٹا بن کر حکومتی پارٹی کا حصہ بنے جن میں سب سے بڑی سہرفہرت شخصیت جن کو عمران خان نیازی نے بہت سر چڑھایا ہوا ہے جن کی بے شمار خفیہ ملاقاتیں منظر عام پر بھی آچکی ہے قادیانیوں کے ساتھ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈبو سائنسدان صاحب جن کے کہنے پر نا صرف ایف آئی کے افسران و عملہ جنہوں نے قادیانیوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر کیسز میں کاروائی کی ان کو کھڈے لائن لگوایا گیا بلکہ پولیس سمیت تمام سرکاری محکموں میں قادیانیوں کو مکمل سپورٹ فراہم کی گئی ہے ۔۔
اس وقت اگر عمران نیازی ان دونوں گروپوں میں سے کسی ایک کی بات بھی ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ حزب اختلاف کے ساتھ شامل ہونے تیار بیٹھے ہیں جبکہ وزیر سائنس ڈبو صاحب کی دبئی میں پپلز پارٹی کے لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں بھی لیک ہو چکی ہیں جو اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔۔

موجودہ کرونا صورتحال کے تناظر میں دیکھیں تو پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کی پہلی وجہ دو سالہ کارکردگی سے عوام کی توجہ ہٹا کر کرونا کی طرف کنورٹ کرنا۔
2۔ ملکی معیشیت کا بیٹا غرق،
3 کرونا کہ نام پر امریکہ سمیت غیر ملکی بھیک مانگنے کے قابل بننا جس میں دجالی میڈیا حکومت کی مکمل ساتھی ہے کیونکہ کرونا ایک دجالی وبال ہے اور میڈیا اسی دجالی طاقتوں کا پالتو کتا ہے جو صرف دن رات بھونکے کے لیے بیٹھا ہے یہ وہ کتا ہے جسے جیسے جو اس کا مالک چابی دے وہ ویسے ہی بھونکتا ہے ۔
4۔کرونا صورتحال کا بہانہ بنا کر ملک کو لاک ڈاؤن کر کے حکومتی ناقص پالیسیوں پر پردہ ڈالنا ۔۔
5کروناک اس بہانہ کر کے اسلام اور عبادات پر مکمل پابندی اور بولنے والوں کو پر ایف آئی آر مساجد کی بے حرمتی عبادات کی توہین ،شریعت کی توہین ،اور اسلام پسند نظریاتی حلقوں کو ختم کرنے جیسے مذموم مقاصد بڑی خاموشی سے پورے کیے جا رہے جس کا دجالی میڈیا پر کوئی چرچا نہیں ۔۔
6.مفاد پرست نام نہاد یا جعلی علما کے ذریعے اپنی مرضی کے فتوے اپنی مرضی کا اسلام نافذ کر کے قیامت کی نشانیوں کو بڑی خوش اسلوبی سے پورا کیا جا رہا ہے جس میں قادیانی سوشل میڈیا بھروپور طریقے سے حکومتی دلال مولویوں کی حمایت اسلام کی توہین کرنے میں پیش پیش ہے ۔۔

موجودہ حکومت کہ یہ دو گروپ جو اس وقت ملکی صورتحال سے مکمل مستفید ہو رہے ہیں اور دونوں کا آپسی گٹھ جوڑ بھی کہیں نا کہیں ضرور ظاہر ہو جائے گا اس کے ساتھ ان دونوں گروپوں کا ہدف اسلام پسند نظریاتی اہلسنت و اہلحدیث مسالک کے علماء اور جماعتیں ہیں جو کہ پی ٹی آئی کی حکومت شروع سے ہی نشانے پر ہیں دو دن پہلے ہی علامہ ابتسام الہٰی ظہیر صاحب کو بھی گرفتار کیا گیا جو اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ مساجد اور امام مساجد پر پاپندیاں اور جھوٹے مقدمے جبکہ بازاروں ،و دیگر پبلک مقامات پر کہیں بھی کوئی کرونا سے بچاؤ کے اقدامات تو دور نام و نشان تک نہیں ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ کرونا کو بہانہ بنا کر اسلام شعائر اسلام ،شریعت اور علماء حق کو نشانہ بنایا جا رہا ہے باقی ہر طرف جوں کا توں سلسلہ جاری ہے ۔۔

پی ٹی آئی کی حکومت اور بیوروکریسی میں تیسرا گروپ بیرونی ایجنسیوں ایجنٹس کا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم عمل ہے جبکہ ایک گروپ کرپٹ چوروں غداروں کا تحفظ کرنے سرگرم ہے۔

موجودہ حکومت کی دو سال کی کارکردگی کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو 0/0 کے علاؤہ کرونا ،اسلامی دشمنی اور نئے قبرستانوں کی تعمیر کے علاؤہ کوئی خاص کارنامے نظر نہیں آئیں گے ۔۔

اس کے علاؤہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی خاتون نے قومی اسمبلی کے فلور پر اسرائیل کی تعریفوں کے نا صرف پل باندھے بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے تک کی بات کی اور کچھ دن قبل ایک قادیانی نے اسلام پاکستان کے دارالحکومت میں کئی روز تک دھرنا دیے رکھا جو کہتا تھا کہ پاکستان کے پاسپورٹ سے اسرائیل مخالف تحریر ختم کر کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں اگر عوام اس کے پیچھے نا پڑتی تو یقیناً وہ تیس دن اور اسی طرح بیٹھا رہتا اور دجالی میڈیا اسے پرموٹ کرتا یہ سب اتفاق نہیں ہے یہ سب سوچیں سمجھی پلاننگ کے تحت ہو رہا ہے ۔۔

لاہور میں رنجیت سنگھ کے مجسمے سے لے کر ،یہودی شیطانی خدا کے مجسمے کی نمائش تک یہ سب کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ سب پری پلان ہے اور یہ مسلسل ہو رہا ہے ۔۔

اب اہلیان اسلام کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس پاکستان کو کلمہ طیبہ کے نام پر ایک اسلامی ملک کے طور پر قائم کیا گیا اس میں اسلام و شریعت اور شعائر اسلام کی توہین برداشت کی جائے گی یا پھر کھڑے ہو کر ان باطل کفر کے ہاتھوں کو کاٹا جائے گا ۔۔

پٹواریے ،یوتھیے ، جیالے ،اور فرقہ پرست اس پوسٹ سے سینکڑوں میل کا فاصلہ رکھیں ۔۔ ورنہ مرچیں بہت لگیں گی ۔۔۔